Buzcorner

اگلے دس سال کیسے ہوں گے۔ سائنس کی روشنی میں کی جانے والی پیش گوئیاں

سائنس کی پیش گوئیاں: گذشتہ دہائی میں ہم نے ستارہ مریخ کی جانب مختلف ملکوں کو تیزی سے اپنے قدم بڑھاتے ہوئے دیکھا، بغیر ڈرائیور کی خودکار گاڑیوں کے سڑکوں پر دوڑنے کی باتیں سنیں اور بلیک ہول کی کیمرے سے کھینچی گئی پہلی حقیقی تصویر بھی ملاحظہ فرمائی۔ لیکن اگلی دہائی میں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے بطن سے مزید کیا کچھ برآمد ہونے والا ہے، یقیناً اس سے متعلق ابھی تک آپ کو کسی نے بھی کچھ نہیں بتایا ہوگا، مگر بے فکر ہوجائیں کیوں کہ اگلے دس سال میں رونما ہونے والے محیرالعقول واقعات کا احاطہ زیرِنظر مضمون میں کردیا گیا ہے۔ اگلی دہائی سے متعلق یہ پیش گوئیاں محض خیالی و افسانوی باتیں کرنے والے لوگوں یاوہ گوئی نہیں ہیں بلکہ یہ پیش گوئیاں دنیا کے بہترین سائنس دانوں اور ماہرینِ معاشیات کی متفقہ آراء کا دل چسپ ومحققانہ مجموعہ ہے۔ اِن پیش گوئیوں میں اُن ایجادات، نظریات اور سائنسی منصوبوں پر اجمالی سی نظر دوڑائی گئی ہے کہ جو ابھی تکمیل کے ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن اگلے دس برسوں میں میں ان اختراعات و نظریات کے پایۂ تکمیل تک پہنچنے کی قوی اُمید ہے۔ شاید اِسی لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اگلی دہائی سے متعلق یہ تمام کی تمام سائنسی پیش گوئیاں فقط مستقبلیات کی حیران کن جھلکیاں ہی نہیں ہیں بلکہ اگلے دس برسوں میں حضرتِ انسان کو ملنے والے منفرد سائنسی تحائف کی تاریخ ساز ’’بریکنگ نیوز ‘‘ بھی ہیں۔

  خودکارگاڑیاں عام ہوجائیں گی

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی خودکار گاڑیاں مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی جاچکی ہیں مگر فی الحال اِن خود کار گاڑیوں کو خرید پانا صرف اُس شخص کے لیے ہی ممکن ہے جو کروڑوں ڈالر اپنے بینک اکاؤنٹ میں رکھتا ہو، جب کہ ابھی تک یہ خود کار گاڑیاں بہت تھوڑی تعداد میں ہی بنائی جاسکی ہیں، لیکن ماہرین کا دعویٰ ہے 2021 میں بغیر ڈرائیور کی یہ خودکار گاڑیاں اتنی زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجائیں گی کہ دنیا میں رہنے والا ہر وہ شخص جو متوسط مالی وسائل بھی رکھتا ہوگا بہ آسانی ایک اچھی سی خودکار گاڑی خرید سکے گا۔ معروف چینی ٹیک کمپنی بیدو(Baidu) نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں برس کے اختتام تک بیجنگ اور شنگھائی میں وسیع پیمانے پر بغیر ڈرائیور کی خودکار گاڑیاں چلانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اگر یہ منصوبہ کام یابی سے ہم کنار ہوجاتا ہے تو پھر یہ ہی بیدو کمپنی ہزاروں کی تعداد میں بغیر ڈرائیور کی خودکار گاڑیاں یورپی ممالک میں فروخت کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کررہی ہے۔ اگر چینی حکومت نے اِس ضمن میں کیے گئے وعدے کے مطابق بیدو کو متوقع سرکاری سہولیات اور مراعات فراہم کردیں تو بیدو انتظامیہ کے مطابق وہ 2021 میں دنیا کے بے شمار شہروں کو ’’ڈرائیور لیس سٹی‘‘ بنادیں گے۔

