Buzcorner
right way » blog » تیسری دنیا کی لڑکی

تیسری دنیا کی لڑکی

عائشہ ایک غریب گھر سے تعلق رکھتی تھی جہاں زندگی ابھی تک رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ مذہب، تہذیب اور روایت کے نام پر عورتیں نشانے پر تھیں۔ عائشہ زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ کھل کر ہنسنا، مسکرانا بلکہ جی بھر کر قہقہے لگانا اور زندگی کو مکمل طور پر جینا چاہتی تھی۔ اس کا دل چاہتا کہ اس کے پر نکل آئیں تو وہ اڑتی اڑتی کوہ قاف میں چلی جائے۔ گھر کے گھٹن زدہ ماحول میں اس کی بے سروپا باتوں پر ماں اکثر اسے برا بھلا کہتی۔ عائشہ بہت ذہین لڑکی تھی۔  ہر امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ کبھی اس کا دل چاہتا کہ وہ پائلٹ بن جائے اور کبھی وہ جرنلزم کی طرف متوجہ ہو تی مگر گھر میں اس کے کیرئیر ایسپیریشن کو کسی نے اہمیت نہیں دی۔   وہ چار بہنوں میں تیسرے نمبر پر تھی۔ والد ایک سرکاری دفتر میں معمولی تنخواہ پر ملازم تھے مگر مہنگائی کے اس دور میں تنخواہ ملنے سے قبل ہی اخراجات کی ایک طویل فہرست تیار ہوجاتی۔ عائشہ کی والدہ کو اگر سب سے زیادہ کسی کی فکر تھی تو صرف عائشہ کی، انہیں کبھی کبھی تو اس کی باتوں سے سخت حیرانی ہونے لگتی کہ خدا جانے یہ لڑکی کیا کرے گی۔

یہ عائشہ کی خوش قسمتی تھی کہ گریجویشن کرتے ہی ایک اچھےکھاتے پیتے گھرانے سے اس کے لیے شادی کا پیغام آ گیا۔ عدنان اس کی سہیلی کا کزن تھا اور عائشہ کو کسی خاندانی تقریب میں دیکھ کر اس کی شوخ شخصیت کا دیوانہ ہو گیا تھا۔ چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات ہو ئی عائشہ تو بغیر پروں کے ہی اڑ رہی تھی۔  عائشہ کا قدم عدنان کے لیے بہت خوش قسمت ثابت ہوا اور شادی کے چند ہی ماہ بعد کمپنی نے اس کی پوسٹنگ لندن میں کر دی۔ عائشہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ خوابوں کی تعبیر کبھی اتنی جلدی بھی ہو جاتی ہے۔ اے کاش کچھ اور خواب دیکھ لیتی تو سب ایک ساتھ ہی پورے ہو جاتے۔ وہ اکثر سوچتی!عائشہ کو لندن آئے تقریباً سات سال ہو چکے تھے۔ پہلا سال تو دونوں نے سیر سپاٹے کرنے میں گزار دیا۔ جی بھر کر لندن دیکھا۔

طویل ہنی مون ختم  ہوا توا اگلے چند سالوں میں دو گول مٹول بچوں نے اس کا سارا وقت اپنے نام کر لیا۔ عدنان اکثر بزنس ٹورز پر رہتے کبھی یورپ کبھی مڈل ایسٹ تو کبھی فار ایسٹ۔ ایسے میں عائشہ دو شرارتی بچوں کی دیکھ ریکھ کرتے ادھ موئی سی ہو جاتی۔ نہ کوئی عزیز نہ رشتہ دار کسی سے ڈھنگ سے میل جول بھی نہ بڑھا کیونکہ صرف چند ہی ایشیائی گھرانے ان کے علاقے میں تھے۔ زیادہ تر انگریز لوگ تھے۔ کتنا ارمان تھا کہ لندن جا کر کچھ مزید پڑھے گی اور جب وہاں سے ڈھیر ساری ڈگریاں سمیٹ کر واپس پاکستان آئے گی تو سب بہنوں اور سہیلیوں کو کیسی جلن ہو گی۔ مگر سب خواب آہستہ آہستہ ہوا میں اڑتے جا رہے تھے۔ عدنان سے شکایت فضول تھی کیونکہ وہ تو دن رات کولہو کے بیل کی طرح اپنے کام میں مصروف رہتا۔

