Buzcorner

خود غرض

آخر مویشی، جن کی بدولت تین برس پیشتر جیا اور جیون جاٹ اور اُن کے حواریوں میں تصادم ہوا، بے سمجھ جانور ہی تھے نا۔ اگر عقل ہوتی تو کیوں کسی کے کھیت میں گھُس کر اُگتی ہوئی مکئی کی ہری بھری کونپلوں کو منھ مارتے۔

تلوں کے خشک پودوں کو اگر لتاڑ کر زمین پر بکھیر بھی دیا تھا ،تو جیا اور جیون دونوں کو چاہیے تھا کہ آرام سے بیٹھ کر ایک دوسرے کو تنبیہ کرتے۔ یا چار بھائیوں کے رو بہ رو اپنا معاملہ نپٹا لیتے اور اگر ممکن ہوتا تو جائز ہرجانہ طلب کرتے۔ نہ یہ کہ لٹھ لے کر ایک دوسرے کا سر پھوڑ دیتے اور پھر عدالتوں میں ناکوں چنے چبا کر سیکڑوں روپئے وکیلوں اور پولس والوں کی جیب میں داخل کر کے انجام کار راضی نامہ کر لیتے۔ لوگوں کی ایسی غلطیوں اور سماج کی چند تباہ کن رسوم کا ازالہ کرنے کے لیے رُہل گانو کے ایک بزرگ نے پنچایت بنا ڈالی۔ لوگوں نے اعزاز کے طور پر اُسی بزرگ کو پنچایت کا صدر چُنا۔رُہل گانو میں ایک لالہ میّا داس ہی ایسے فرد تھے جن کی آنکھوں میں پنچایت خار کی مانند کھٹکتی تھی۔ وہ طبیعت کے نہایت خودغرض واقع ہوئے تھے۔ گانو میں ان کی دو دُکانیں تھیں۔ ایک آٹے دال کی اور دوسری کپڑے کی، جن سے اُنھیں باقی دُکان

داروں کے مقابلے میں زیادہ آمدنی ہو جاتی تھی۔ پہلے وہ گانو کے چودھری تھے اور روپئے پیسے کے زور پر من مانی کارروائیاں کرتے تھے، مگر اب پنچایت کی وجہ سے اُن کا کچھ بس نہ چلتا تھا۔ پنچایت کے احکام مانے بغیر گزارا بھی نہ تھا، کیوں کہ اگر اُس کے فیصلے کے خلاف وہ ایک لفظ بھی کہتے، تو اُن کا روز گار خراب ہو جانے کا اندیشہ تھا۔ ادھر اگر گانو والے اُن سے عدم تعاون کر دیتے تو وہ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو جاتے۔ ہزاروں روپئے کی جائداد کو چھوڑ کر اس گانو سے چلے جانے کا خیال بھی وہ دل میں کیسے لاتے؟ پنچایت کا ایک ایک رکن اُن کی خود غرضی سے آگاہ تھا۔ یہاں تک کہ اگر بھولے سے وہ کسی کے بھلے کی بات بھی کرتے، تو لوگ مشکوک انداز سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور دل میں کہتے کہ اس بات میں کوئی نہ کوئی ایسا راز ضرور ہے، جس سے لالہ میّا داس کو کوئی ذاتی فائدہ پہنچے گا۔ جب لالہ میّا داس نے سیدھی انگلیوں گھی نکلتے نہ دیکھا تو پنچایت میں سے چند ایک آدمیوں کو روپئے سے خریدنے کی کوشش کی۔

مگر یہ سودا اُنھیں مہنگا پڑا۔ بہت اصرار کے بعد جن چند اشخاص نے اُن کا حواری بننا قبول کیا، وہ پیسا ختم ہوتے ہی لالہ میّاداس کے گھر پہنچتے اور روپیا مانگتے۔ نفی میں جواب ملنے پر لالہ میّاداس کو دھمکی دیتے کہ وہ پنچایت میں اُس کی ہر بات کی مخالفت کریں گے۔ اور اگر پھر بھی لالہ میّاداس نظرِ التفات نہ کرتے، تو ہر اچھّی بری بات میں اُن لوگوں کی طرف سے پنچایت میں اُن کی کھلّم کھُلاّ مخالفت ہونے لگتی۔لالہ میّا داس کے ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکا۔ لڑکے کی عمر کوئی اِکّیس برس اور لڑکی کی سولہ برس تھی۔ لڑکا پاس ہی کے بڑے شہر میں نہر کے محکمے میں نوکر تھا۔ پوہ ماگھ کے اُن دنوں، جب کہ سورج ، دھن راس کو کاٹ کر، مکر راس میں داخل ہوتا ہے، یعنی تِل سنکرانت کے دن، جب کہ   سجی دھجی عورتیں تِل بانٹ رہی تھیں اور آپس میں گاجر، مٹر، امرود، بیر اور گنّے کا تبادلہ کر رہی تھیں اور سوئے ہوئے جذبات میں زندگی پھونک دینے والے تبسّم سے مسکراتی ہوئی ایک دوسری سے کہہ رہی تھیں ’’میٹھا میٹھا کھاؤ اور میٹھا میٹھا بولو‘‘۔

