Buzcorner
right way » blog » نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

محاورہ ہے کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی

نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی بہت پرانی بات ہے کہ کسی ملک پر اس وقت کے راجہ مہاراجہ حکومت کرتے تھے۔ ایک راجہ نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا وہ ایک ظالم بادشاہ تھا بات بات پر وزیروں کو قتل کروا دیا کرتا تھا۔ اس کا ایک وزیر بہت عقلمند اور رحمدل شخص تھا وہ رعایا سے نیک سلوک کرتا تھا اور ان کی مدد بھی کرتا تھا وہ ایک مرتبہ دریا کی دوسری طرف جانے کیلئے دریا پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک ملاح کشتی لیے اس کے استقبال کے لیے موجود تھا۔

جب وہ دوسری طرف پہنچا تو وزیر نے دیکھا کہ بادشاہ کے ہر کارے کشتری پر قبضہ کرنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ وزیر نے ملاح کی کشتی ان سے بچالی تو وہ وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہو واپس لوٹ گیا۔ کچھ عرصے بعد کسی نے اس مسئلہ پر وزیر کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنا شروع کر دیے۔ بادشاہ تو پہلے ہی موقع کی تلاش میں تھا کہ کس طرح وزیر سے بدلہ لے کچھ عرصہ پہلے دوسرے بادشاہ بنے اسے سفید ہاتھی کاتحفہ دیا تھا۔ وہ بچہ تھا مگر اب جوان ہو گیا تھا۔ بادشاہ بعہ اپنے وزراءاور درباریوں کے اسے دیکھنے گیا۔ تمام درباری اور وزراء اس کی تعریف کر رہے تھے بادشاہ وزیر سے انتقام لینا بھولا نہیں تھا۔ اس نے وزیر سے کہا مجھے اس ہاتھی کا ٹھیک وزن بتائو ورنہ میں تمہں قتل کروا دوں گا۔ دس دن کی مہلت ہے۔ وزیر بہت پریشان ہوا اور وہ مختلف تدبیروں کس سوچنے لگا مگر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

Read This:  بھولا ہوا سبق ایک ایمان افروز قصہ

نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

وہ پریشانی کے عالم میں دریا کی طرف نکل گیا اور وہاں بیٹھ کر سوچ و بچار کرنے لاگا۔ اسی دوران وہی کشتی والا بزرگ اس کے پاس آیا اور جھک کر سلام کیا وزیر کو پریشان دیکھ کر بولا وزیر محترم کیا بات ہے آپ پریشان لگ رہے ہیں۔ وزیر بولا بادشاہ نے ایک الجھن میں ڈال دیا ہے دس دن کی مہلت تھی آج آٹھواں دن ہے اگر جواب نہ دیا تو میری گردن اڑا دی جائے گی۔ وہ الجھن کیا ہے شاید میں کچھ مدد کر سکوں۔ وزیر بولا بات یہ کہ بادشاہ کے پاس ایک سفید ہاتھی ہے وہ اسکا وزن بتانے کا کہہ رہا ہے ورنہ میری گردن اڑا دی جائے گی۔ بزرک بولا یہ تو کوئی بات ہی نہیں چٹکی بجاتے ہی حل ہو گیا ہے آپ کا مسئلہ۔

وزیر نے حیرت سے دیکھا تو بزرگ نہ کہا کہ آپ کل ہاتھی لائیے اسے کشتی پر بٹھا کر دریا میں اتارتے ہیں جتنے پانی کے اندر کشتی جائے گی اس پر نشان لگائیں گے پھر اتنے وزن کے پتھر کو نشان تک کشتی پانی میں لے جا کر ڈال کر وزن کرلیں۔ وزیر کی سمجھ میں ساری بات آگئی اگلے دن وہ ہاتھی ہو دریا کے کنارے لایا اسے کشتی میں سوار کر کے دریا میں لے جا کر کشتی پر نشان لگا دیا پھر اس نشان تک پتھر ڈال کر وزن کیا گیا پھر ان پتھروں کر وزن کیا اور بادشاہ کو بتا دیا۔ اب بادشاہ حیران ہوا کہ یہ کیسے ممکن ہی جب اسے بتایا تو بہت خوش ہوا ایک نیکی کا یہ صلہ دیا ہے جبکہ اس وزیر نے بہت سے معاملات میں بادشاہ کی رہنمائی کی ۔

Read This:  محبت کی انتہا

نیکی کر دریا میں ڈال وزیر نے ملاح کے ساتھ نیکی کی اور ملاح نے نیکی کر کے اس کی جان بچائی۔

Share

Add comment