Buzcorner
right way » blog » کوہ انا کی برف

کوہ انا کی برف

زندگی کی بعض حقیقتیں اتنی تلخ ہوتی ہیں کہ ہمیں جانتے بوجھتے ہوئے بھی جھوٹ اچھالگنے لگتا ہے۔ ہم سچ دیکھتے ہوئے اور سنتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ سچ اتنا کڑوا ہوتا ہے کہ ہم چاہ کر بھی اسے نگل نہیں پا رہے ہوتے۔

کوہ انا کی برف: ایسے موڑ بھی زندگی میں آتے ہیں جب انسان جذبات کے زیر اثر آنکھوں دیکھے کو جھٹلانے پہ تل جاتا ہے اور جذبات کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ زندگی میں آنے والے یہ کمزور پل انسان کو کچھ دیر کے لیے تو مجبور کر دیتے ہیں لیکن جب سچائی اپنا اثر دکھاتئی ہے تو یہی کمزور پل انسان کو بہت مضبوط بنا جاتے ہیں۔ انہی کمزور لمحوں کا تجربہ سکھاتا ہے کہ انسان کو کہاں سنبھل کر چلنا ہے کہاں اعتبار کرنا ہے کہاں جذبات کو ظاہر کرنا ہے اور کہاں خود پر قابو پانا ہے۔

جب سے شگفتہ باجی کی منگنی ہوئی تھی وہ مجھے اپنے دیور سے خبردار کر رہی تھیں۔ کیا کرتیں آخر ان کی بہن حسین ہی اتنی ہے کہ کوئی بھی اس کے حسن کے آگے زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں سکتا۔ اور ان کو یقین تھا کہ وہ ضرور ان کی بہن پہ فریفتا ہو گا۔ خود دل ہی دل میں وہ بھی یہی چاہ رہی تھیں کہ کاش دونوں بہنیں ایک ہی گھر میں جائیں تا کہ ہمیشہ ساتھ رہ سکیں۔ ہم دونوں بہنوں میں بہت پیار جو ہے۔ میں نے شگفتہ باجی کو سجھایا کہ وہ فضول کے خدشات میں نہ پڑیں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر حسین چہرہ ہر کسی کے دل میں گھر کر جائے یہ ضروری نہیں ہے لیکن ان کو تو جیسے یقین تھا کہ ایس ہی ہو گا لیکن ان کا یہ خدشہ اس وقت ہوا ہو گیا جب ان کے منگیتر سلمان بھائی نے ان کو اپنے بھائی کے ہونے والے رشتے کی خبر دی۔ اس با ت پہ میں ہنس ہنس کے پاگل ہو رہی تھی کہ اس بار میرا اندازہ سہی نکلا۔

کوہ انا کی برف

دیکھا نا میں نے بولا تھا کہ ہو سکتا ہے اس کی لائف میں پہلے سے کوئی ہو۔ میں نے کہا

جی جی ریشم میڈم کا اندازہ ٹھیک نکلا اس بات پر ان کو تمغہ امتیاز ملنا چاہیے۔ شگفتہ نے جل کر جواب دیا۔

ہاں ہاں کیوں نہیں۔ ضرور ملنا چاہیے۔ میں نے مزید چڑانے کے لیے کہا۔

ہوں لیکن ابھی صرف بات چل رہی ہے رشتہ ہوا تو نہیں ناں گفتہ نے بھی اپنی بات دہرائی۔

او جا اب دماغ نہ کھا اس کی پسند کی منگنی ہو رہی ہے اور تم ہو کہ اب بھی وہی رٹ لگا رکھی ہے ۔ میں نے مذاق اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہاکیوں کہ اب مجھے چڑ ہونے لگی تھی۔