شمسی توانائی سے چلنے والے مسافر بردار طیارے پرواز کریں گے

سال 2022 میں ایوی ایشن انڈسٹری نے شمسی توانائی سے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرنے والا دنیا کا پہلا مکمل ترین برقی مسافر طیارہ متعارف کروانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ کوئی سائنسی مفروضہ نہیں ہے بلکہ ایوی ایشن انڈسٹری میں پہلے ہی سے دنیا کے مختلف مقامات پر شمسی توانائی سے چلنے والے چھوٹے برقی طیارے بڑی کام یابی کے ساتھ آزمائشی طور پر فضا میں اُڑائے جارہے ہیں۔ شاید یہ وجہ ہے کہ ایوی ایشن انڈسٹری میں اِس پروجیکٹ پر کام کرنے والے ماہرین انتہائی پُراُمید دکھائی دیتے ہیں کہ وہ 2022 تک بغیر فیول کے مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی پہلی کمرشل فلائیٹ کا باقاعدہ آغاز کردیں گے، جب کہ 2022 تک فضا میں اُڑنے والے تقریباً ہر مسافر بردار طیارے کو کم ازکم اِس قابل ضرور بنا دیا جائے گا کہ وہ فیول کے ساتھ ساتھ اپنے سفر کا کچھ حصہ شمسی توانائی کی مدد سے بھی مکمل کر سکے۔ نیز ناروے کی حکومت نے تو باقاعدہ سرکاری طور پر اعلان بھی کردیا ہے کہ وہ 2023 تک اپنے ملک کی ایئر لائینز سے فیول سے چلنے والے طیاروں کا مکمل خاتمہ کرکے اُنہیں شمسی توانائی سے چلنے والے برقی طیاروں سے بدل دے گا، جب کہ 2025 تک وہ اپنے تمام ایئرپورٹس کو بھی شمسی توانائی پر لے آئے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ کمرشل ایئرلائنز کے طیارے اگر شمسی توانائی کا استعمال شروع کردیں گے تو فضائی سفر کے مہنگے ترین کرائے ناقابلِ یقین حد تک ارزاں اور سستے ہوجائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر اِس وقت 100 میل کے ہوائی سفر پر 400 ڈالر کا فیول خرچ ہوتا ہے تو شمسی توانائی سے چلنے والے مسافر بردار طیارے یہ ہی فضائی سفر فقط 8 ڈالر کے مختصر سے خرچ میں مکمل کرلیں گے۔ اَب آپ کیلکولیٹر نکال کر خود ہی حساب کتاب لگا لیں کہ شمسی توانائی سے چلنے والی کمرشل فلائیٹس چلنے کے بعد فضائی سفر کے مہنگے کرایوں میں کس حد تک کمی آجائے گی۔

  عالمی کساد بازاری کا سال ہوگا

خوش قسمتی سے اِس وقت دنیا کے تمام بڑے ترقی یافتہ ممالک تاریخ کی بہترین معاشی شرح نمو دکھارہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ ’’اچھا وقت ہمیشہ نہیں رہتا۔‘‘ پس گلوبل بزنس پالیسی کونسل کے ماہرین کے مطابق معاشی ترقی کا یہ سفر 2023 میں اختتام پذیر ہوجائے گا اور عالمی معیشت جدید معاشی تاریخ کی بدترین عالمی کساد بازاری کا شکار ہوجائے گی۔ یہ پیش گوئی فرمانے والے معاشی ماہرین دلیل کے طور پر بیشتر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کی طرف سے اختیار کی گئی تازہ ترین سیاسی و معاشی پالیسیوں کو پیش کررہے ہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ پالیسیاں رفتہ رفتہ دنیا بھر میں تجارتی مسابقت، امن و امان کی ابتری، غیرمتوقع جنگی حالات جیسی معیشت کش صورت حال پیدا کریں گی، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی ترقی کے سفر کو بریکیں لگ جائیں گی اور معاشی شرح نمو آہستہ آہستہ سست ہونا شروع ہوجائے گی۔ یہاں تک کہ 2023 میں پوری دنیا ہی سخت معاشی ابتری اور کسادبازاری کا شکار ہوجائے گی، جب کہ جو ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک اِس معاشی بحران کا سب سے زیادہ نشانہ بن سکتے ہیں اُن میں امریکا، برطانیہ، جاپان، بھارت، فرانس اور چین سرفہرست ہوں گے۔