اور اُس دن کے بعد جب کہ دن تِل برابر ہر روز بڑھ کر آہستہ آہستہ چولھا سماج کی حاضری میں کمی پیدا کر رہا تھا، منورما—لالہ میّاداس کی لڑکی—سترھویں برس میں قدم رکھ رہی تھی اور یہ غم کہ لڑکی اِس قدر جوان ہو رہی ہے اور اس کے لیے کوئی مناسب رشتہ نہیں مل سکا، لالہ میّا داس کی بیوی کو کھائے جا رہا تھا۔ سنکرانت کے اُن دنوں میں منورما کی ماں کی ادھوری خوشی کا اُس کی نیم جان آواز سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ ایک دن گھر کی دہلیز پھاندتے ہوئے لالہ میّاداس کا ما تھا ٹھنکا۔’’منورما کی ماں ‘‘ لالہ میّاداس نے کہا ’’آج کیا بات ہے ، بتّی کو دِیاسلائی تو دکھا دو‘‘۔’’دِیا بتّی جائے بھاڑ میں‘‘ منورما کی ماں نے بھپرتے ہوئے کہا ’’مجھے دِیے بتّی کا ہوش ہے کیا ۔ مجھے تو اِس چھوکری کے غم نے کھا لیا ہے۔ پنچایت ماننے سے رہی، تو کیا اُسے بٹھا چھوڑیں گے‘‘۔’’دیکھو—اگر اتنی ہی جلدی تھی، تو پھر دتّو سے کیوں نہ نسبت کرنے دی۔ یہ قرار پایا تھا نا کہ منورما کو کسی بڑے گھرانے میں دیا جائے اور پنچایت میں اِس بات کا چرچا کیا جائے کہ بیاہ شادیوں میں جہیز دینا فضول ہے، اِس سے سینکڑوں گھر برباد ہو چکے ہیں اور اگر کسی کو ضرور کچھ دینا ہی ہو، تو تحفے تحائف کے طور پر دیا جائے۔

مگر ایسی حالت میں بھی اُن اشیاء کی قیمت دو سو سے زیادہ نہ ہو — یہی ایک طریقہ ہے جس سے امیرانہ وضع داری کے ساتھ تھوڑے سے خرچ میں گزارا کرسکتے ہیں۔ برات کو روٹی اچھّی کھلا دی، جہیز میں کچھ نہ دیا اور اپنا روپیا بچا لیا … مگر بکرم اور بلاقی شاہ، شیشر اور گردھاری سب اِس کے خلاف ہیں۔ وہ اعلانیہ طور پر کہتے ہیں کہ منورما کا بیاہ درپیش ہے اور اسی لیے یہ تگ و دو ہو رہی ہے‘‘۔’’تو کیا رامے اور بانشی اور اُن کے پِٹھّوؤں نے تمھارا ساتھ نہ دیا… اُنھیں پیسے کاہے کو دیے…‘‘’’انھوں نے بُہتیرا شور غوغا کیا، مگر وہ ہیں آٹے میں نمک برابر—میں نے پردھان سے کہہ دیا ہے کہ میری ہر بات میں بلاوجہ مخالفت کی جار ہی ہے‘‘۔’’مگر پردھان کس کروٹ ہے—‘‘’’وہ کہتا تھا کہ باہر سے آئی ہوئی براتیں یہ بات گوارا نہ کرسکیں گی۔ تِس پر میں نے جواب دیا کہ جب وہ سمجھیں گے کہ یہاں کی پنچایت کا یہی دستور ہے، تو پھر وہ ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتے ،اور اگر وہ اس کے خلاف احتجاج کریں تو ہم دوسرے گانووں کی لڑکیاں لینی چھوڑ دیں گے اور اُن ہی چند ایک نزدیک کے گانووں میں، جہاں رُہل کی پنچایت کا دبدبہ ہے، اپنے ناطے کر لیں گے…‘‘’’پھر کیا بولا وہ بُڑھؤ— ڈھانٹ—‘‘’’سنو تو — میں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے گرام میں کئی ، پیسے ٹکے سے اچھّے ہیں اور کئی قصبوں کے لوگ اپنی لڑکیاں ہمیں مِنّت سے دینے کو تیار ہیں— بات تو یہ ہے کہ پنچایت مضبوط ہو اور گرام باسیوں میں ایکا ہو ایکا—‘‘’’پھر کوئی تانا بانا بُنا کہ یوں ہی…‘‘’’رام پہ بھروسا رکھو نا—کل شام کے آٹھ بجے اِس بات کے متعلق بحث ہے— میں نے ایک آدھ پِٹھّو اور تیار کیا ہے‘‘۔