اچھا یار جانے دو شگفتہ نے میرے غصے کو بھانپتے ہوئے بات ٹال دی۔

ریشم کہاں ہو تم؟ شگفتہ مجھے ڈھونڈتے ہوئے کمرے میں آئی جہاں میں اپنے کسی کام میں مصروف تھی۔ میں کوئی بھوت نہیں جو غائب ہو جاؤں گی۔ ادھر ہی ہوں بولو کیا بات ہے۔ میں نے بڑے نخرے سے پوچھا۔

پتہ سے اس کی منگنی ختم ہو گئی ہے ۔ شگفتہ یہ کہ کر میرا تاثر دیکھنےکے لیے رکی۔

کیا ؟ وہ کیسے اس کی تو پسند کی منگنی ہو رہی تھی اور سب گھر والے بھی راضی تھے مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ ہاں نا یہی توبات ہے وہ بہت امیر گھر کی لڑکی تھی جب ان لوگوں نے ڈیمانڈز کیں تو ان لوگوں کی ہوا نکل گئی۔ شگفتہ ہنسنے لگی۔

اوہ تو یہ بات ہے میں نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔

ہاں تو اور کیا۔ ہر کوئی ہماری طرح تھوڑی ہوتا ہے کہ صرف منہ پیار کی خاطر رشتے جوڑ لیں۔ لوگ تو ہر چیز دیکھ کر رشتہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر سٹیٹس پر تو بالکل بھی کمپرو مائز نہیں کرتے۔ یہ تو ہم ہیں جو صرف لوگوں کی چاہت اور پیار کی خاطر اتنا کچھ نظر انداز کردیتے ہیں۔ شگفتہ کےلہجے میں افسوس چھلک رہا تھا۔

چل بچو اب تو بچ کے رہنا۔ شگفتہ نے فورا میری توجہ اپنے خدشے کی طرف مبذول کروائی اور آنکھ دبا کر کہا ۔ اف توبہ شگفتہ خدا کو مانو اور چھوڑو میری جان۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی تو وہ ہنستے ہوئے کمرے سے چلی گئی۔

کوہ انا کی برف

میرے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا ہےتھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ایسا میرے ساتھ کبھی پہلے نہیں ہوا تھا میں نے کبھی کسی کو نہیں چاہا تھا نہ کبھی اس طرح میرے حواسوں پہ سوار ہوا تھا۔ نا جانے اس کی چاہت میں ایسا کیا جادو تھا کہ میں خود پہ چاہتے ہوئے بھی قابو نہیں پارہی تھی۔ میرے لئے یہ سب احساسات نئے تھے ایسا نہیں تھا کہ مجھے کبھی کسی نے نہیں چاہا تھا یا میرے لئے کبھی کوئی دیوانہ نا ہوا تھا۔ لیکن میں تو کبھی کسی کے لئے اس طرح پاگل نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ چاہت کا آغاز تو ساحل کی طرف سے ہی ہوا تھا تو پھر مجھ میں ایسی تڑپ کہاں سے آگئی تھی اس کے لئے۔ شگفتہ کی شادی میں اس کا میرے گرد بھنورے کی طرح گھومنا مجھے ہر چیز پر فوقیت دینا مجھ سے میری محبت کی بھیک مانگنا اور مجھے پروپوز کرنا ان سب باتوں نے شاید میرے دل کے نہاں خانوں میں اس کی جگہ بنا دی تھی جس بات سے میں بے خبر تھی۔لیکن سب لوگ جو اس کے بارے میں رائے رکھتے تھے وہ اگر شائد کسی اور کے بارے میں سنتی تو ایسے شخص کی طرف دیکھنا گوارا نہ کرتی لیکن نا جانے کیوں وہ میرے دل میں گھر کرتا چلا گیا۔ دنیا کی ہر بات جیسے مجھ پہ بے اثر ثابت ہو رہی تھی۔ میرے گھر والوں کی رائے اس کے گھر والوں کی رائے اور خود اس کا کردار بھی۔ میرے اور اس کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی اورجھگڑے نے بھی میرے دل میں اس کی چاہت ختم نہ کی تھی۔ بلکہ شاید محبت کی چنگاری کو ہوا دی تھی۔ میری انا نے اگر مجھے روک نہ رکھا ہوتا تو شاید میں بھی اس کی محبت کی اس سے بھیک مانگنے لگتی جیسے کبھی اس نے مانگی تھی۔ میرا حال اس وقت بغیر پانی کے مچھلی جیسا ہو رہا تھا۔ پھر مجھے اپنی سب سے قریبی سہیلی کا خیال آیا جس سے میں اپنی حالت بیان کر سکتی تھی۔ شگفتہ کو یہ سب اس لیے نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ میرے لئے بے حد پریشان ہو جاتی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ میرے لئے فکر مند ہو۔

