Buzcorner
right way » blog » وہ کون تھی ایک سچی کہانی

وہ کون تھی ایک سچی کہانی

وہ کون تھی : ساجد ٹکٹ لینے کے لیے لائن میں کھڑا ہو گیا۔ جب اس کی باری آئی اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو سن ہو گیا۔ بٹوہ اس کی جیب سے غائب تھا۔ اس نے جلدی میں دونوں جیبیں ٹٹولیں مگر ریزگاری کے سوا ٹکٹ کے پیسے پورے نہ ہوۓ وہ مایوس ہوگیا۔ اس فلم کے لیے اس نے اتنا انتظار کیا فلم کی ہیروئن اس کی پسندیدہ تھی اور وہ آج ایڈوانس بکنگ بند ہونے کی بنا پر اسے اسٹال کے ٹکٹ کے لیے لائن میں کھڑا ہونا پڑا اس پر ستم ظریفی کہ کسی نے اس کی جیب کاٹ لی۔ وہ واپس جانے کے لیے مڑا اچانک کسی نے نام لے کر پکارا آواز نسوانی تھی وہ چونکا اس شہر میں اس کی کسی سے قرابت داری نہ تھی ابھی اس شہر میں آۓ پندرہ روز ہوۓ تھے اور دو روز پہلے وہ ہوٹل سے کرائے کے فلیٹ میں منتقل ہوا تھا پھر یہ نسوانی آواز ۔۔۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ گیٹ کے پاس ایک لڑکی کھڑی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ لڑکی کیا تھی ۔۔ ساجد اس قدر حسین لڑکی کو دیکھ کر ٹھٹک گیا ۔بھلا اس قدر حسین لڑکی اور وہ بھی مجھے بلائے گی۔ ساجد صاحب لڑکی نے پھر آواز دی ۔ وہ اس کے قریب گیا یہ لیجیے اپنا پرس اور آئندہ احتیاط کریں۔

مگر یہ آپ کو کیسے ملا گاڑی سے اترتے ہوئے یہ پرس میرے پیر سے ٹکرایا کھول کر دیکھا تو آپ کے نام کا پتہ چلا پھر تصویر دیکھی تو آپ کو پہچان گئی اس لیے نام سے پکارا ۔ بہت بہت شکریہ میں نے سمجھا کسی نے جیب کاٹ لی ہے۔ ساجد نے ٹکٹ لیا ور فلم دیکھنے لگا اب فلم کی ہیروئن اس کے ذہن سے جا چکی تھی اور اس کی جگہ اس لڑکی نے لے لی تھی۔ اس کا جی چاہا فلم ختم ہونے پر بھی اس لڑکی سے بات کرے مگر ہمیشہ کی طرح شرم محسوس ہوئی اور وہ سوچتا ہی رہا۔ وہ لڑکی اس کے اعصاب پر سوار ہو چکی تھی وہ صحیح طریقہ سے کام بھی نہ کر پاتا اس کی بھوک بھی ختم ہو چکی تھی۔ وہ ہر قیمت پر اس لڑکی سے ملنا چاہتا تھا۔