پہلا انسان مریخ پر پہنچ جائے گا

جی ہاں! سال 2024 میں اولین انسانی مشن کو مریخ پر بھیجنے کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور Elon Musk’s Space X  پروگرام کے تحت پہلا راکٹ مریخ کی جانب بھیجنے کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ حالاںکہ ابھی بھی یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا زمین اور مریخ کے درمیان دُوری کو دیکھتے ہوئے واقعی 2024 میں بھیجا جانے والا راکٹ، اسی برس مریخ پر اپنا مشن مکمل کرلے گا؟ اور کیا اِس پروگرام کی راہ میں مریخ پر بسنے والی مخلوق جسے ہالی وڈ فلموں میں اکثر ایلین کے روپ میں دکھایا جاتاہے، رکاوٹ تو نہیں بنے گی؟ بہرکیف اِس بارے میں Space X  کو منتظمین و ماہرین کو اپنے اِس دعوے کی بابت ذرا برابر بھی ابہام نہیں ہے کہ وہ انسان کے قدم 2024 میں مریخ پر پہنچانے میں کام یاب ہوجائیں گے اور اگر کوئی ایلین جیسی مخلوق مریخ پر موجود بھی ہوئی تو وہ اُن سے بھی بخوبی نمٹ لیں گے۔ یاد رہے کہ مریخ کی جانب بھیجے جانے والا یہ پہلا خلائی جہاز ہوگا، جو مکمل طور پر ایک نجی کمپنی کی ملکیت ہے، جب کہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے بھی 2024 میں سیاحت کے لیے چاند پر لوگوں کو بھیجنے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن کا اعلان کیا ہے، جس میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ایڈوانس بکنگ زورشور سے جاری ہے۔ اس طرح کی خبروں کا سادہ سا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ 2024 میں مختلف ممالک کی حکومتوں ہی نہیں بلکہ نجی ٹیک کمپنیوں کے مابین بھی خلا پر قبضے کی جنگ اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ اَب اِس خلائی جنگ میں فاتح کون ہوگا؟ اِس کے لیے 2024 تک انتظار کرنا ضروری ہے۔

انسانی دماغ کو مکمل طور پر درست کردیا جائے گا

آپ نے سرِراہ یونہی کبھی چلتے چلتے اکثر وبیشتر یہ جملہ تو ضرور سُنا ہی ہوگا کہ ’’ اگر مجھے زیادہ غصہ دلایا تو میں تمہارا دماغ درست کردوں گا۔‘‘ خبر یہ ہے کہ اَب یہ محاورہ بھی مجازی معنی و مفہوم کے پردے کو چاک کرکے حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے اور 2024 میں ہم مغرور انسانوں کے دماغ کو درست کرنے والی کمپنیاں چند سکوں کے عوض باقاعدہ طور پر اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کردیں گی۔ انسانی دماغ کے نقائص دُور کرنے کے اِس منصوبہ کا آغاز 2013 میں امریکی حکومت نے BRAIN Initiative  کے نام سے کیا تھا ۔ اِس پروگرام کو شروع کرنے کا بنیادی مقصد انسانی دماغ کے تمام وظائف اور اعمال کا تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔ منصوبے کے منتظمین کے مطابق اِس پروگرام کو 2025 تک بہرصورت مکمل کرلیا جائے گا اور اسی سال سائنس دانوں کی جانب سے دماغ کے تمام نقائص کو دریافت کرکے انہیں درست کرنے کے لیے ایسی جدید طبی مشین بھی ایجاد کرلی جائیں گی، جن کی مدد سے کسی بھی انسانی دماغ میں سے ڈپریشن، مالیخولیا، چڑچڑا پن یا دیگر دماغی نقائص کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر نا فقط چند لمحوں کا کام بن کر رہ جائے گا، جب کہ اِن جدید طبی مشینوں سے نشے کی لت سمیت دیگر بُری عادتوں کو بھی کسی بھی انسانی دماغ سے مٹا نا ممکن ہوگا۔ خوشی کی بات تو یہ ہے کہ سب کچھ بغیر کسی دوا کے استعمال کیے جانے کی نوید سُنائی جارہی ہے۔