Read This:  باز گشت

 عائشہ کوکتابوں سے شروع سے عشق تھا۔ یہاں بھی ہر ہفتے مقامی لائبریری میں جا کر کم از کم ایک درجن کتابیں ایشو کروا کر گھر لے آتی جنہیں پڑھنے کا وقت اسے کم ملتا۔ اکثر و بیشتر کتابیں اسے پڑھے بغیر ہی جرمانے کی رقم دے کر واپس دے آتی۔ ایسے میں اسے اپنے آپ پر بہت غصہ آتا کہ کہاں تو وہ کتابی کیڑا تھی مجال ہے کہ کوئی اخبار کا تراشہ بھی اس کی نظر بچا کر نکل جائے مگر اب ۔۔ جب وہ کتابیں واپس کرنے لائبریری جاتی تو شرمندہ شرمندہ سی کاؤنٹر پر کھڑی رہتی۔ جیسے ریسپشن پر کھڑی انگریز لڑکی کو پتہ چل گیا ہو کہ اس نے ان میں سے کوئی کتاب بھی نہیں پڑھی تھی۔ 

آج انہی سوچوں میں گم جیسے ہی وہ لائبریری کے ہال میں داخل ہوئی تو ایک بڑے سے رنگین پوسٹر کو دیکھ کر چونک سی گئی۔ “Speaking Poetry Session” کیا مطلب ہے اس کا؟ تو کیا کوئی گونگی پوئٹری بھی ہوتی ہے۔ ’’مارے تجسس کے اس نے اندر آتے ہی کاؤنٹر پر کھڑی انگریز لڑکی سے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے تو وہ اطمینان سے بولی کہ دراصل ان کی لائبریری پوئٹری کی پروموشن کے لیے نامزد ہوئی ہے۔ اب یہاں اکثر و بیشتر نامور شعرا اپنا کلام پیش کیا کریں گے۔ اس نے اگلا سوال داغ دیا، کیا صرف انگلش پوئٹری ہی ہو گی یا ملٹی لینگول شاعری بھی سننے کو ملے گی۔ ابھی تو میرے خیال میں انگلش پوئٹری سیشن ہی ہوں گے۔ بعد میں کچھ سلسلہ بن جائے تو الگ بات ہے مگر فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔  لڑکی نے شائستگی سے جواب دیا عائشہ کا تجسس ابھی تک برقرار تھا۔ یہ سپیکنگ پوئٹری کیا ہوتی ہے؟ اس نے بے تابی سے سوال کیا۔ ایک بہت مشہور سیاہ فام شاعرہ ہے جو یہاں اپنی پوئٹری پریزنٹ کرنے آ رہی ہے۔ وہ اتنے زبردست انداز میں اپنا کلام پیش کرتی ہے۔ لگتا ہے کہ ہال کے در و دیوار تک اس کے ساتھ مصرعہ دہرا رہے ہوں۔  لڑکی نے جواب دیا۔ شاعرہ کی اتنی زبردست قسم کی تعریف سن کر عائشہ نے پکا ارادہ کیا کہ وہ ضرور سپیکنگ پوئٹری سیشن اٹینڈ کرے گی۔ انگریز لڑکی نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی سیٹ پیشگی ریزرو کروا لے کیونکہ ممکن ہے کہ اس دن ہال میں کھڑے ہونے کو بھی جگہ نہ ملے۔ 

Read This:  آخری سٹاپ (پر پہنچنے والی لڑکی کی داستان)

عائشہ اپنی سیٹ ریزرو کروا کر بڑے فاتحانہ انداز میں لائبریری سے باہر نکلی جیسے لائبریری کی کتابیں ڈھنگ سے نہ پڑھنے کی اس نے آج تلافی کر دی ہو۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ تاریک سے روشنی میں آ گئی ہو۔ پوئٹری سیشن پر جانے کی تیاری اس نے ہفتہ بھر پہلے ہی شروع کر دی۔ بچوں کے لیے بے بی سسٹر کا انتظام کیا۔ اس روز صبح ہی صبح اٹھ کر تمام کام نپٹائے اپنے لیے سینڈوچ بنائے۔ فلاسک میں کافی ڈالی۔ ساتھ میں کولڈڈرنکس بھی رکھ لیے۔ گویا آج اس کا پوئٹری انجوائے کرنے کا زبردست پروگرام تھا۔  دو بجنے میں ابھی وقت تھا کہ وہ لائبریری چلی گئی تاکہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر تقریب سے اچھی طرح لطف اندوز ہو سکے۔ ابھی صرف چند ہی لوگ ہال میں آئے تھے۔ آہستہ آہستہ ہال بھرنا شروع ہو گیا۔ عائشہ سوچ رہی تھی کہ ہال کی آرائش کتنی سادہ سی ہے۔ بس دیوار پر شاعرہ کے نام کا ایک بینر۔ نہ اسٹیج پر میز نہ کرسیاں۔ بس ایک چھوٹی سی تپائی اور مائیک۔ پانی کا جگ اور گلاس، یہی کل کائنات تھی۔

