Buzcorner

زندگی میں کامیاب ہونے کےلیے یہ کام کبھی بھی نہ کریں

موجودہ دورمیں اس کی مشکلات اور پھر کامیابی کا تصور یقیناً ایک تھکا دینے والی سرگرمی ہے لیکن ان سب کی باوجود کامیاب کون نہیں ہونا چاہتا؟ ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی کے سفر میں مسلسل کام کرتے ہوئے بھی کبھی کامیاب نہیں ہوپاتے۔

جس کی بنیادی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ ہم دو طرح کی انتہاؤں کے بیچ معلق رہتے ہیں۔ یا تو ہم اپنی خوشی کےلیے اتنے خودغرض ہوجاتے ہیں کہ دوسروں کے خوابوں کو پیروں تلے مسل دیتے ہیں یا کبھی اتنے دریا دل ہوجاتے ہیں کہ دوسروں کی خوشی ہی ہمارے لیے اولیت اختیار کرلیتی ہے اور اس بات میں ہم خود کو کھو دیتے ہیں۔

دوسروں کو خوش رکھنے کا فارمولا کبھی بھی آپ کو کامیاب انسان نہیں بناسکتا۔ کیونکہ انسان کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ کبھی آپ ایک کو خوش رکھیں گے کبھی دوسرے کو، تو لوگوں کی توقعات بڑھتی جائیں گی، جن کے پورا نہ ہونے پر آپ کو برا بھلا کہا جاسکتا ہے اور ان افراد کے ساتھ آپ کے تعلقات حد درجہ خراب ہوسکتے ہیں جو کبھی صرف آپ کے گن ہی گاتے تھے۔

لہٰذا دوسروں کے ساتھ رویہ ضرور اچھا رکھیے لیکن خوش ہمیشہ اس کو رکھیں جس کو آپ خوش رکھ سکتے ہیں اور وہ شخص ہے جسے آپ روزانہ آئینے میں دیکھتے ہیں، یعنی کہ آپ خود۔ اب اگر ہم صرف اسی پر بات کریں کہ کامیاب لوگ ایسی کون سی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ تو یہ باتیں کہنے میں تو بہت آسان ہیں لیکن عملی طور پر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہیں۔

اگر آپ نے کسی بھی رشتے دار، دوست یا عزیز و اقارب کا ٹھیکہ یا ذمہ لیا ہوا ہے تو اس سے فوراً باز آجائیے۔ یعنی آپ کسی کو کہیں کہ یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لاؤ تمھارے حصے کا کام میں ہی ہمیشہ کردوں۔ تو یہ اگلے شخص کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ اس لیے کہ موقع پرست لوگ آپ سے کام بھی نکلوا لیں گے اور آپ کے احسان مند بھی نہ ہوں گے۔ اسی طرح جو آپ کی ہمدردی کے حق دار ہوں گے وہ ہر مشکل کے حل کےلیے آپ کی طرف دیکھیں گے جو آپ کو بھی الجھن میں مبتلا کردے گا اور پھر آپ بھی کوفت کا شکار ہوکر افسردہ ہوجائیں گے۔

رشتے میں توازن والی بات سے یاد آیا کہ کامیاب افراد کبھی بھی بہت زیادہ جذباتی ہوکر نہیں سوچتے، دوست احباب سے توقعات وابستہ نہیں کرتے، بلکہ کسی نے کوئی مدد کردی تو ٹھیک ورنہ کوئی بات نہیں۔ وہ رشتوں کو باندھ کر نہیں بلکہ جوڑ کر رکھتے ہیں اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ کوئی بھی تعلق ہو وہ لوگوں کو ایک گنجائش دیتے ہیں کہ کوئی ان سے تعلق رکھے یا انھیں چھوڑ دے۔ معمولی معمولی باتوں پر جھگڑتے نہیں اور ہاں سارا دن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ فلاں مجھے کیا کہہ گیا اور کیوں کہہ گیا۔ بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ فلاں کی سوچ ہی ایسی تھی جس کا ذمہ انھوں نے نہیں لیا ہوا۔

انسانی زندگی بہت پیچیدہ ہے اور اس کی سوچ لمحہ بہ لمحہ تغیر کی طرف مائل۔ ایسی صورت میں ہمیں بہت سے کردار ادا کرنے ہیں، بیوی، شوہر، ماں، اولاد، جاب ورکر یا مالکان۔ یہ کردار تو لازمی ہیں لیکن اگر ان کرداروں کو آپ بہروپ بنالیں تب مشکل ہوجائے گی۔ یعنی اگر آپ اپنے مطلب کےلیے بناوٹ اختیار کرلیں اور خود کو ویسا ظاہر کریں جیسا کہ دوسرے چاہتے ہیں تو آپ اپنی شخصیت کو مسخ کردیں گے اور یہ کوئی کامیابی کی بات نہیں۔

Share

buzcorner

2 comments