Buzcorner
right way » blog » جینے کے نئے انداز اپنانا ہوں گے

جینے کے نئے انداز اپنانا ہوں گے

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی حکومت کوویڈ 19 بحران کے دوران مسلم کارکنوں کو گرفتار کررہی ہے، جنھوں نے متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کورونا وباء کی وجہ سے شدید ترین مشکلات کا شکار ہے، جہاں اولین ترجیح انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا ہے، وہاں بھارت آج بھی مسلم دشمنی سے باز نہیں آرہا ، بلکہ کورونا وائرس پھیلانے کا بے بنیاد اور جھوٹا الزام لگانے کے ساتھ ساتھ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہا اور ایسے مردوں اور خواتین کو گرفتار کیا جارہا ہے، جنھوں نے شہریت کے قانون کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تھا، دراصل یہ قانون مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ایک خوفناک شکل ہے۔

بین الاقوامی

کشمیریوں پر ظلم وستم روا رکھنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں موجود اقلیتوں کے ساتھ بھی تشدد روا رکھا جا رہا ہے۔ مودی انتظامیہ نے بھارت کے چہرے پر سجا نام نہاد سیکولر ریاست کا ماسک بری طرح نوچ ڈالا ہے، کیونکہ 2004 ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں، اس لیے دنیا کو اس مہلک وائرس کے ساتھ ہی جینے کا ڈھنگ سیکھنا ہوگا اور آگہی و احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس کی ہلاکت خیزی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ سے بھی زائد ہوچکی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے،سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں۔پوری دنیا کا منظرنامہ تبدیل ہوتاجارہا ہے، رہن سہن کے طورطریقے اب بدلنے پر انسان مجبور ہوچلا ہے، معمولات زندگی کی نئی ترتیب انسانی بقا کے لیے ضروری ہے،جس جانب عالمی ادارہ صحت نے واضح الفاظ میں نشاندہی کی ہے، بنی نوع انسان کو زندگی بسر کرنے کے لیے اب نیا روڈ میپ ترتیب دینا پڑے گا ، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس پر ہم سب کو عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

بین الاقوامی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں جس قدر خطرہ لاک ڈاؤن سے ہے، اس سے کہیں زیادہ بھوک و افلاس سے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کورونا سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے، ہمیں اپنے فیصلے زمینی حقائق اورعوام کی حالت زار دیکھ کر کرنے ہیں۔ عمران خان پاکستانی عوام کے لیے حد درجہ فکر مند ہیں اور بارہا وہ اس کا برملا اظہاربھی کرتے ہیں۔ وہ خلوص نیت سے چاہتے ہیں کہ عام آدمی کی مشکلات میں کمی آئی ،معیشت کا رکا ہوا پہیہ رواں دواں ہوجائے۔ ان کے وژن کے مطابق لاک ڈاؤن میں ملک بھر میں نرمی عمل میں لائی گئی ، چھوٹی مارکیٹیں ہفتے میں چار دن کھولی گئیں، لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد محدود پیمانے پر بازار کھلے تو یہ بات واضح طور پر نظر آئی کہ بیشتر بازاروں میں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے جس پر کراچی اور لاہور کی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے بڑی مارکیٹس کو سیل کردیا۔ اس ضمن میںسیل کی گئی مارکیٹوں کے دکان داروں کا موقف ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد بازاروں کا رخ کررہی ہے، دکاندار اپنے طور پر اپنی حفاظت کے لیے ماسک اور دستانوں کا استعمال کررہے ہیں لیکن گاہکوں کے ہجوم کو قابو کرنا دشوار ہے، تجارتی مراکز کھولنے کے لیے محدود اوقات اور ہفتہ میں چار روز تجارت کی اجازت کی وجہ سے گاہکوں کا رش ہے ، جب کہ کراچی کے تاجروں نے رش کو کم کرنے کے لیے مختصر وقت کے بجائے 24 گھنٹے بازار کھولنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ محدود کاروباری اوقات اور بڑے مالز بند ہونے کی وجہ سے بازاروں میں گاہکوں کا رش ہے جسے قابو کرنا تاجروں کے بس کی بات نہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک ہم کاروبار بند رکھیں گے۔ ملکی معیشت دم توڑتی ہوئی محسوس ہورہی ہے، لہذا دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر ایس او پی پر عمل درآمد کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی وضع کریں، اور ذمے داری ضلعی انتظامیہ کو سونپی جائے ،کیونکہ تاجروں اور دکانداروں کے لیے عوام کے ہجوم کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے۔کاروبار چلے گا، تو ملک چلے گا، ہمیں اس سوچ کو اپنانا ہوگا۔ مارکیٹس کی بندش شدید نقصان دہ عمل ہے، وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ہر شہری حفاظتی تدابیر کو اپنائے اور رفتہ رفتہ ملکی معیشت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرے تب ہم سروائیو کرسکیں گے ورنہ معاشی مشکلات اور بے روزگاری ہمیں بحیثیت قوم جیتے جی ماردے گی۔ ہمیں جینے کی راہ تلاش کرنی ہے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی لازمی ہے۔