 ٹھیک دو بجے منتظمین نے مائیک پر آ کر حاضرین کو ویلکم کہا اور شاعرہ کا مختصر سا تعارف کروایا۔ اس کے ساتھ ہی ہال کی روشنیاں قدرے مدھم ہو گئیں۔ ماحول کچھ خوابناک سا ہو گیا تھا۔ اچانک اسے اسٹیج کی ایک جانب سے آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئی ایک شبیہ سی نظر آئی ابھی وہ اندھیرے میں اسٹیج پر نظر آنے والے ہیولے کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ اچانک سٹیج سے ایک زور دار نعرہ بلند ہوا۔ عائشہ اس اچانک حملے کے لیے بالکل تیار نہ تھی اور کرسی سے تقریباً گرتے گرتے بچی۔ ہال میں باقی حاضرین کی بھی کم و بیش یہی کیفیت تھی اتنے میں اسٹیج کی روشنیاں ذرا تیز ہو گئیں اور بیک گراؤنڈ میں ہلکا ہلکا سا میوزک شروع ہو گیا۔ شاعرہ کی شبیہ اب واضح ہو چکی تھی یہ ادھیڑ عمر کی دبلی پتلی سیاہ فام عورت تھی۔ بغیر کسی تمہید کے اس نے آتے ہی نہایت ڈرامائی انداز میں پوئٹری پیش کرنی شروع کر دی۔ اس کا جوش و جذبہ دیدنی تھی۔ جیسے اس پر شاعری نازل ہو رہی ہو۔ ایک کے بعد ایک نظم۔ ہاتھ ہلاتی۔ سٹیج پر گھوم گھوم کر بل کھاتی شاعرہ کی سیاہ رنگت جوش خطابت سے اور چمک رہی تھی اوپر سے میوزک کا زیر و بم، پوئٹری واقعی بول رہی تھی۔ ہر نظم کے اختتام پر حاضرین بھرپور تالیاں بجا کر اسے داد دے رہے تھے۔ ہال میں ایک مسحور کن ماحول تھا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو۔ اب شاعرہ نے اپنی آخری نظم ’’تھرڈ ورلڈ گرل‘‘ یعنی تیسری دنیا کی لڑکی سنانی شروع کی۔ بہت پاورفل نظم تھی۔ ہال میں مکمل سناٹا چھا گیا ایک کے بعد ایک مصرعہ۔ سوچ پر تازیانے کا کام کر رہا تھا۔’’میں تیسری دنیا کی لڑکیاک نا تراشیدہ ہیرااک نا دریافت موتیمیرے عہد سے بہت پہلےمجھے میرے خواب سے جگا دیا گیامیرے اندر۔۔۔۔ کئی ان کہی کہانیاں مچل رہی ہیں میں جوان۔ نا جہاندیدہ۔۔۔۔ مگر پیدائش سے پہلے ہی عمر رسیدہ!

Read This:  گڈریا مکمل اردو افسانہ

‘‘’’میں تیسری دنیا کی لڑکی۔۔۔ ‘‘ یہ مصرعہ وہ بار بار دہرا رہی تھی۔ تیسری دنیا کی لڑکی کی سسکیاں صاف سنائی دے رہی تھی۔ زبردست ہیجانی کیفیت میں مبتلا۔ بے کل، مضطرب۔ بے چین جیسے بھٹکی ہوئی روح۔ جیسے بارش کا قطرہ سیپ میں بند ہو کر موتی میں تبدیل ہو رہا ہو۔۔۔ کوئلہ ہیرا بننے کے عمل سے گزر رہا ہو۔۔۔ جیسے تخلیق کے کرب سے دوچار۔۔۔۔ درد زہ میں مبتلاوہ بچہ جننے کے آخری مرحلے تک آ پہنچی ہو۔اسی جوش و جذبے اور ہیجان میں سیاہ فام شاعرہ اسٹیج کے کنارے کے بے حد قریب آچکی تھی۔ چشم زدن میں وہ دھڑام سے اسٹیج سے نیچے تاریکی میں جا گری۔ سپیکنگ پوئٹری یک لخت خاموش ہو گئی۔ سب ہیرے موتی بکھر گئے۔ کہانی ادھوری رہ گئی۔ تیسری دنیا کی لڑکی پھر تاریکی میں جا گری تھی۔ کیا تھرڈ ورلڈ گرل کبھی اندھیروں سے باہر نکل سکے گی؟ عائشہ یہ سوچتی ہوئی۔ آنسو پونچھ کر ہال سے باہر نکل آئی۔

Share

sana jamshed

Add comment