وہ کون تھی

دوسرے روز دفتر سے واپسی پر وہ گرلز کالچ کے سامنے سے گزرا وہ لڑکی اسے نظر آئی اس کی موٹر سائیکل کو جیسے خود بخود بریک لگ گئی۔ آپ پیدل جارہی ہیں۔ کیا میں پیدل نہیں چل سکتی لڑکی نے مسکرا کر جواب دیا ۔ آئیے میں گھر پہنچا دوں ویسے بھی آپ کے احسان کا بدلہ بھی چکانا ہے۔ اگر آپ بدلہ چکانا چاہتے ہیں تو رہنے دیں اگر آپ ہمدردی کر رہے ہیں تو میں آپ کے ساتھ ضرور چلوں گی۔ آپ کے احسان کا بدلہ تو میں کبھی نہیں اتار سکتا آپ آ جا ئیے ۔ ساجد نے موٹرسائیکل سٹارٹ کی لڑکی بیٹھ گئی۔ منیر کا دل دھڑکنے لگا کسی اجنبی لڑکی کے ساتھ یوں جانا اسے بہت عجیب لگا دوسرے ہی لمحے اس نے گردن فخر سے اونچی کی وہ بہت حسین لڑکی کے ساتھ جا رہا تھا۔ لڑکی راستہ بتاتی گئی وہ شہر کے خوبصورت ترین علاقہ میں پہنچ گئے۔ بس یہاں روک دیں ایک خوبصورت کوٹھی کے سامنے پہنچ کر لڑکی نے کہا۔ کوٹھی دیکھ کر لڑکی کے اتنے امیر ہونے کا یقین نہیں ہو رہا تھا۔ آئیے اب ایک کپ چائے کا ہو جائے۔ ساجد خود بھی یہی چاہتا تھا وہ اندر چل پڑا کوٹھی بہت بڑی تھی ہر چیز قرینے اور سلیقے سے سجائی گئی تھی۔ آپ یہاں اکیلی رہتی ہیں؟ جی ہاں میرے والدین نہیں ہیں انہوں نے جو پیسے چھوڑے اس سے میں نے یہ کوٹھی خریدی اور یہاں تعلیم مکمل کر رہی ہوں میرے ساتھ دو ملازم ہیں۔ ساجد دل ہی دل میں خوش ہوا کہ چلو لڑکی اکیلی ہے اور پھر والدین کی رسمی دیوار بھی نہیں ہے۔ بات پکی ہو گئی۔ اس لڑکی سے ملنا آسان ہو گیا۔ آپ بھی اکیلی ہیں اور میں بھی اس شہر میں اجنبی ہوں ملاقات ہوتی رہے گی۔ ہاں ملتے رہنا اچھی بات ہے لیکن آپ نے ابھی تک میرا نام نہیں پوچھا جبکہ میں آپ کا نام جان چکی ہوں۔

وہ کون تھی

ارے ہاں ساجد کو جیسے خیال آگیا۔ واقع میں آپ کا نام پوچھنا بھول گیا۔ بھول گئے یا ضرورت محسوس نہیں کی ۔ ضرورت تو بہت محسوس کی لیکن ہمت نہیں پڑی ساجد نے اعتراف کیا لڑکی مسکرائی ۔ ساجد کی ہمت بندھی دراصل آپ کا حسن دیکھ کر مجھے کچھ بھی پوچھنے کی ہمت نہیں پڑی۔ میرا نام ماریہ ہے۔ ساجد کے کانوں میں جیسے گھنٹیاں بجنے لگیں ۔ واقعی نام بھی خوبصورت تھا اور وہ خود بھی بہت خوبصورت تھی۔ چائے پی کر ساجد نے اجازت چاہی وہ جانا نہیں چاہتا تھا مگر شام گہری ہوتی جارہی تھی اور کچھ دنیا داری کا احساس بھی اسے مجرم بنا رہا تھا۔ اگلی شام وہ پھر ماریہ کے پاس گیا جو اسے بہت چاہت سے ملی۔ مجھے یقین تھا آپ آئیں گے اسی لیے میں نے آپ کے لیے اپنے ہاتھوں سے کباب تیار کئے ہیں ۔ آپ کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کھانا پکانا بھی جانتی ہیں۔ چائے کے بعد باتیں ہوتی رہیں ۔ ساجد نے اندازہ لگایا کہ ماریہ جس قدر حسین ہے اس سے کہیں زیادہ سمجھدار ہے اس کی باتوں میں مٹھاس تھی اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کے انداز میں ایک شاہانہ وقار تھا۔ اس کے پاس سے اٹھنے کو منیر کا دل نہیں چاہتا تھا وہ دل ہی دل میں ماریہ سے محبت کرنے لگا۔ اس نے سوچا ماریہ بھی اکیلی ہے اور میں بھی بات بن جائے گی تو ماریہ کو لے کر ماں کے پاس چلوں گا۔