  دل کے جملہ معاملات بھی نمٹا دیے جائیں گے

کارڈیو ویسکولر دل کی ایسی بیماری ہے ، جس میں ہمارا دل آہستہ آہستہ ضعیفی کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اِس بیماری کی وجہ سے امریکا سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں انسانوں کی اچانک و ناگہانی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے، جب کہ دل کے جرمِ ضعیفی کے باعث پیدا ہونے والے اور بھی بے شمار ایسی مہلک اور جان لیوا بیماریاں ہیں، جن کا بروقت علاج ابھی تک میڈیکل سائنس دریافت نہیں کرسکی ہے، مگر شاید 2026 ایک ایسا سال ہو گا۔ جب انسان دل کی بیماریوں سے مکمل طور پر نجات حاصل کر لے گا۔ ہارورڈ اسٹیم سیل انسٹیٹیوٹ کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے انسانی دل کو ضعیفی سے بچانے کے کلینکل تجربات کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیے ہیں، جس کے مطابق جب انہوں نے اپنا دریافت شدہ پروٹین چوہوں کے جسم میں داخل کیا تو اُن کے دل کی دیواروں کی موٹائی کم ہونا شروع ہوگئی اور دل میں شکست و ریخت کا عمل مکمل طور پر رُک گیا۔ شنید یہ ہے کہ اَب یہ ادارہ بہت جلد انسانی دل پر بھی اِس طرح کے عملی تجربات شروع کرنے والا ہے اور ادارے کے منتظمین کو اُمید ہے کہ وہ 2026 سے قبل اُن کے یہ تجربات مکمل ہوجائیں گے۔ اگر یہ تجربات اُن کی توقع کے عین مطابق انسانی دل پر بھی کام یاب ہوجاتے ہیں تو پھر 2026 میں انسانی دل کو تمام امراض سے کلیتاً پاک کردیا جائے گا، جن کی وجہ سے انسان کم از کم دل کی کسی مہلک بیماری کے باعث ناگہانی موت کا شکار ہونے سے بچ سکے گا، جب کہ ممتاز ماہرمستقبلیات رے کرزویل کا بھی اِس خبر سے متعلق کہنا ہے کہ ’’ جس طرح میڈیکل سائنس سال بہ سال ترقی کررہی ہے، اُس سے تو یہی لگتا ہے کہ انسان 2029 تک تمام جسمانی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے میں کام یاب ہوجائے گا۔‘‘ بہرحال طبی میدان میں کی جانے والی پیش گوئیاں کا سچ ثابت بنی نوع انسان کے لیے ازحد مفید اور خوش آئند خبر ہوگی۔

ترقی پذیر ممالک امریکی معیشت پر غلبہ پاجائیں گے

اِس وقت دنیا معاشی میدان میں زبردست انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور دنیا کی جدید معاشی تاریخ میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جب ترقی پذیر ممالک، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں خطرناک حد تک مثبت معاشی شرح نمو کے اشاریے پیش کررہے ہیں۔ اِن معاشی اشاریوں کے باعث سیاسی طاقت کا عالمی توازن کسی گھڑیال کے پنڈولیم کی طرح اِدھر سے اُدھر ڈانواں ڈول ہورہا ہے۔ معروف معاشی تجزیاتی ادارے Goldman Sachs کے مطابق اگر سب کچھ آئندہ بھی ایسے ہی جاری رہا تو 2027 میں ترقی پذیر ممالک معاشی میدان میں امریکا سے بھی بہت آگے نکل جائیں گے، جب کہ چین کی معیشت 2026 کے اختتام تک امریکی معیشت کو پچھاڑ کر 2027 میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بننے کا اعزاز اپنے نام کرلے گی دل چسپ بات یہ ہے کہ امریکا سے معاشی میدان میں آگے نکلنے کی دوڑ میں فقط چین ہی اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اِس کے ساتھ کئی دیگر ترقی پذیر ممالک بھی ہوں گے، جیسے برکس ممالک برازیل، روس وغیرہ۔ پیش گوئی کرنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 2027 میں اِن درج بالا ممالک کا جی ڈی پی، حالیہ وقت کے سب سے بڑے معاشی طاقت کے گروپ جی 7 ممالک مثلاً کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکا کے مشترکہ جی ڈی پی سے بھی کئی گنا زیادہ ہوجائے گا۔ اگر یہ پیش گوئی من و عن درست ثابت ہوجاتی ہے تو پھر حالیہ برسوں میں طے کیے گئے عالمی طاقت بننے کے تمام پیمانے و نظریات مستقبل میں مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ جائیں گے۔