پنچایت ، ماروتی مندر کے بغل میں ایک بڑے کمرے میں بیٹھی۔ منورما کی ماں بھی، درشن کے بہانے چند ایک عورتوں کو ساتھی بنا کر اُس کھڑکی میں، جو مندر سے پنچایت والے کمرے میں کھلتی تھی، آ بیٹھی۔پردھان جی خاموشی سے سب کی باتوں کو سُن رہے تھے۔ لالہ میّا داس کا حواری بانشی مل کچھ پڑھا لکھا تھا اور سُلجھے الفاظ میں گفتگو کرسکتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا ۔:’’جہیز کی رسم بہت پراچین اور سناتن ہو چکی ہے۔ آج جب کہ بھارت ورش کی حالت بہت ابتر ہے اور اوسط آمدنی فی کس دو پیسے ہے، تو پُتری دھن کہاں سے تیار کیا جائے۔ پراچین سمے میں جب کہ بھارت ورش سونے کی چڑیا تھا، ہر ایک آدمی کو توفیق تھی کہ وہ پُتری دھن زیادہ سے زیادہ دے۔ میں نے کئی ایک گھرانے دیکھے ہیں جہاں پُتری دھن کے سوال نے غریب ماتا پِتا اور کنبے کو بہت دُکھی کیا۔ یہاں تک کہ کئی کنّیاؤں نے اپنے ماں باپ کی بُری حالت کو دیکھ کر اور سماج کے اِس سخت تکلیف دہ قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، اپنے کپڑوں پر تیل چھڑک لیا اور لوگوں کے دیکھتے دیکھتے جل مریں، یاد ریا میں کود کر جان دے دی ،یا چھت پر سے چھلانگ لگا کر پران تیاگ دیے۔ لوگوں نے اُن کی لاش پر آنسو بہا کر سماج کو خوب کوسا۔ مگر سماج کو آلائشوں سے پاک کرنے کی جرأت نہ کی۔ بنگال میں، جہاں یہ رسم زیادہ عام ہے، وہاں لوگوں نے اخباروں میں اِس کے خلاف آواز بھی اُٹھائی، مگر بڑی توند لے کر سماج مندر کا رقبہ گھیرنے والے سرمایہ دار کب کسی کی سنتے ہیں— اُن کی بلا سے کوئی جل مرے… کوئی ساگر میں کود کر پران تیاگ دے…‘‘بانشی مل کے گلے میں رقّت (جو اُس نے کمال عیّاری سے پیدا کر لی تھی) سے رُکاوٹ پیدا ہو گئی اور وہ آگے بولنے سے معذور ہو گئے۔ لالہ میّا داس نے اِس ہوش رُبا تقریر کے بعد ایک ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا:’’آہ!— ہندو سماج ۔ تیرا ایشور ہی سہائی ہے‘‘۔ انھوں نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ۔ منورما کی ماں کے چہرے پر اُنھیں خوشی اور شانتی کی لہر دکھائی دی۔