ماں پہلے ہی میرے لیے لڑکی کی تلاش میں ہے ماریہ یقینن اسے بہت اچھی لگے گی۔ اسے ماریہ سے ملتے چار روز ہو چکے تھے اور بری طرح اس کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا۔ دن بھر وہ دفتر کا کام بھی صحیح طرح سے نہ کر پاتا اور شام ہوتے ہی ماریہ کی طرف چلا جاتا۔ ایک روز کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ ماریہ سے ملنے نہ جا سکا کہ اچانک دروازے پر دستک ہویٴ دروازہ کھولا تو سامنے ماریہ کھڑی تھی۔ ساجد اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس اچانک ماریہ کے آجانے کی امید نہ تھی۔ اندر آنے کو بھی نہیں کہو گے ؟ ماریہ نے گھر میں داخل ہوتے ہوےٴ کہا۔ آپ کو میرے گھر کا کیسے پتا چلا۔ ڈھونڈنے سے کیا نہیں مل جاتا ساجد صاحب ماریہ نے کمرے کی ہر چیز سلیقے سے رکھی پھر خود ہی چاےٴ بنایٴ اور ساجد کو بھی دی۔ آپ کا کمرہ آسیب زدہ لگتا ہے وہ کیسے ؟ اس قدر ویرانی اور وحشت ہے اس کمرے میں کہ یہاں جن بھوتوں کا بسیرا لگتا ہے۔ لیکن میں بھوت پریت پر یقین نہیں رکھتا ۔ یہ محض انسان کا وہم ہے ۔ ہو سکتا ہے ماریہ نے اٹھتے ہوےٴ کہا۔ میں چھوڑ آوٴں ساجد نے پوچھا بہت بہت شکریہ آپ کام کریں۔ کل شام کو ضرور تشریف لانا میں انتظار کروں گی۔ ماریہ نے کہا۔ ساجد کو یقین ہو گیا کہ ماریہ بھی ا سے محبت کرنے لگی ہے اور اس کے بغیر نہیں رہ سکتی ورنہ ہو آتی ہی کیوں اور پھر کل کے لیے کہنا یہ محبت کی نشانی ہے وہ بہت خوش تھا۔

اگلی شام وہ تمام کام چھوڑ کر ماریہ کے پاس جا پہنچا۔ ماریہ اس کی منتظر تھی کافی پینےکے بعد ماریہ اسے اپنے بیڈ روم میں لے گیٴ۔ بیڈ روم کا ماحول گلابی تھا۔ گلابی پردے قالین اور بستر پر گلابی چادر۔ حتیٰ کہ دیواریں بھی گلابی رنگ کی تھیں۔ ساجد کو بیٹھنے کا کہہ کر ماریہ باتھ روم میں چلی گیٴ۔ چند منٹ بعد وہ ساجد کے سامنے کھڑی تھی اور ساجد ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا۔ باریک سا گاوٴن جس سے ماریہ کا چمکدار جسم صاف نظر آرہا تھا۔ وہ بیڈ پر لیٹ گیٴ ساجد صوفے پر بیٹھا اسے دیکھتا رہا ذرا بتی جلا دیں ماریہ نے انگڑایٴ لے کر کہا۔ ساجد نے چاروں طرف دیکھا اسے بٹن کہیں نظر نہ آیا اس کمرے کا بٹن باتھ روم میں ہے۔ ماریہ نے اس کی پریشانی دیکھ کر کہا۔ اچھا رہنے دو میں خود ہی جلا لیتی ہوں ۔ ماریہ نے ہاتھ بڑھایا ساجد نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا بستر سے باتھ روم کا فاصلہ تقریبادس فٹ تھا اور ماریہ نے بستر پر لیٹے لیٹے اپنا ہاتھ باتھ روم میں لگے بٹن کی طرف بڑھا دیا۔ ساجد خوف سے پسینہ پسینہ ہو گیا اس نے اٹھنا چاہا مگر ڈر کے مارے حرکت بھی نہ کر سکا۔ ساجد صاحب آپ بھوت پریت پر یقین نہیں رکھتے نا؟ ساجد کی زبان گنگ ہو گیٴ وہ بمشکل نہ میں سر ہلا سکا۔ مگر میں رکھتی ہوں ۔ ماریہ کے یہ آخری الفاظ تھے اس کے بعد بیڈ خالی تھا اور منیر پاگلوں کی طرح باہر بھاگ رہا تھا۔

Share

Add comment