Buzcorner
right way » blog » دودھ کا دودھ پانی کا پانی

دودھ کا دودھ پانی کا پانی

دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونا یہ ایک کہاوت ہے اس کہاوت کا مطلب ہے انصاف ہونا اور یہ ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب سچ اور جھوٹ الگ الگ ہوجائیں اورہر کسی کو اس کے اچھے یا برے کام کا بدلا مل جائے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک گوالا بڑا بے ایمان تھا اور دودھ میں پانی ملا کر بیچا کرتا تھا۔

بہت جلد اس نے بہت سارے پیسے جمع کر لئے۔ ایک روز اس نے ساری رقم ایک تھیلی میں ڈالی اور اپنے گاؤں کی طرف چل دیا۔ گرمی کا موسم تھا پسینہ چوٹی سے ایڑی تک بہہ رہا تھا گوالے کے راستے میں ایک دریا تھا۔ اس نے سوچا چلو نہا لیتے ہیں رقم کی تھیلی اس نے ایک درخت کے نیچے رکھ دی۔ تھیلی پر کپڑے ڈال دئیے اور لنگوٹ کس کر پانی میں کود پڑا اس علاقے میں بندر بہت پائے جاتے تھے۔ اتفاق کی بات ایک بندر درخت پر چڑھ کر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

گوالے کے پانی میں اترتے ہی بندر درخت سے  نیچے اترا اور رقم کی تھیلی لے کر درخت کی ایک اونچی شاخ پر جا کر بیٹھ گیا۔ گوالا پانی سے نکلا اور بندر کو ڈرانے لگا بندر نے تھیلی کھولی اور روپے ایک ایک کر کے ہوا میں اڑا دیے۔ درخت دریا کے کنارے سے بہت قریب تھا اور روپے اُڑ اُڑ کر پانی میں گرنے لگے۔ گوالے نے اڑتے پیسوں کو پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن آدھے روپے پانی میں جا گرے۔

Read This:  غرور کا انجام

راستہ چلتے لوگ جو گوالے کی بے ایمانی سے واقف تھے اور یہ تماشا دیکھنے کے لئے اکٹھے ہوگئے۔ گوالے کا شور سن کر کہنے لگے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا یعنی گوالے نے جو آدھے پیسے دودھ میں پانی ملا کر بے ایمانی سے کمائے تھے وہ پانی میں مل گئے۔

راستہ چلتے لوگ جو گوالے کی بے ایمانی سے واقف تھے اور یہ تماشا دیکھنے کے لئے اکٹھے ہوگئے۔ گوالے کا شور سن کر کہنے لگے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا یعنی گوالے نے جو آدھے پیسے دودھ میں پانی ملا کر بے ایمانی سے کمائے تھے وہ پانی میں مل گئے۔

Share

sana jamshed

Add comment