کوہ انا کی برف

ہیلو مانی میں نے اپنی سہیلی کو میسج کیا۔

ہیلو میری جان کیسی ہو تم ؟ مانی نے جواب دیا۔

بہت برا حال ہے یار۔ بہت پریشان ہوں میں ۔۔۔ میں نے بتایا

کیوں ریشم ؟ سب خیریت تو ہے نا ؟ مانی نے پوچھا

نہیں یار مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے اور وہ ہے کہ میری پرواہ ہی نہیں کرتا۔ میں نے دکھی لہجے میں مانی کو بتایا۔ اوہ میری جان جسے تیری پرواہ نہیں تو بھی اس کی پرواہ نہ کر۔ دفع کر ایسے شخص کو جو تم جیسی لڑکی کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ مانی نے مجھےسمجھانے کی کوشش کی۔ کاش میں ایسا کر پاتی یار۔ پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا ہے میرے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا یار۔ میں نے بے چین ہو کر کہا۔ یار ریشم کیا ہوگیا ہے تجھے؟ تو ایسی تو نہیں تھی۔ مانی نے تاسف بھرے لہجے میں کہا۔ یہی تو بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ میں تو نہیں ہوں۔ مجھے تو کبھی ایسی محبت نہیں ہوئی۔ میں کبھی کسی کے لئے یوں بے چین نہیں ہوئی تھی۔ کبھی کسی کو سوتے جاگتے نہیں سوچا تھا نہ کسی کی اتنی پرواہ کی تھی۔ وہ بھی ایسا شخص جسے میری پرواہ بھی نہ رہی ہو۔ میں نے ٹوٹے ہو ئے لہجے میں کہا۔ اگر تو اسے اتنا چاہتی ہے تو پھر اس سے خود کی کنٹیکٹ کر لے۔ مانی نے میری حالت بھانپتے ہوئے کہا۔ میں کیسے رابطہ کر سکتی ہوں؟ اسے مجھے منانا چاہئے وہ بھی تو چاہتا ہے مجھے میں نے کہا۔ ہاں لیکن اگر وہ نہیں جھک رہا تو تم اسے منا لو؟ مانی نے سمجھانے کی کوشش کی۔ نہیں مانی ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ میری بے عزتی ہو گی۔ میں کبھی بھی نہیں جھکوں گی۔ میں نے اٹل لہجے میں جواب دیا۔ ریشم پیار میں انا نہیں ہوتی ۔ مانی نے کہا۔

کوہ انا کی برف

ہاں انا نہیں ہوتی لیکن عزت نفس تو ہوتی ہے ناں یار۔۔۔ میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ یار پیار میں منا لینے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوجاتا۔ تم اسے مناؤ گی تو دیکھنا وہ تم سے اور بھی پیار کرنے لگے گا۔ بہت مان سے کہا۔ نہیں یار یہ بہت مشکل ہے مجھ سے نہیں ہوگا یہ سب۔ اسے بھی تو پیار ہے یہ بات وہ کیوں نہیں سمجھتا ؟ وہ کیوں نا مجھے ؟ میں نے جنھجھلا کر کہا۔ میری جان دو ہی کام ہوتے ہیں احتیاط سے محبت کرو یا پھر محبت سے احتیاط کرو۔ مانی نے سمجھایا۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کروں تو کیا کروں ؟ میں نے الجھتے ہوئے لہجے میں کہا۔ یار تم ٹھنڈے دل سے سوچو اچھا وقت یاد کرو اور اگر دل چاہے تو منا لینا اسے ۔ پیار میں انا نہیں ہوتی نا ہی منا لینے سے کوئی چھوٹا بڑا ہو جاتا ہے۔ مانی نے سمجھایا۔ پتہ نہیں یار کیا صحیح ہے کیا غلط۔۔ پھر بات ہو گی اللہ حافظ میں نے بات ختم کر دی۔ او کے اللہ حافظ ۔۔

تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے

وہ ایک شب جو تیری یاد میں گزاری ہے

میری بے چینی دن بدن بڑھتی چلی گئی۔ پہلے میں نے سوچا کہ اسے بھلا دوں لیکن جتنا بھولنے کی کوشش کرتی ہوں وہ اتنا ہی یاد آتا ہے۔ اس کی محبت بھری نگاہیں باتیں اور مجھ پہ فدا ہونے والا انداز ۔۔ غرض ہر بات میرے دل کو بے تاب کرنے کے لئے کافی تھی۔ مجھے رنج اس بات کا ہو رہا تھا کہ وہ مجھ سے اتنے دن کیسےدو رہ سکتا ہے؟ وہ تو مجھے اپنی جان سے بڑھ کر چاہتا تھا مجھے ہر پل اپنی زندگی میں چاہتا تھا پھر وہ ایسے کیسے بدل سکتا ہے۔ کیا ایک جھگڑا ساری محبت پہ حاوی تھا ؟ کیا یہ پیار اتنا کمزور تھاکہ وقت کے ایک ہی جھٹکے سے سب ختم ہو گیا ؟ سوالوں کی بوچھاڑ میرے ذہن و دل کو چھلنی کئےدیتی تھی اور میں اپنی انا اور عزت نفس کے ہاتھوں مجور اس سے یہ سب سوال پوچھنے سے بھی قاصر تھی۔ دل اور دماغ کی جنگ نے مجھے دو حصوں میں بانٹ دیا تھا دل اس کی چاہت کا دم بھرتا تھا تو دماغ اپنی انا اور مصلحت کی راگ الاپتا تھا۔ میرے ساتھ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا لیکن اس کے لئے ایسا کیوں تھا میں نہیں جانتی ۔

کوہ انا کی برف

ساری دنیا اس کی عیب جوئی کرتی رہی اس کی بھنورا صفتی اور نادانیوں کے قصے سن کر بھی مجھ پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ اس کی محبت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور میرا جینا محال ہو گیا تھا۔ شاید میرے ساتھ یہ سب اس لئے ہو رہا تھا کہ وہ مجھے میری زندگی کے سب سے تنہا موڑ پہ ملا تھا۔ ہاں شاید میر تنہائیوں نے ہی مجھے اس کی محبت میں پاگل کر دیا تھا۔ میں تنہا تھی کبھی کسی کو اپنی تنہائی کا ساتھی نہ بنا یا تھا شاید اسی لئے وہ میری زندگی میں اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ انسان جذبات کے ہاتھوں کتنا مجبور ہو جاتا ہے یہ مجھے آج پتہ لگا تھا۔ لوگ اپنے محبوب کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس بات کا احساس مجھےاب ہورہا تھا ورنہ پہلے میرے لئے یہ سب باتیں فضول اور بکواس تھیں میں باتوں کونہیں مانتی تھی لیکن اب مان گئی تھی۔ اس یک مہینے میں مجھ پہ وہ راز زندگی افشاں ہوئے تھے جن سے میں اب تک بالکل نا آشنا تھی۔ محبت دنیا کا مضبوط ترین رشتہ ہے لیکن یہی ایک رشتہ انسان کو کتنا کمزور بنا دیتا ہے۔ میں تو وہ لڑکی تھی جوانا اور وقار کی ایک مضبوط چٹان تھی ایک کوہ انا تھی میں ۔ لیکن یہ کوہ انا اب دھیرے دھیرے شکستگی کا شکار ہو رہا تھا۔ میرا دل مجھے اس کے آگے جھکنے کو مجبور کر رہا تھا اور میری انا مجھے اپنی عزت نفس کو بچانے کے لئے روک رہی تھی۔ رات بھر میں نے اسی کشمکش میں گزاری کبھی مانی کی باتیں مجھے صحیح معلوم ہوتی تھیں اور کبھی اپنے دماغ کی دلیلیں۔ دل کہتا تھا منالوں اس کو دماغ کہتا تھا اگر اسے بھی محبت ہوتی تو وہ تیری طرف خود ہی چل کر آجاتا۔ جانے دے ایسے شخص کو جو تیری پرواہ نہیں کرتا تجھے بھاؤ نہیں ڈال رہا۔ بس پھر آنکھوں سے ہونے والی برسات میں کوہ انا بھیگتا رہاا ور توڑ پھوڑ بھی وجود کا حصہ رہی رات بھر۔

