Buzcorner
right way » blog » خالی سڑک ایک افسانہ

خالی سڑک ایک افسانہ

خالی سڑک: سخت گرمی پڑ رہی تھی دوپہر کا وقت تھا۔ سٹک بالکل سنسان تھی۔ وہ شلوار قمیض پہنے بڑی سی شال اوڑھے تنہا گھر کی طرف جارہی تھی۔ وہ پھر سے سامنے دکھائی دیا۔ لمبا قد کالی رنگت سرخ آنکھیں کندھے پر بیگ چہرے پر زخم کے نشانات وہ شامنے سے آرہا تھا۔ صنم کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی وہ سہم گئی۔ اس نے اپنے سکول بیگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا جب وہ پاس سے گزرا صنم کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا سانس پھول گئی اور تیز تیز چلنے لگی۔ وہ گھر کے قریب پہنچی تو اسے کچھ سکون ہوا۔ وہ اندر داخل ہوئی اور فورا دروازے کو لاک کر دیا۔ صحن سے اندر داخل ہوئی کرسی پر بیک پھینکا اور ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ دل کی دھڑکن اب بھی تیز تھی۔

اللہ پوچھے گا اسے نہ جانے مجھے کیوں روز نظر آ جاتا ہے۔

خالی سڑک

کس سے باتیں کر رہی ہو ؟ امی پاس آ کر بیٹھ گئیں اور اسے پانی کا گلاس دیا۔ وہی شیطان جو مجھے روز نظر آتا ہے اس نے پانی کا گلاس لیا ایک گھونٹ پیا تو کچھ سکون ملا۔ امی وہ بہت خطر ناک ہے جیسے ہی اس سڑک سے گزرو وہ پہنچھ جاتا ہے۔ کسی کو ایسے نہیں کہتے بس تم درود شریف پڑھا کرو۔ اللہ تمہاری حفاظت کر ے گا۔ امی نے سمجھاتے والے انداز میں کہا۔ آپ نے ابھی اسے دیکھا نہیں ہے ۔ صنم پھر وہی بات۔ امی نے پھر ٹوکا۔

خالی سڑک

آپ کو معلوم ہے نا حالات کتنے خراب ہیں۔ بس اب ابو اور بھائی سے مت کہنا ورنہ اس پرانے رکشے والے سے بولیں گے۔ جو منٹ کا فاصلہ گھنٹے میں طے کرتا ہے یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ رات کو سونے کے لیے لیٹی تو اس شخص کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ مجھے کیوں روز نظر آتا ہے شکر ہے میں باوضو ہو کر آیت الکرسی پڑھ کر گھر سے نکلتی ہوں۔ اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تو وہ بستر سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلی گئی۔ صاف کالے آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔ سامنے سڑک پر نظر پڑی وہی شخص دوبارہ نظر آیا۔ صنم ڈر گئی فورا کھڑکی بند کر دی۔ اگلے دن سکول میں اپنی دوستوں سے اس شخص کا ذکر کیا۔ وہ اس کے لیے فکر مند ہوئیں اور صنم کو طرح طرح کی نصیحتیں کرنے لگیں۔