شاید وہ سمجھ رہی تھی کہ میدان آج اُس کے خاوند کا ہی ہے۔رامے نے دیکھا کہ بانشی کا گلا رقّت سے رُک جانے کی وجہ سے سامعین پر بہت گہرا اثر پڑا تھا۔ موقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے بانشی کی بات کو جاری رکھا—’’یہی نہیں بلکہ کئی والدین نے بھی ناک کی خاطر اپنے آپ پر منوں بوجھ ڈالا، جس کے نیچے دب کر وہ زندگی بھر ٹھنڈی سانسیں لیتے رہے اور اپنے بیوی بچّوں کو ہمیشہ کے لیے       ننگ و ناموس سے عاری کر گئے۔ ایک لمحے کی واہ وا کے لیے ہمیشہ کے لیے اپنی عزت اور آبرو برباد کر دی— پیسے کی کمی اور جہیز کی زیادتی کے نا اہل ہوتے ہوئے لوگوں نے مدّت تک اپنی کنّیاؤں کو کنوارا بٹھا چھوڑا، جس کا نتیجہ ہوا کہ کثرت سے اغوا کی وارداتیں ہونے لگیں اور اُن پاپی اتّیاچاری ناک کے ٹھیکے داروں کی ناک اپنی کنّیاؤں کی وجہ سے ایسی کٹی ،کہ پھر اُنھوں نے نکٹا چہرہ کسی کے سامنے نہ کیا اور یا خودکشی کر لی یا جنگل کا رُخ کیا—‘‘’’مگر—‘‘ مخالف پارٹی کے ایک رکن نے اپنی تقریر شروع کرتے ہوئے کہا— ’’میں اپنے محترم بھائیوں کی اِن باتوں کو صحیح مانتا ہوں کہ اِس غریبی کی حالت میں ہم بڑی پنچ کا جہیز نہیں دے سکتے۔ مگر اِس رسم کا تیاگ سارے دیش میں مجموعی طور پر ہو تو بہتر ہے۔ آپ سوچیں تو، کہ اگر ہم کسی کو جہیز نہ دیں تو باہر کے دیہات یا قصبے یا شہر کا کوئی آدمی کس لیے ہماری لڑکیاں لے گا۔ اُسے ہماری پنچایت کی پروا ہی کیا ہے۔

پنچایت کی سب سے بڑی سزا حُقّہ پانی بند کر دینا اور انجامِ کار پنچایت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے آدمی سے عدمِ تعاون کر کے اُسے گانو چھوڑ دینے پر مجبور کر دینا ہی ہے نا۔ مگر دوسرے گانووں کے آدمیوں کو اِس بات کی کیا پروا ہے۔ کل لالہ میّا داس اور بانشی مل نے کہا تھا کہ اگر باہر کے آدمی اِس بات کو گوارا نہیں کرتے تو اُن سے رشتے نہ کیے جائیں اور پڑوس کے دو چار گانووں میں رشتے ناتے دیکھ لیے جائیں۔ کتنی غلط بات کہی ——پردھان صاحب کی ہی مثال لو۔ ایشور نے انھیں اچھّا دھن وان بنایا ہے۔ کل ہی اِنھوں نے اپنی امبو کا بیاہ کیا، تو اُس پڑھی لکھی سوشیل کنّیا کے لیے تلاش اور تجسّس کا دائرہ نہایت تنگ ہونے کی وجہ سے کوئی مناسب وَر مل ہی نہیں سکتا۔ ایسا وَر ،جو کہ برسرِ کار ہونے کے علاوہ گھربار سے بھی اچھّا ہو — یہ سب کچھ تب ہی ہو سکتا ہے کہ سارے ملک میں مجموعی حالت ایک ہی ہو—‘‘ ’’بالکل ٹھیک کہا لالہ گردھاری لال نے‘‘ ایک شخص نے کہا۔ ’’اور پھر آپ حساب لگا کر دیکھیں کہ ہمارے پڑوس کے گانووں میں جو اس پنچایت کے دبدبے میں ہیں، لڑکیاں زیادہ ہیں اور لڑکے بہت تھوڑے——اور جو تھوڑے سے ہیں وہ بھی آوارہ اور شُہدے۔ ہر ایک ماتا پِتا کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اُسے اپنی کنّیا کے لیے اچھا وَر ملے۔ کوئی جان بوجھ کر اپنے جگر کے ٹکڑے کو آگ میں پھینکنا نہیں چاہتا ،مگر موجودہ حالات کی وجہ سے اور تلاش کا دائرہ نہایت محدود ہونے کی وجہ سے، یہ جب ہی ممکن ہے کہ یہ بات مجموعی طور پر ہر جگہ ہو‘‘۔

حُقّے کی نال کو پرے کرتے ہوئے اور منھ پر سے اپنی سفید اور بڑی بڑی مونچھوں کو ہٹاتے ہوئے پردھان نے کہا:’’لالہ گردھاری لال اور روپ چند نے جو باتیں کہی ہیں، وہ زیادہ وزن رکھتی ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جہیز کی رسم مذموم ہے مگر جب تلک ملک کا بیشتر حصّہ اِس رسم کو خیرباد نہیں کہتا، ہمارے گانو میں اس کا ترک ہونا محال ہے——‘‘لالہ میّاداس نے جواب دیا ’’مگر جب کبھی یہ رسم چھوڑی جائے گی تو پہلے اِس کے ترک کرنے والے چند افرادہی ہوں گے۔ کیوں نہ رُہل کے باسی مثال قائم کریں۔‘‘اِس کے بعد چند سیکنڈ تک خاموشی رہی۔ کچھ سوچ کے بعد پردھان نے لالہ میّاداس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’’لالہ میّاداس ——امید ہے کہ آپ اِس گستاخی کو معاف کریں گے— یہ جو لوگوں کا خیال ہے کہ آپ سب کچھ فلاح کے لیے نہیں، بلکہ خود غرضی کے لیے کر رہے ہیں—— آپ اِس بارے میں اپنی پوزیشن کیوں نہیں صاف کر دیتے۔‘‘

