Buzcorner
right way » blog » یہی اصل بادشاہی ہے

یہی اصل بادشاہی ہے

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضر ت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ دریا کے کنارے پر بیٹھے اپنی گدڑی سی رہے تھے کہ اچانک وہاں سے ایک وزیر کا گزر ہوا اس نے جو حضرت ابراہیم کو اس حالت میں دیکھا تو بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ کس قدر عظیم سلطنت کے مالک ہیں اور فقیری کو اختیار کر رکھا ہے بادشاہ ہو کر فقیروں کی طرح گدڑی سی رہے ہیں۔ جبکہ ادھر ان کے نہ ہونے سے سلطنت برباد ہو رہی ہے۔ حضرت ابراہیم نے کشف کے ذریعے سے اس کے دل کی بات معلوم کر لی اور اس کو اپنے قریب بلایا۔ وہ وزیر آپ کے قریب آیا تو آپ نے اس سے فرمایا تو نے اپنی سمجھ کے مطابق بات کی ہے اس کے بعد آپ نے اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور پھر بلند آواز سے پکارا کہ میری سوئی مجھے دو۔

اچانک دریا کے اندر سے ہزاروں مچھلیاں اپنے اپنے منہ میں سوئی دبائے ہوئے پانی سے باہر آگئیں۔ حضرت ابراہیم نے پھر آواز دی اے اللہ مجھے صرف میری سوئی چاہیے اسی وقت ایک دوسری مچھلی برآمد ہوئی جس کے منہ میں حضرت ابراہیم کی سوئی تھی آپ نے سوئی اس مچھلی سے لے لی۔ اس کے بعد آپ نے اس وزیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بادشاہی اچھی ہے یا وہ حقیر سلطنت کی بادشاہی؟ پھر خود ہی فرمایا یقیناً یہ بادشاہی حقیقی بادشاہی ہے اور سب سے اچھی ہے ۔ یہ سن کر اور دیکھ کر وزیر نے معذرت کی اور اپنی راہ پر چل دیا۔

Read This:  ربیع الاول کے پہلے دن صرف گیارہ دفعہ یہ چھوٹا سا ورد کریں اللہ کے فضل سے نسلیں بیٹھ کر کھائیں گی‎

اچانک دریا کے اندر سے ہزاروں مچھلیاں اپنے اپنے منہ میں سوئی دبائے ہوئے پانی سے باہر آگئیں۔ حضرت ابراہیم نے پھر آواز دی اے اللہ مجھے صرف میری سوئی چاہیے اسی وقت ایک دوسری مچھلی برآمد ہوئی جس کے منہ میں حضرت ابراہیم کی سوئی تھی آپ نے سوئی اس مچھلی سے لے لی۔ اس کے بعد آپ نے اس وزیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بادشاہی اچھی ہے یا وہ حقیر سلطنت کی بادشاہی؟ پھر خود ہی فرمایا یقیناً یہ بادشاہی حقیقی بادشاہی ہے اور سب سے اچھی ہے ۔ یہ سن کر اور دیکھ کر وزیر نے معذرت کی اور اپنی راہ پر چل دیا۔

Share

sana jamshed

Add comment