 معدوم حیاتیات کی واپسی کا سال 2028 ہوگا

شاید اَب بہت زیادہ عرصے تک جراسک پارک سائنس فکشن صرف تصور نہیں رہنے والا، کیوںکہ سائنس دانوں کو یقین ہوچلا ہے کہ 2028 میں دنیا سے معدوم ہوجانے والی اکثر حیاتیات کی ازسرِنو پیدائش کو یقینی بنا لیا جائے گا۔ بظاہر یہ بات کسی دیوانے کی بڑ جیسی محسوس ہوتی ہے لیکن کلوننگ اور جینیٹک انجنیئرنگ کے شعبے میں ہونے والے انقلابی ایجادات اور دریافتوں نے عام لوگوں کو بھی اِس پہلو پر سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ شاید ڈائنوسار جیسے معدوم ہونے والے جانوروں کی فارمنگ کے لیے جراسک پارک جیسے فلمی قسم کے تصورات کو عملی جامہ پہنانا عین ممکن ہوجائے جب کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سائنس داں اِس حوالے سے اپنے ابتدائی کام کا آغاز بھی کرچکے ہیں اور وہ زمین پر موجود حیات سے قریبی تعلق رکھنے والے مختلف حیاتیات کے عنقریب معدوم ہونے والے ڈی این اے کو حاصل کرکے اُن کے کلون بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فی الحال ڈائنوسار تو نہیں لیکن ڈو ڈو اور تسمانین ٹائیگر ز نامی عنقریب دنیا سے معدوم والی حیات کے کلون کے ذریعے ازسرِ نو پیدائش کے تجربات خفیہ جگہ پر قائم ایک سائنیفک زو میں جاری ہیں۔ یاد رہے کہ سائنس دانوں کا ایک عقل مند گروہ اِس طرح کے سائنسی تجربات کرنے کی شدیدترین مخالفت بھی کر رہا ہے۔ ان سائنس دانوں کا موقف ہے کہ ’’جراسک پارک جیسے سائنس فکشن تصورات کا حقیقی روپ میں ڈھل جانا ہم انسانوں کی بقا کے لیے کسی بھی صورت میں نیک شگون قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘‘

بڑھتی ہوئی عالمی آبادی بڑے بحران کا سبب بن جائے گی

ایک محتاط اندازے کے مطابق 2029 کے اختتام تک دنیا میں انسانوں کی کُل تعداد 8.5 بلین تک پہنچ جائے گی، جس کے بعد بنی نوع انسان کو پرانے بحرانوں کا بالکل نئے انداز میں سامنا کرنا ہوگا۔ چند سائنس دانوں کو تو پختہ یقین ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کی وجہ سے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا اختتام تقاضا کرے گا کہ حضرتِ انسان دنیا کے مسائل کے حل کے لیے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرے، کیوں کہ 2029 میں ہماری دنیا کو اِس وقت دست یاب خوراک سے 50 فی صد زائد خوراک، 60 فی صد زائد توانائی اور 30 فی صد زائد صاف پینے کا پانی لازمی چاہیے ہوگا۔ انسانی بقاء کے لیے درکار اِن انسانی ضروریات میں تھوڑی سی بھی کمی انسانی بقا کے لیے ایک بڑے حیاتیاتی بحران کا پیش خیمہ ثابت سکتی ہے۔ خاص طور پر جس طرح سے انسان زمین پر موجود قدرتی وسائل کا ضیاع کررہا ہے اُس سے تو یہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی 2029 میں دنیا بھر کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جائے گی۔ معروف برطانوی سائنٹیفک ایڈوائزر جان بیڈڈنگٹن کا کہنا ہے کہ ’’اگر بڑھتی آبادی اور اُس کے لیے درکار وسائل کے درمیان پیدا ہونے والے عدم توازن کے سدباب کے لیے عالمی برادری نے ابھی سے ہی کوئی بندوبست نہیں کیا تو پھر اِن مسائل پر قابو پانا 2029 میں ناممکن ہوجائے گا اور پھر یہ مسائل اُس وقت کی طاقت ور اقوام اور ممالک کو مجبور کردیں گے کہ وہ اپنے سے کم زور ممالک کے وسائل پر جنگوں کے ذریعے قابض ہوجائیں۔ یعنی اگر انسان اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اپنے آپ کو وسائل پر قبضے کی جنگ کے بھیانک دور سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو پھر اُسے ابھی سے زمین پر موجود قدرتی وسائل کی حفاظت اور انہیں بڑھانے کا کوئی قابلِ عمل راستہ نکالنا ہوگا۔ ورنہ بقول شاعر۔۔۔ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی ہماری داستانوں میں۔

سال 2030 میں 6 جی ٹیکنالوجی متعارف کروادی جائے گی

اِس وقت دنیا بھر میں 5 جی سیلولر ٹیکنالوجی کا تذکرہ خوب زورشور کے ساتھ جاری ہے حالانکہ دنیا میں بسنے والے بیشتر لوگوں نے 5 جی رفتار سے چلنے والے انٹرنیٹ کا تجربہ بھی اپنے اسمارٹ فون پر نہیں کیا ہے، کیوںکہ فی الحال 5 جی سیلولر ٹیکنالوجی کا آغاز دنیا کے چند مخصوص علاقوں میں کیا جاسکا ہے۔ بہرکیف 5 جی ہمارے، آپ کے اسمارٹ فونز میں جب دست یاب ہوگی تب دیکھا جائے گا، لیکن 2030 میں سکس جنریشن یعنی 6 جی رفتار سے چلنے والی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے آنے کی پیش گوئی ابھی سے فرمادی گئی ہے۔ 6 جی سیلولر ٹیکنالوجی سے موبائل فریکونسی 100 گیگا ہرٹز سے 1 ٹیرا بائیٹ ہرٹز کے تیزرفتار انقلابی دور میں داخل ہوجائے گی، جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ وہ صارف جو اِس وقت چند سو کلو بائٹس کی رفتار سے اپنے اسمارٹ فون پر انٹرنیٹ چلاتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سماتا، 2030 میں یہی صارف 6 جی نیٹ ورک کی بدولت ٹیرا بائیٹس فی سیکنڈ یا اُس سے بھی زیادہ رفتار سے انٹرنیٹ چلانے کے قابل ہوجائے گا۔ 6جی انٹرنیٹ کتنا برق رفتار ہوگا فی الحال اُس کی مثال پیش کرنا بھی ہم جیسے سست رفتار انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے والوں کے لیے قطعی مناسب نہیں ہوگا۔ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ 6 جی ٹیکنالوجی ابھی تحقیق و تدوین کے ابتدائی مراحل میں ہے، لہٰذا 6 جی ٹیکنالوجی کی اصل ہیئت ترکیبی کیا ہوگی یا اس کے لیے کس قسم کے جدید اسمارٹ فونز، ایپلی کیشنز یا سیلولر نیٹ ورک کا نیا نظام درکار ہوگا؟ اس بابت رائے زنی کرنے میں ماہرین بھی حد درجہ احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ گو کہ 6 جی ٹیکنالوجی کے خدوخال آنے والے برسوں میں واضح ہوں گے اس کے باوجود ماہرین اپنی اس سائنسی پیش گوئی پر پوری طرح سے قائم ہیں کہ 2030 کے وسط تک 6 جی ٹیکنالوجی کا عام استعمال دنیا بھر میں شروع کردیا جائے گا

Share

Add comment