لالہ میّاداس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔ اِس سے پیشتر کسی نے اعلانیہ طور پر اُنھیں خود غرض کہنے کی جرأت نہیں کی تھی۔ اغلب تھا کہ زیادہ شرمندگی کی وجہ سے وہ کچھ اناپ شناپ پر اُتر آتے۔ مگر اُن کے سرکردہ حواری نے صورتِ حالات کو قابو میں لے لیا اور بات کو ٹالنے کی غرض سے بولا—’’پردھان جی! مجھے افسوس ہے کہ لالہ میّاداس پر اِس طرح ذاتی حملہ ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ یہ بات اُنھیں اُس وقت سوجھی، جب وہ اپنی کنّیا کی شادی کی فکر میں تھے— یہ سب کچھ منورما کے لیے نہیں ہو رہا۔ یہ سب ہماری تمھاری بیٹیوں کے لیے ہے۔ اُن کو ایشور نے بہت کچھ دھن دیا ہے۔ وہ نہایت آسانی سے لڑکی کے جہیز میں ڈیڑھ دو ہزار روپیا خرچ کرسکتے ہیں…‘‘لالہ میّا داس کو گویا سہارا ہی تو مل گیا۔ اگرچہ اِس بات نے اُن کی پوزیشن کو زیادہ خراب کر دیا، کیوں کہ یہ حقیقت تھی کہ وہ روپیا بچانا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ یہ ڈھونگ رچا رہے تھے، مگر موقع محل دیکھ کر اُنھوں نے لالہ بانشی مل کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا:’’اِس بات میں ذرّہ بھی شک نہیں—میرے پاس ایشور کا دیا اتنا ہے کہ تین پشتوں تک ختم نہیں ہو سکتا۔

ایک لڑکی کے جہیز میں دو اڑھائی ہزار خرچ کرنے سے میں گھبراتا نہیں‘‘۔لالہ میّاداس کے دوسرے حواری رامے نے کہا ’’ہاں— ہاں، توفیق والے نے تو کر لیا، ہم کیا کریں گے۔ پنچایت کو ہماری فکر بھی لازم ہے۔ کل میری بھتیجی بیاہی جانے والی ہے‘‘۔پنچایت کے اِس اِکٹھ میں ایک اور شخص بھی تھا، جو اب تک چپ بیٹھا تھا۔ نام تو اُس کا بشیشر دیال تھا، مگر لوگ اُسے ’’منھ پھٹ‘‘ کہا کرتے تھے۔ بات یہ تھی کہ وہ ہر اچھّی بُری بات چھوٹے یا بڑے کے سامنے بلا تکلّف کہہ دیتا۔ حسبِ عادت اُس نے کہا:’’اِس بات کا مزا تب ہے [کہ] میّا داس منورما کا بیاہ کر لیں، تو پھر اِس گرام میں جہیز نہ دینے کا رواج بنایا جائے۔ اس سے یہ پتا چلے گا کہ وہ سب کچھ خودغرضی کی وجہ سے نہیں کر رہے‘‘۔’’بے شک …مجھے منظور ہے——‘‘ لالہ میّاداس کو کہنا پڑا۔ اوپر کھڑکی میں منورما کی ماں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔ ایسی حالت میں لالہ میّا داس نے منظور تو کر لیا مگر گھر پہنچے تو وہ خجل سے تھے اور بہت تکان زدہ دکھائی دیتے تھے۔

