Buzcorner
right way » blog » کورونا ایس او پیز نافذ، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

کورونا ایس او پیز نافذ، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

سندھ میں کورونا ایس او پیز نافذکر کے کاروباری اوقات جاری کر دیے گئے ہیں۔ 

سندھ میں کورونا کیسز کے پیش نظر آج سے کاروباری مراکز کو صبح 6 سے شام 6 تک کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد کم اسٹاف رکھنے کا  بھی حکم دے دیا  گیاہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں کورونا سے متعلق نئی احتیاطی تدابیرکا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے  جس کے  تحت دفاتر میں آدھے ملازمین روٹین کے تحت گھر سے کام کریں گے جب کہ سینیما، مزارات اور جم  مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تجارتی مراکزجمعہ اوراتوارکومکمل بندرہیں گے اور جمعہ اوراتوارصرف اشیاضروریہ کی دکانیں کھلیں گی نئی پابندیاں 31 جنوری 2021 تک لاگورہیں گی۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق اِن ڈور شادیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی  ہے جب کہ شادی ہالز میں تقریب رات 9 بجے تک  ہر صورت ختم کرنا ہو گی اور صرف 200 مہمانوں کی اجازت ہو گی، اس کے علاوہ بوفے سسٹم پر  مکمل پابندی ہو گی، مہمانوں کو کھانا پیکٹس میں فراہم کیا جائے گا۔

دوسری طرف پنجاب کے دفاتر میں بھی حاضری 50 فیصد کم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں خطرناک اضافے کے باعث حکومت کی جانب سے  پورے ملک میں 26 نومبر سے 10 جنوری تک تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں کورونا سے متعلق نئی احتیاطی تدابیرکا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے  جس کے  تحت دفاتر میں آدھے ملازمین روٹین کے تحت گھر سے کام کریں گے جب کہ سینیما، مزارات اور جم  مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تجارتی مراکزجمعہ اوراتوارکومکمل بندرہیں گے اور جمعہ اوراتوارصرف اشیاضروریہ کی دکانیں کھلیں گی نئی پابندیاں 31 جنوری 2021 تک لاگورہیں گی۔تفصیلات کے مطابق سندھ میں کورونا سے متعلق نئی احتیاطی تدابیرکا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے  جس کے  تحت دفاتر میں آدھے ملازمین روٹین کے تحت گھر سے کام کریں گے جب کہ سینیما، مزارات اور جم  مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تجارتی مراکزجمعہ اوراتوارکومکمل بندرہیں گے اور جمعہ اوراتوارصرف اشیاضروریہ کی دکانیں کھلیں گی نئی پابندیاں 31 جنوری 2021 تک لاگورہیں گی۔

Read This:  ہیکرز کے ہاتھوں صارفین کا اربوں ڈالرز کا نقصان

Share

Add comment