Buzcorner

یہ وقت بھی گزر جائے گا

وقت: ﷲ رب العزت کے ہم پہ جہاں اَن گنت احسانات ہیں، وہاں ایک کرم یہ ہے کہ اُس نے خَلق کو خالق سے جوڑنے کا جو راستہ عطا کیا ہے، وہ قرآنِ مجید ہے۔ یہ بہترین باتوں کی پیروی کی ترغیب دینے والی بے مثل کتاب ہے۔

جب مخلوق اپنے خالق سے بات کرنا چاہے، تو اُسے قرآن کھول لینا چاہیے۔ بہترین انداز سے اﷲ کے پیغامات کو سمجھنا، شعورِ بشر کی ترقی کا سامان، انسانی معلومات اور خاص طور پر انسانیت میں اضافے کا بہترین سبب قرآنِ مجید کی تلاوت اور اُس پہ غور و خوض ہے۔ اﷲ کا کمال مانع ہے کہ وہ ہمارے درمیان اِس حیثیت میں ہو کہ جیسے ہم ایک دوسرے کے درمیان ہیں۔ اور ہمارا نقص مانع ہے کہ ہم اُس مقام تک پہنچیں، جہاں پہنچنے کے لیے مَلکِ مقرّب کے بھی پَر جل جاتے ہَوں۔ لہٰذا ہمیں اﷲ کی جانب سے اِک واسطۂ فیض چاہیے تھا اور اُسی واسطۂ فیض کو قرآنِ کریم کہا جاتا ہے۔

ہمارے پیارے نبی کریم آنحضرت محمد مصطفیؐ کے فرمان کا مفہوم: ’’جو اِس عالم میں صبح کرے کہ مسلمانوں کے اُمور کی فکر اور اس کا اہتمام نہ کرے، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسی طرح جو مسلمانوں کو مدد کے لیے پکار رہا ہو تو جو بھی اُس کی آواز پر لبّیک نہ کہے، وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (بحارالانوار) اﷲ تعالیٰ ہمیں اِس پر عمل کی توفیق کرامت فرمائے اور ہم لبّیک کہنے والوں میں بھی شامل ہَوں۔ (آمین)

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں: ’’یاد رکھو کہ تمہارا ہر عمل نماز کے تابع ہے۔‘‘

فجر کا وقت تھا، امام المتّقین علیؓ مسجدِ کوفہ میں قدم رکھتے ہیں، اور ابنِ ملجم کو اُٹھا کر کہتے ہیں: ’’ اُٹھ نماز کا وقت ہے۔‘‘ میں اِس جملے کو تاریخ میں پڑھنے کے بعد سوچتا ہوں، جو علیؓ اپنے قاتل کو بے نمازی نہ پسند کرتے ہوں، وہ اپنے چاہنے والوں، نام لیواؤں کو بے نمازی کیسے پسند کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ؟

ہم سب کو اس پر غور کرنا ہوگا، نماز کی حد درجہ اہمیت اور افادیت قرآن و حدیث کی رُو سے واضح ہے۔ بات مختصر اور جامع ترین ہونی چاہیے۔ ایاز محمود کا غلام اور خادم تھا، مگر ذہین بہت تھا۔ ذہانت اُس کی اِس درجے پر تھی کہ غلام ہونے کے باوجود اکثر اوقات محمود اُس سے مشورہ کِیا کرتا تھا، جو دربار میں بیٹھے ہوئے صاحبانِ منصب پہ گراں بھی گزرتا تھا، کہ آخر یہ غلام اور خادم ہے اور ہماری رائے کے بعد اِس سے رائے لی گئی اور اِس کی رائے کو مان لیا گیا۔

دل چھوٹا کرتے تھے وہ لوگ۔ ایک دن شکایت کی کہ آپ اِس کی بات کو مانتے ہیں اور ہماری بات کو نظرانداز بھی کردیتے ہیں۔ تو محمود نے کہا کہ آ ج میں سب سے ایک سوال کروں گا، تم خود دیکھنا کہ کس کا جواب سب سے اچھا ہے۔ اور اپنے سارے ذمّے دار جو دربار میں بیٹھے تھے، اُن سے پوچھا کہ مجھے کوئی ایک ایسا جملہ بتاؤ، جو میں غم میں بولوں، تب بھی مجھے سکون ملے اور خوشی میں بولوں، تب بھی مجھے سکون ملے۔

کوئی ایسا فقرہ جو غم میں بھی میرے کام آئے اور خوشی میں بھی میرے کام آئے۔ مختلف باتیں کی گئیں، مگر وہ جامع باتیں نہیں تھیں۔ جب ایاز سے پوچھا: ’’ ایاز! تم بتاؤ کہ کیا کریں، کیا بولیں جو دونوں مرحلوں میں کام آئے ۔۔۔ ؟‘‘ ایاز نے بے ساختہ جواب دیا: ’’حضور! یہ جملہ کافی رہے گا ’’ یہ وقت بھی گزر جائے گا‘‘ یہ خوشی میں بھی کام آئے گا اور غم میں بھی کام آئے گا۔ تو محمود نے اِس مختصر ترین مگر جامع جملے کو خوش خطی سے اپنے تخت کے پیچھے دیوار پر لکھوایا تھا۔ ’’یہ وقت بھی گزر جائے گا۔‘‘

ہم اﷲ کے پیاروں کی محفل میں جب بھی ہوتے ہیں، ہمیں یقیناً انسانیت کی قدروں کو دل سے اپنانے کا درس ملتا ہے۔ قربان جائیے! مکتبِ آلِ رسولؐ پر، اِس گھرانے پر جس کے سربراہ نبی کریم محمد مصطفی ﷺ کے قلبِ مبارک میں پورا قرآن موجود ہے اور مکمل قرآن کے عامل بھی ہیں۔ کسی نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے پوچھا: ’’یاابُوالحسنؓ! شریف آدمی کی کیا تعریف ہے؟‘‘ جناب علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا: ’’جو کم زور پہ رحم کرے، وہ شریف آدمی ہے۔‘‘ نبی مکرّم ﷺ کی روِش یہ ہے کہ آپؐ ایک جگہ سے گزر رہے ہیں۔ ایک یہودی خاتون اپنا سامان اُٹھا کر لے جا رہی ہے۔ اُس سے سامان اُٹھ نہیں رہا۔ نبی ِ مکرّم ﷺ اُس کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور جب اُسے گھر پہنچا دیا، تو وہ کہنے لگی: ’’تم بہت اچھے جوان ہو۔ تو اب ایک نصیحت بھی سُن لو۔ بنی ہاشم کے خاندان میں ایک جوان ظاہر ہوا ہے، جو بہت بُرا ہے۔ خبردار! اُس کے قریب مت چلے جانا۔ وہ تمہیں بہکائے گا۔ وہ تمہیں گم راہ کر دے گا۔‘‘ نبی ِ مکرّمؐ نے فرمایا: ’’ اُس کا نام کیا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگی: ’’ وہ عبداﷲ کا بیٹا ہے، محمدؐ نام ہے۔‘‘نبی مکرّمؐ نے فرمایا: ’’میں ہی وہ محمدؐ ہوں۔‘‘ وہ قدموں میں گرِگئی اور کہنے لگی: ’’میں نے تو کچھ اور سُنا تھا۔ تم اتنے بڑے انسان ہوکر میرا سامان اُٹھا رہے ہو!‘‘ یہ اَخلاق ہے خُلقِ مجسّم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا۔

Share

1 comment