بین الاقوامی

حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو کاروبارکی بندش سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ، ٹرانسپورٹ کی بندش سے عام آدمی کا کاروبار اور نقل وحرکت شدید متاثر ہوئی ہے، صوبوں کو کم ازکم سستی ترین سواری ٹرین سروس کی بحالی کے لیے متفق ہوجانا چاہیے، احتیاطی تدابیرکو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرین سروس کی بحالی سے ملک کے لاکھوں عوام کی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی ، جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی سے ملک کے لاکھوں مزدور فیکٹریوں تک بآسانی پہنچ پائیں گے ، صنعتیں چلیں گی تو ملکی معیشت کو سہارا ملے گا، بصورت دیگرانتہائی بھیانک نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ انتہائی مجبوری میں ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک صوبے سے دوسرے صوبے جانے والے مسافر شدید ترین اذیت کا شکار ہیں، وہ ہزارہا روپے صرف کرکے پرائیویٹ کاروں ، رکشوں ، ٹریکٹر ٹرالیوں یا پھر ٹرالرز میں اذیت ناک حالت میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی امریکا نے فوری طور پر پاکستان کو ایمرجنسی کورونا وائرس معاونت کیلیے ترجیحی ملک قرار دیدیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق پاکستان اور امریکا میں صحت کے شعبے میں دیرینہ شراکت داری کا آغاز ہیلتھ کیئر ورکرز کو تربیت دینے اور 20لاکھ ڈالر کی فنڈنگ سے فوری ضرورت کی حامل لیب اور ایمرجنسی سپلائز فراہم کرنے سے ہوا ہے۔ حال ہی میں امریکا نے دوسرے مرحلے میں ان اہم ترجیحی امور میں اپنا تعاون بڑھایا ہے جن کی پاکستانی حکام کی طرف سے نشاندہی کی گئی تھی، اس ضمن میں امریکا پاکستان کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی امداد دیگا۔ یہ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان درمیان ہونے والی گفتگو کا مثبت نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ہیلتھ پارٹنرشپ کو فروغ دینے سے کورونا وائرس سے مربوط طریقے سے نمٹنے اور معیشت پر منفی اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ امریکا پاکستان کے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی معاونت کیلیے50 لاکھ ڈالر کی نئی امداد فراہم کر رہا ہے۔ امریکا نے غذائیت میں کمی کا شکار پاکستانی بچوںکیلیے 336میٹرک ٹن خوراک اور 50مراکز صحت کو آلات فراہم کیے ہیں۔ حالیہ امداد میں امریکا نے کورونا وائرس اور اس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلیے پاکستان کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی

مذکورہ بالا امدادی رقوم اور اشیاء کا استعمال اگر شفاف اور درست طریقے سے کیا جائے تو عام آدمی کی مشکلا ت میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ اسی طرح یورپی یونین نے بھی کورونا کی روک تھام کیلیے پاکستان کو 150 ملین یورو کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ جاپان نے بھی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کوششوں میں تعاون کی غرض سے پاکستان کو 5 لاکھ ڈالر امداد کی پانچویں قسط فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ امداد اقوام متحدہ کے دفتر برائے پراجیکٹ سروسز کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ دنیا بھر سے امداد ملنا ایک تو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار سے مطمئن ہیں اور موجودہ حکومت پر بھرپور انداز میں اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں حکومت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس امداد کے شفاف انداز میں خرچ کو یقینی بنائے۔ دوسری جانب وزیراعظم عالمی رہنماؤں کے ساتھ اس اپیل میں شامل ہوگئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا ویکسین تیار ہوجائے تو مفت دستیاب ہونی چاہیے۔ یہ اہم ترین اپیل ہے جس پر یقینا آنے والے وقت میں عملدرآمد ہوگا۔ اسی میں بنی نوع انسان کی فلاح اور بقا کا راز پوشیدہ ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ملکی سرحدوں کے پاسبان اور شعبہ صحت کے مسیحا مصروف عمل ہیں ، اس بات کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے کیونکہ ابتک کئی سو پیرامیڈیکل اسٹاف خود بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں کچھ ڈاکٹرز نے دوسروں کی جانیں بچاتے ہوئے اپنی زندگیاں قربان کردی ہیں۔ایک طرف تو یہ عملی جہاد جاری ہے لیکن دوسری جانب عوامی سطح پر ایسی غیر مصدقہ شکایات بھی منظرعام پر آرہی ہیں کہ جس میں کسی دوسری بیماری یا پھر عام طبعی موت کو بھی کورونا وائرس کے کھاتے میں زبردستی ڈالا جارہا ہے، لواحقین سے ڈاکٹرز،پولیس اہلکار اور قبرستان والے بھاری رشوت طلب کررہے ہیں ۔ہم ان سطور کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر واقعی ایسا ہو رہا ہے تو اس منفی عمل کا فوری انسداد کیا جائے۔

بین الاقوامی

Share

Mujahid

Add comment