منورما کی ماں نے اُن کے چہرے کا مطالعہ کرتے ہوئے کہا:’’ہائیں —آپ روتے کیوں ہیں؟‘‘’’میر ا بانشی اور رامے وغیرہ پر پیسا لگایا ہوا بھی یوں ہی گیا…‘‘ میّاداس نے پھوٹتے ہوئے کہا۔’’مگر میں تو کہوں گی— اُنھوں نے کوشش بہت کی— اِس میں کسی کا کیا قصور۔ ہماری قسمت…‘‘منورما کا جہیز ، چھت پر سجایا گیا تھا۔ لالہ میّا داس، پردھان کو جہیز دکھا رہا تھا اور پردھان یہ محسوس کر رہا تھا کہ میّا داس ہر چیز کی قیمت اُس کی اصلی اور ممکن قیمت سے دوگنی کے لگ بھگ بتاتا ہے۔ مگر تھالی میں نقد ایک ہزار روپیا دھرا تھا۔ تھالی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور لالہ میّاداس سے علاحدہ ہو کر، اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا:’’اب تو تمھیں میّاداس کے متعلق شک نہیں رہا…؟‘‘’’آپ دیکھیں تو سہی ’’منھ پھٹ نے کہا‘‘ میّاداس دو اڑھائی ہزار بتاتا تھا، مگر یہ سارا جہیز، بھینس سمیت پندرہ سو سے زیادہ کا نہیں، میّاداس نے جو کچھ بھی کیا ہے، دکھاوے کو کیا ہے۔ تھال میں اس نے ایک ہزار کی رقم رکھ دی ہے تاکہ اسے کسی کے منھ پر جھوٹا نہ ہونا پڑے۔ چار سوٹ ہوتے کیا ہیں اور دوسرے کپڑے، کناری وغیرہ سے مجھے تو پُرانے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔پردھان نے کہا ’’ارے بھائی ! پندرہ سو اور دو ہزار میں کون سا زمین آسمان کا فرق ہے‘‘۔’’

یہ سب کچھ اُنھیں مجبور کر کے کروایا گیا ہے۔ ورنہ وہ اتنا بھی نہ کرتے—اِس سے اُن کی قربانی اور بے غرضی عیاں نہ ہو گی۔ میں لالہ میّا داس کو کئی بار پرکھ چکا ہوں۔ وہ نہایت خودغرض آدمی ہیں… میں ایک بات آپ کو بتاؤں، اگر آپ کسی سے ذکر نہ کریں تو —‘‘’’ہاں کہو—میں کسی سے نہیں کہوں گا—‘‘ پردھان نے اپنا کان، منھ پھٹ کے پاس لاتے ہوئے کہا:’’بانشی مل اور رامے، دونوں کو اُس رات لالہ میّاداس نے پچاس پچاس روپئے دیے تھے کہ وہ اِس بات کی کوشش کریں کہ جہیز کی رسم اُڑا دی جائے، تاکہ اُس کی رقم بچ جائے— اور یہی وجہ تھی کہ بانشی اور رامے اُس دن بڑھ بڑھ کر باتیں بنا رہے تھے، ورنہ آپ خود ہی سوچیے کہ بانشی اور رامے دونوں کے گھر لڑکیاں ہیں ہی نہیں، بلکہ بانشی کے گھر چار لڑکے اور رامے کے ہاں دو لڑکے ہیں۔ ایک بھتیجی ہے جو کہ جوان ہے۔ لیکن اُس کا بھائی زندہ ہے۔ جو ہو گا کرے گا۔ اِس لیے قاعدے کے مطابق اُنھیں اِس بات کے خلاف ہونا چاہیے تھا یا حق میں——بانشی کا سب سے بڑا چھوکرا بارہ برس کا ہے اور رامے کا آٹھ برس کا… اُنھوں نے سوچا ہو گا کہ چلو اب تو پچاس پچاس کھرے کرو۔ بعد میں دس بارہ برس کے بعد جب لڑکے شادی کے قابل ہو جائیں گے، یہ جہیز کو بند کرنے والا رواج خود بہ خود بند ہو جائے گا‘‘۔’’مگر اِس بات کا ثبوت—؟‘‘’’ثبوت یہی کہ لالہ میّاداس اپنے بیٹے کرشن گوپال کی شادی کے وقت اپنا روّیہ بدل ڈالے گا اور آپ دیکھیں گے کہ بانشی مل اور رامے وغیرہ بھی اس کے ساتھ اپنا روّیہ بدلیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہم نے غلطی کی تھی۔ دراصل جہیز کی رسم مجموعی طور پر ترک ہونی چاہیے—یہ بھی کہیں گے کہ انسان کی عقل ہی ہے نا—غلطی ہو سکتی ہے—اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہو گا کہ لالہ میّاداس خواہش کریں گے کہ کرشن گوپال، جو کہ بر سرِ روزگار ہے کسی بڑے گھر میں بیاہا جائے اور بہت جہیز اُس کے ہاں شادی میں آئے—‘‘پردھان نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا ’’یہ بات ہے!‘‘اور منھ پھٹ نے برابر کی آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا ’’جی ہاں‘‘۔’’

