Buzcorner

کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ؟

وبائی تاریخ کیاآپ کو کبھی  بھی چوہے نے کاٹا ہے؟ ا س کا سوچنا ہی بہت تکلیف دہ ہے۔ عجیب سی گندگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ بچپن میں ہم نے بزرگوں کو چوہے سے خاص طور پر بچنے کی ترغیب دیتے سنا اور اس کی وجہ طاعون جیسی بیماری پھیلنے کا خطرہ ہے۔ طاعون یعنی سیاہ موت! جس نے 1350 تک پورے یورپ میں اتنی زیادہ تباہی مچائی کہ پلک جھپکتے ہی  20 کروڑ افراد جان  کی بازی ہار گئے۔ اسی سیاہ موت نے 1603 میں ایک بار پھر یورپ ہی پر حملہ کیا تو شہر کے شہر برباد ہوئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ مرض کسی مخصوص جانور کے کاٹنے سے پھیلتا تھا اور جسم کے جس حصے کو پہلے متاثر کرتا تھا یعنی جہاں کاٹنے کا نشان موجود ہوتا تھا اسے جسم سے الگ کردیا جاتا، کیونکہ تب جان بچانا سب سے اہم جانا جاتا تھا۔

وبائی تاریخ

سیاہ موت کی علامات تیز بخار، قے آنا، جسم میں شدید درد اور نقاہت کی صورت میں سامنے آتی تھیں۔ 18 ویں صدی میں اس طاعون سے متعلق ایک مضمون میں شامل مصنف ڈینیئل ڈیفو کی اپنی آپ بیتی میں اس تباہ کن دور کو خاص طور پر اہلِ لندن کےلیے ہولناک وقت قرار دیا گیا۔ ویسے تو تمام موزی بیماریوں کی طرح طاعون بھی مختلف لوگوں کی صحت پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتا ہے۔ کئی لوگوں پر اس نے فوراً ہی اثر دکھا یا، اور انھیں شدید بخار، قے، ناقابلِ برداشت سردرد، کمر درد ہو ا اور وہ درد کے مارے تڑپنے اور کراہنے لگے۔ کچھ لوگوں کو سوجن ہوگئی اور گردن، ران اور بغلوں میں پھوڑے بن گئے، جس کی وجہ سے انھیں بے پناہ اذیت ہوئی۔ دوسری طرف کچھ ایسے بھی تھے جو خاموشی سے اس کا شکار ہوگئے۔ برکبیک میں لندن کی تاریخ کی پروفیسر ونیسیا ہارڈنگ اہلِ لندن کے  لوگوں کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں اس کا شکار والے اکثر لوگ بچ نہیں پائے، لیکن کچھ تھے جو بچ گئے اور اگر ہم اس کے پھیلنے کی وجہ کے بارے میں نہ جانتے ہوں تو یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے کو بآسانی  سے منتقل  ہو سکتی ہے۔

وبائی تاریخ

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت انھوں نے عوام کی صحت کےلیے کچھ  موثراقدامات کیے جن میں آوارہ جانوروں کو مارنا اور سڑکوں سے بھیک مانگنے والوں کو ختم کرنا شامل تھا۔ یہ سب شہر کو صاف کرنے کےلیے اخلاقی اور عملی اقدامات کے طور پر کیا گیا۔ ان میں سے بہتر وہ لوگ رہے جو لندن سے نکل گئے۔سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کچھ ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ طاعون یعنی کالی  موت کی وجہ و ہی  چوہے کی شکل جیسے جربو ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تیز دانتوں والا یہ جانور 14 ویں صدی میں وسطی ایشیا کے ساحلوں سے یورپی ساحلوں تک پہنچا اور پھر یہاں کالی موت جیسی بیماری پھیلا کر کروڑوں انسانوں کی موت کا باعث بنا۔سائنسدانوں کے مطابق جربو ایشیا سے یورپ کے ساحل پر پہنچے تو ان کے جسموں پر موجود پسو پورے یورپ میں پھیل گئے اور جب بھی موسم گرم ہوتا، جربو کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی تھی، بلکہ صرف ایک ڈگری درجہ حرارت میں اضافہ جربو کی آبادی کو دگنا کردیتا تھا۔ اکیسویں صدی میں کورونا وائرس کے نام سے پھیلنے والی وبا کا آغاز ہی ایشیا سے ہوا ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس وائرس کی وجہ چمگادڑ بنی۔ مگر چمگادڑ کھانے والوں میں صرف اکیلا  چین ہی تو شامل نہیں؟ کیا واقعی اس جرثومے کی افزائش میں موسم کا بھی کوئی  عمل دخل ہے؟ کورونا وائرس کی شروعات اب سے تقریباً دو ماہ پہلے یعنی 2020 کے آغاز میں چین سے ہوا۔ اور تب بظاہر یوں لگ رہا تھا کہ یہ وبا صرف چین تک ہی محدود رہے گی۔  لیکن شہر کے شہر مفلوج ہوگئے۔ شاید یہ  کہا جا رہا  تھا کہ چین کی اکانومی بیٹھ جائے گی۔ چین کی طرف سے کیے گئے یہ اقدامات بلاشبہ قابل ذکر ہیں، مگر اب یہ وائرس یورپ اور ایشیا کو لپیٹ میں لے چکا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایسی وبا کو روکنا ایک مشکل امر ہے۔ جہاں ہم یکساں تعلیم کے مواقعوں کےلیے صدیوں سے لڑ رہے ہیں، جہاں لوگ ہر سال بچہ پیدا کرکے کہتے ہیں کہ اس کے رزق کا ذمے دار اللہ ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو یوں کہ ہم اونٹ کو باندھے بغیر بے فکر سوجاتے ہیں اللہ پر توکل کرکے کہ یہ کہیں نہیں جاتا۔

وبائی تاریخ

بڑے شہروں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سہل ہوگا مگر وہ شہر جن کے ساتھ دیہات بھی منسلک ہیں۔ جہاں پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں، باتھ روم کی سہولت میسر نہیں، وہاں یہ تصور کہ آپ عام لوگوں کو سمجھا سکیں کہ صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں، ماسک پہنیں اور اسپتال جائیں۔ لگتا ہے سیانے سچ کہتے تھے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو یہاں تاریخ تیسری بار خود کو دہرا رہی ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے جیسی اصطلاحات اب خود منہ چڑھاتی نظر آتی ہیں۔ گھر بیٹھیے، ایک دوسرے سے دور رہیے، اپنے ساتھ وقت گزاریئے، یا پھر ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیے۔ ابھی طوفان بہت تیز ہے۔ نقصانات کا اندازہ اس طوفان  کے گزرنے کے بعد ہو گا شاید یا پھر ہمارا دور گزرنے کے بعد تک اس  موزی وبا کے پھیلنے کی وجوہات پر تحقیق ہوتی رہے۔ مگر یہ ضرور اہم ہے کہ ہم ایک ڈیجیٹل  اور تیز ترین دور میں ہیں۔ یہ تیرھویں یا سولہویں صدی نہیں۔ موبائل، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ آپ کو بند کمرے میں بھی دنیا سے آگاہ رکھنے کے ذرائع ہیں۔ یہ سیاہ موت نہیں بلکہ تنہاہی کی موت ہے۔ شاید ہم رشتوں کی قدر کرنا سیکھ سکیں۔ رشتوں کے ہونے کی اہمیت سمجھ میں آسکے۔ ہم ایک دوسرے سے دور رہ کر ایک دوسرے کی قدر پہچان پائیں۔ زندگی اور زمین دونوں ہی کو سکون چاہیے شاید۔

Share

Add comment