خالی سڑک

آج موسم بہت خوشگوار تھا سردی کا موسم اپنے آنے کی اطلاع دے رہا تھا۔ آسمان پر صبح سے کالے بادل چھائے ہوئے تھے صنم بہت خوش تھی کیوں کہ آج جمعہ تھا اور آگے چھٹیاں تھیں اور ویسے بھی آج کے دن وہ اپنے بڑے بھائی کےساتھ گھر جاتی تھی۔ دونوں میں بہت دوستی تھی۔ اس کی ساری خوشی پر پانی پھر گیا جب ٹیچر نے آ کر بتایا ۔ صنم تمہارے بھائی کا فون آیا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ کام کی مصروفیت کی وجہ سے وہ نہیں آسکتا لہذا وہ خود گھر جائے۔ صنم کو اپنے بھائی پر بہت غصہ آیا پر کیا کر سکتی تھی۔ اچھے موسم کی وجہ سے اس کا موڈ بھی اچھا ہو گیا۔ سکول سے چھٹی ہوئی تو عروسہ نے گھر کی راہ لی۔ گھر قریب تھا اس لیے پیدل جاتی تھی۔ شروع میں دکانوں کی وجہ سے رش ہوتا اور آگے کی سڑکیں خالی ہوتیں ۔ آج بھی وہ معمول کی طرح گھر جا رہی تھی بجلی چمکی پھر اورزور سے چمکی۔ جیسے ہی اس لمبی خالی سڑک پر پہنچی دور سے وہی شخص نظر آیا۔ صنم کو بہت غصہ آیا ۔ اس نے اپنے منہ میں اسے گالیاں دیں۔

خالی سڑک

پرفیکٹ ٹائمنگ اتنا بد صورت انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ وہ اپنے خیالوں میں مگن تھی اور آہستہ آہستی چل رہی تھی۔ اسے علم نہ ہوا کہ کب ایک گاڑی اچانک اس کے پاس آکر رکی۔ اس کار سےدو آدمی اترے اور صنم کو پکڑ کر زبردستی کار میں لے جانے لگے۔ صنم کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی۔ گاڑی میں بیٹھے شخص نے ان دونوں کو جلدی کرنے کو کہا۔ وہ دونوں جوان اور طاقت ور اور ان دونوں کے درمیان ایک ننھی سی جان۔ صنم کی جتنی طاقت تھی اس نے لگا دی۔ پر ایک قصائی کے آگے ایک بکری کی کیا مجال۔ اس سے پہلے وہ دوبارہ چیخ مارتی ایک شخص نے اس کے منہ پراپنا رومال رکھ دیا۔ اتنے میں بارش ہونے لگی صنم کی ہمت جواب دے گئی۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں اسے لگا وہ بے ہوش ہونے والی ہے۔ اتنے میں کسی نے ایک زور دار اینٹ ان میں سے ایک کی کمر پر دے ماری۔ اب کی بار اس شخص کی چیخ بلند ہوئی ۔ وہ ذرا پیچھے ہٹا دوسرا شخص ڈر گیا کہ اس کے ساتھی کو کیا ہواہے ایک مکا ہوا میں بلند ہوا اور سیدھا اس کے منہ پر لگا۔ اس ہی بل اس کی ناک سے خون سے بہنے لگا۔ جیسے ہی گرفت دھلی ہوئی صنم سائیڈ پر گر گئی۔

اس شخص نے ان دونوں پر مکوں کی بارش کردی۔ جو آدمی گاڑی میں تھا اپنے دوستوں کو بچانے کے لیے وہ بھی گاڑی سے نکلا۔ پہلا شخص جو زمین پر گرا تھا وہ بھی اب کھڑا ہو گیا۔ وہ دونوں اس پر ٹوٹ پڑے پر اس نے بھی ہمت نہ ہاری صنم زمین پرلیٹی سب دیکھ رہی تھی۔ وہی شخص جسے کچھ دیر پہلے گالیاں دے رہی تھی اس کے لیے لڑ رہا تھا۔ زمین پر گرنے سے اس کے سر پر چوٹ لگ گئی۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا اور سر سے کوں بہنے لگا۔ اللہ کو نہ جانے کیا منظور تھا۔ ایک اور گاڑی پاس آکر رکی اس سے دو فرد نکلے وہ اور کئی نہیں صنم کے بھائی اور ابو تھے وہ بھی ان تینوں کو مارنے لگے۔ بھائی کی اطلاع پر پولیس وہاں پہنچی تب تک وہ اچھی خاصی چھترول کھا چکے تھے ۔ پولیس ن کو پکڑ کے لے گئی۔ قاری عمران نے اپنی بیٹی کو گاڑی میں ڈالا ۔ جب صنم کی آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال میں تھی اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ اورسر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ صنم اپنے ابو اور بھائی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔

شام ہو چکی تھی وہ اسے لے کر گھر آئے امی نے اسے فورا گلے لگا اور اس پر دمکرنے لگیں۔ اسے بستر پر لٹایا اور اسے کھانے کو دیا ابھی تک اسے ڈر لگ رہا تھا۔ وہ دوا کھا کر سو گئی۔ جب آنکھ کھلی تو سر میں کافی درد تھا۔ ہمت کر کے اٹھی اور باہر آگئی۔ وہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ جس شخص کو وہ شیطان کہتی تھی وہ اس کے گھر میں موجود تھا۔ صنم دروازے کے پیچھے چھپ گئی۔ ابو امی اور بھائی پاس موجود تھے اور اس کی خدمت کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص چلا گیا۔ صنم اپنے کمرے میں آ گئی۔ تھوڑی دیر بعد امی اس کے لیے دودھ لے کر اس کے کمرے میں آئیں۔ امی وہ ؟ صنم بیڈ پر بیٹھ گئی۔

فرشتہ وہ ایک فرشتہ ہے جس نے نہ صرف تمہاری بلکہ ہم سب کی زندگی بچا لی۔ امی کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔ قاری عمران کمرے میں داخل ہوئے اور صوفے پر بیٹھ گئے۔ کیسی طبیعت ہے؟ سر میں درد ہے عروسہ نے اپنی امی کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لیا ابو بتانے لگے۔ ہم کام سے پاس والی سڑک سے گزر رہے تھے ٹریفک بلاک ہو گئی اتنے میں بارش شروع ہوگئی ایک بزرگ وہاں آیا اور کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ ہم اسے پاس والے ہوٹل میں لے گئے۔

صنم بہت غور سے سن رہی تھی۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ گھر چلتے ہیں۔ بارش ختم ہو گی تو پھر کام پر نکلیں گے۔ اللہ کو شاید میری نیکی پسند آ گئی۔ ابو کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے۔ وہ فرشتہ شخص پاس محلے میں ایک بنگلے میں چوکیداری کا کام کرتا ہے پولیس والوں سے اس کی دوستی تھی۔ اس وقت وہ تینوں کم بخت جیل میں ہیں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ یہ کہہ کر قاری عمران اپنے کمرے میں چلے گئے۔ اگر وہ شخص ہماری مدد نہ کرتا تو اس وقت تم ہمارے پاس نہ ہوتی۔ امی پھر رونے لگیں۔

صنم میں تم کو ہمیشہ کہتی تھی نا کہ سر پر دوپٹہ لیا کرو۔ اس اے اللہ خوش ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے بندے کی حفاظت کرتا ہے۔ اور تم دوپٹہ کو بوجھ سمجھتی ہو گھر سے نکلنے سے پہلے وضو کیا کرو۔ آیت الکرسی پڑھو اور پھر سارا راستہ درود شریف پڑھا کرو اللہ تمہاری ہرموڑ پر مدد کرے گا۔

امی میں آئندہ سے خیال کروں گی۔ سارا راستہ درود شریف پڑھوں گی۔ امی اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ صنم بیڈ سے اٹھی واش روم گئی وضو کیا اور نماز ادا کی۔ سا شخص کے لیے خاص دعا کی۔ اس ذات کا شکر ادا کرنا بہت ضروری تھا۔ اٹھ کے کھڑکے کے پاس گئی۔ موسم بہت خوبصورت تھا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ درود شریف پڑھنا شروع کیا تو دل کو سکون مل گیا۔

رسول اللہ نے فریاما۔

قیامت کے دن میرے نزدیک ترین وہ لوگ ہوں گے جو سب سے بڑھ کر مجھ پر درود بھیجتے تھے۔

Share

Add comment