تو میں دیکھوں گا کہ کس طرح پنچایت کو لالہ میّاداس ایسے خود غرض آدمی، پیسے سے خریدتے ہیں اور کس طرح وہ اور بانشی اور رامے سے، ضمیر فروش آدمی سماج میں آرام سے سانس لیتے ہیں—‘‘لالہ میّا داس کی ہدایت کے مطابق بانشی اور رامے پنچایت کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ماروتی مندر میں پہنچے ہوئے تھے۔ لالہ میّاداس کہہ رہے تھے:’’پنچایت کے سب آدمی، جہیز رکھنے کے حق میں ہیں۔ اب میں اِس رسم کے اُڑانے پر چنداں زور نہیں دوں گا۔ کیوں کہ میں نے منورما کے بیاہ میں کافی سے زیادہ پیسا خرچ کیا ہے، اس لیے میری بھی خواہش ہے کہ میں بھی جتنا جہیز مل سکے منظور کر لوں—میرے لڑکے کرشن گوپال کو رام بھُج دت ریٹائرڈ منصف کی چھوٹی لڑکی کا رشتہ ملتا ہے—جہیز کافی ملے گا۔ اگر اِس بات کا ذکر چھڑے تو تم بھی خاموش رہنا۔‘‘بانشی نے کہا ’’مگر یوں ہماری پوزیشن خراب ہوتی ہے۔ وہ کہیں گے، کل یہ اِس رسم کے خلاف تھے۔ آج حق میں ہو گئے ہیں ،بلکہ اگر وہ تجویز پیش بھی کریں کہ جہیز کی رسم بند ہونی چاہیے تو آپ کو فوراً منظور کر لینی چاہیے کیوں کہ اِس طرح نہ صرف آپ کی پوزیشن برقرار رہے گی، بلکہ اُن کا الزام کہ آپ خودغرض ہیں، غلط ثابت ہو گا۔‘‘’’مگر میں کہہ دوں گا کہ میں غلطی پر تھا۔ بیاہ بغیر جہیز، شوبھان نہیں ہو سکتا۔ یہ میں نے اپنی لڑکی کے بیاہ پر اندازہ لگایا ہے۔ وہ اِس بات کی تہ تک کب پہنچ سکیں گے کہ یہ میں اس لیے کر رہا ہوں کہ کرشن گوپال کی شادی میں کافی سے زیادہ جہیز آئے…‘‘’’میں یہ بھی کہوں گا کہ جہیز نہ دینے سے نہ صرف سسرال میں لڑکی کی عزّت کم ہوتی ہے بلکہ ——‘‘رامے نے کہا ’’مگر وہ شخص [لوگ؟] جنھوں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ جہیز کی رسم اُڑانے کی تیاّریاں محض منورما کے بیاہ کی خاطر ہو رہی ہیں، وہ یہ بھی تاڑ جائیں گے کہ اب سب کچھ کرشن گوپال کے بیاہ کا پیش خیمہ ہے۔