کوہ انا کی برف

دو دن بعد شگفتہ کے گھر کھا نے کی دعوت تھی اور وہاں اس کے ساتھ سامنا ہونا یقینی تھا۔ لیکن میرے دل کی بے چینی مسلسل بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ ہر بد گمانی دور ہو جائے اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے لیکن اس شخص نے تو جیسے واقعی سب کچھ بھلا دیا تھا اور میں اس بات پہ حیران اور افسردہ تھی کہ کوئی اتنا چاہ کر بھی کسی کو بھلا سکتا ہے ؟ اتنی جلدی کوئی کیسے بدل سکتا ہے آخر۔ پھر میرے دل نے مجھے کہا کہ ایک بار رابطہ کرنے کی کوشش تو کرو ہو سکتا ہے وہ بھی اسی انتظار میں ہو کہ اس بار میں ہی مناؤں اسے۔ مانی سے بات کی تو اس نے بھی یہی کہا۔ یہی سوش کر میں نے اسے ایک فاروڈ میسج کر دیا کہ اگر وہ میرا منتظر ہوا تو رابطہ کر لے گا لیکن بے سود رہا۔ اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ میرا دل بری طرح ٹوٹ گیا۔ اور اب کی بار تو چوٹ میری انا پہ لگی تھی۔ نہایت بے دلی سے تیار ہو کر میں دعوت میں گئی لیکن اس سے نظر ملتے ہی میں نے منہ پھیرلیا۔ اور اس نے بھی مجھے خاطر میں لانا گوارہ نہ کیا۔ میرے دل کو یقین ہونے لگا تھا کہ اب یہ وہ پہلے سا نہیں رہا اور نہ ہی کبھی ہو سکے گا لیکن اس دل کا کیا کرتی جس کو پتھر پہ گلاب اگانے کا شوق تھا۔ امید اب بھی میرے دامن کو تھامے ہوئے تھی کیوں کہ آج تک میرے حسن اور شخصیت کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکا تھا تو پھر وہ کیسے کر سکتا تھا جسے مجھ سے محبت کا دعویٰ تھا ؟ مرتی کیا نہ کرتی آخر اب انتظار کے سوا کیا چارہ تھا۔ آخر انتظار کے سوا کیا چارہ تھا۔

کوہ انا کی برف

دو دن بعد شیرا ز کا میسج آ گیا۔ فرط جذبات سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے موقعہ غنیمت جانا اور اس سے بات کرنی چاہی تا کہ بد گمانی دور کی جا سکے کیوں کہ جھگڑے کی وجہ میرا غصہ اور جذباتی پن ہی بنا تھا غلطی ذیادہ میری تھی شاید اس وقت۔

Share

1 comment