کڑوا کڑوا تھو — میٹھا میٹھا ہپ!‘‘’’اُن کے دل میں خواہ خیال تک بھی نہ آئے—چور کی داڑھی میں تنکا— پہلے تم نے میرے پیسے گنوائے ہیں۔ اُن کا حق تو ادا کرو کہ اگر وہ کہیں کہ جہیز کی رسم اُڑ جائے تو تم اُس کی مخالفت کرنا‘‘۔بانشی نے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ’’رام رام ——وہ کہیں گے، یہ کس قماش کے آدمی ہیں‘‘۔رامے بولا ’’شاید وہ یہ بھی اندازہ لگا جائیں [کہ؟] یہ کسی مخصوص وجہ سے اِس بات میں حصّہ لے رہے ہیں‘‘۔بانشی اور رامے نے یک زبان ہو کر کہا ’’ہم نہیں ماننے کے… اب ہم کسی صورت میں جہیز کے حق میں نہیں ہو سکتے‘‘۔پردھان جی نے پنچایت کے کمرے میں داخل ہوتے ہی، روپئے کی خفیف سی کھنکار [کھنک؟] سُنی… اُن کا ما تھا ٹھنکا——تینوں کو ایسے موقعے پر یک جا ہوتے دیکھ کر وہ کچھ سمجھ گئے۔ مگر انھوں نے یوں ظاہر کیا ،جیسے کچھ جانتے ہی نہیں اور اُن کے ساتھ خوش گپیّوں میں مصروف ہو گئے۔پنچایت لگتے ہی پردھان جی نے جہیز بند کر دینے کا تذکرہ چھیڑا:’’اب کہ لالہ میّاداس نے منورما کے بیاہ سے آپ کے شکوک رفع کر دیے ہیں۔ اُمید ہے آپ جہیز بند کر دینے کے حق میں ہوں گے۔‘‘لالہ میّاداس نے بڑے لمبے چوڑے طریقے سے بتایا کہ وہ اُن کی غلطی تھی اور وہ منورما کے بیاہ کے بعد اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بیاہ میں جہیز نہایت ضروری چیز ہے۔ اس کے بغیر کنّیا کی سسرال میں عزت نہیں ہو گی— —‘‘ اور اِس بات کی بانشی نے تائید کی۔رامے کہنے لگا ’’لالہ گردھاری لال نے درست کہا تھا کہ رسم مجموعی طور پر بند ہو تب ہی اچھّا ہے… میرے خیال میں…‘‘’’نہیں نہیں—— ایسا نہیں ہو سکتا ’’منھ پھٹ نے بات کاٹتے ہوئے کہا ’’اب یہ سب باتیں کرشن گوپال کے بیاہ کی خاطر ہو رہی ہیں۔‘‘—— اور پنچایت کے سب آدمی میّاداس کے خلاف بولنے لگے۔ حُقّے کی نال پرے کرتے ہوئے اور اپنی سفید مونچھوں کو سنوارتے ہوئے پردھان نے پوچھا:’’کیا کرشن کی شادی کا انتظام ہو گیا ہے؟‘‘میّاداس نے جواب دیا ’’ابھی نہیں‘‘۔’’کیوں نہیں ——‘‘منھ پھٹ نے کہا ’’رام بھُج دت کون شخص ہے— اُس دن کشمیری ٹوکری میں شگن نہیں تھا کیا؟‘‘لالہ میّاداس کچھ کھسیانے سے ہو گئے۔ اُن سے کوئی جواب نہ بن آیا۔ پردھان جی نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا:’’لالہ میّا داس نے لڑکی کی شادی کے وقت جہیز کے خلاف ہو کر اور کرشن کی شادی پر اُس کے حق میں ہو کر اپنی خود غرضی کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ ہمارے پاس اِس بات کا بھی کافی ثبوت ہے کہ انھوں نے پنچایت کے چند افراد ——بانشی، رامے ، نرائن وغیرہ کو پیسے سے خریدنے کی کوشش کی ہے اور پنچایت کی تاریخ میں ایسی بددیانتی کی مثال نہیں ملتی…‘‘’’جھوٹ—سفید جھوٹ—‘‘ بانشی نے تڑپتے ہوئے کہا ’’اِس بات کا ثبوت؟‘‘’’اِس بات کا ثبوت وہ باتیں ہیں جو ابھی پنچایت لگنے سے چند منٹ پیشتر تم کر رہے تھے اور جو اِن کانوں نے خود سُنی ہیں۔

اگر اِس سے زیادہ ثبوت چاہتے ہو، تو مجھے اپنی جیبیں ٹٹولنے کی اجازت دو…‘‘بانشی نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا’’…مگر یہ بیس روپئے میں نے میّاداس سے اُدھار لیے ہیں—‘‘’’اونہہ‘‘—پردھان جی نے کہا ’’رامے نے بھی اِتنے ہی روپئے میّاداس سے قرض لیے ہیں اور تم سود خوار، جو جاٹوں کو سیکڑوں روپیا قرضہ دیتے ہو،میّاداس سے بیس روپئے کی حقیر رقم کیوں لینے گئے تھے — ٹھیک … عذرِ گناہ بد تر از گناہ —‘‘لالہ میّا داس ، بانشی رام، رامے شاہ، نارائن مل اور اُن کے حواریوں نے شرم سے اپنی گردنیں جھکا لیں۔ حاضرین پانچ منٹ کے قریب خاموش رہے۔ اِس اثنا میں پردھان جی نے کاغذ پر کچھ لکھا۔ اُن لوگوں کے سوا سب نے وہ تحریر پڑھی اور اُس سے اتفاق کیا۔ تحریر تھا۔ ’’لالہ میّاداس سے مکمل عدم تعاون کیا جائے تا آں کہ اُن کے کرم اور اُچّار سے اُن کے شُدھ ہونے کا پتا چلے اور لالہ بانشی مل ، رامے شاہ، نارائن اور اُن کے ساتھیوں کو دو سال کے عرصے تک رائے دینے کے حق سے محروم رکھا جائے— جہیز کی رسم فی الحال جاری رہے‘‘۔چند ماہ بعد لوگوں نے دیکھا کہ میّاداس اپنے کاروبار کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ کر رُہل گانو چھوڑ رہا تھا۔ اُڑتی اُڑتی یہ خبر بھی پردھان کے کانوں میں پہنچی کہ رام بھُج دت نے اپنی لڑکی کا رشتہ لالہ میّاداس کے لڑکے سے اِس بنا پر توڑ لیا ہے کہ اِن لوگوں کی برادری میں نہیں بنتی۔

Share

sana jamshed

Add comment