Buzcorner

تجربہ کار شخص سے چالاکی اکثر مہنگی پڑ جاتی ہے

کسی گاؤں میں ایک نواب صاحب ہوا کرتے تھے وہ بہت بڑی جائیداد اور زمینوں کے مالک تھے اور ان کی زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی آس پاس کے لوگ بھی نواب صاحب سے بہت خوش تھے ایک دفعہ نواب صاحب بیمار ہوگئے اور اسی بیماری میں ان کا چھوٹا پیشاب بند ہوگیا قریب کے سارے حکیم اور اطباء نے اپنے تمام نسخے آزما ئےمگر نواب صاحب کو کسی طور آرام نہ آیا تنگ آ کر نواب صاحب نے اپنے ملازم حکیم سے کہا کہ وہ قریب کے گاؤں میں اعلان کروادے کہ جو ہمیں اس بیماری سے نجات دلائے گا ہم اسے سو اشرفیاں انعام دیں گے۔

بہت سے لوگ انعام کے لالچ میں نواب صاحب کا علاج کرنے کے لیے آئے مگر کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا نواب صاحب کی تکلیف دن بہ دن بڑھتی جا رہی بڑھتی جا رہی تھی مگر کوئی بھی حکیم ان کاعلاج تلاش نہ کر سکا ایک دن ایک بزرگ خستہ حال میں حویلی کے گیٹ پر پہنچے اور دربان سے اندر جانے کی اجازت مانگی دربان نے بزرگ کا حلیہ دیکھ کر انھیں بھگانا چاہا مگر بزرگ بضد رہے کہ انھیں نواب صاحب سے ملنا ہےبڑی مشکل سے تمام دربانوں نے ان بزرگ کو نواب صاحب کے پاس جانے کی اجازت دی وہ بزرگ نواب صاحب کے پاس پہنچے اور علاج  کرنے کی اجازت چاہی۔

نواب صاحب نے ان کا حلیہ دیکھ کر بے دلی سے اجازت دے دی ان بزرگ نے خربوزے منگوائے اور چھیل کر نواب صاحب کو کھلانا شروع کر دیئے ابھی نواب صاحب نے دو خربوزے کھائے ہونگے کہ انھیں پیشاب کی حاجت ہوئی اور وہ جلدی سے استنجا خانے کے جانب چلے گئے اور جب  واپسی ہوئی تو ان کے چہرے کا سکون بتا رہا تھا کہ وہ تکلیف سے نجات حاصل کر چکے ہیں ان بزرگ نے نواب صاحب سے ان کا حال پوچھا اورتسلی ہونے پر اجازت لی اور اپنا انعام طلب کیا نواب صاحب نے بخوشی 100اشرفیاں ان بزرگ کو دے دی نواب صاحب کا ملازم حکیم یہ دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر یہ علاج اس کے دماغ میں آجاتا تو یہ اشرفیاں ابھی اس کو مل چکی ہوتی۔

بزرگ اپنا انعام لے کر اپنی راہ چل پڑے  اور جاتے جاتے دربان کو اپنا پتہ بھی بتا گئے نواب صاحب صحت مند ہو کہ بہت خوش تھے اورانھوں نے ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا جس میں ہر خاص و عام کومدعو کیا گیا کچھ ماہ بعد نواب صاحب اسی تکلیف میں دوباہ مبتلا ء ہو گئےہر طرح کا علاج کے باوجود بھی ان کی تکلیف دور نہ ہوئی تو انھوں نے دوبارہ منادی کی تجویز دی ان کے حکیم نے کہا کہ بلا وجہ سو اشرفی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں آپ خربوزے منگوائیے میں ابھی علاج کر دیتا ہوں نواب صاحب کے حکم پر دوبارہ خربوزے لائے گئے اور حکیم صاحب نے نواب صاحب کو خربوزے چھیل کر کھلانے شروع کر دئیے مگر اب کی بار خربوزے کھا کر بھی نواب صاحب کی حالت نہ سدھر سکی اب حکیم بھی پریشانی میں مبتلا ء ہو گیا کہ اشرفیوں کے لالچ میں وہ کس مصیبت کو دعوت دے بیٹھا ہے وہ بھاگا بھاگا حویلی سے باہر آیا اور سب ملازمین کو جمع کرنے کے بعد منادی کا حکم سنایا۔

دربان نے جب یہ سنا تو اس نے بتایا کہ وہ حکیم کا پتہ جانتا ہے وہ اسے پکڑ کر لے آئے گا حکیم نے اسے فوراً ان بزرگ کو لانے کا کہا  پھر حکیم اور نواب دونوں بے چینی سے بزرگ کا انتظار کرنے لگے بزرگ نواب صاحب کے پاس پہنچے اور ان کی حالت دیکھ کر خربوزے لانے کا کہا نواب صاحب کے حکیم نے کہا کہ وہ نواب صاحب کو خربوزے کھلا چکا ہے بزرگ بضد رہے کہ خربوزے دوبارہ لائے جائیں بلآخر ان کی ضد سے مجبور ہر کر نواب صاحب نے خربوزے لانے کا حکم دیا نواب صاحب کو حاجت محصوس ہوئی اور وہ اپنی حاجت روا کرنے گئےواپسی پر نواب صاحب نے بزرگ کو گلے سے لگا لیا اوراب کی بار ان کی خدمت میں دو سو سونے کی اشرفیاں پیش کی بزرگ نے وہ اشرفیاں لینے سے انکار کر دیا اور جانے کی رخصت مانگی۔

نواب صاحب نے کہا کہ پہلی بار جب میری طبیعت خراب ہوئی تھی تو آپ نے مجھے خربوزے کھلائے اب کی بار طبیعت خراب ہونے پر وہی علاج میرے حکیم صاحب نے کیا تو اس نے اثر ہی نہ کیا لیکن آپ نے آ کر پھر خربوزے سے ہی علاج کر دیا بزرگ نے جواب دیا کہ پہلے جب آ پکی طبیعت خراب ہوئی تھی تو اس موسم میں خربوزے کا گودہ فائدہ مند تھا اور اس موسم میں خربوزے کا چھلکا فائدہ دیتا ہے میرے لیے سو اشرفیاں ہی بہت ہیں یہ اشرفیاں آپ میری طرف سے اپنے حکیم صاحب کو دے یں نواب صاحب کا حکیم بزرگ کی بات سن کر دل ہی دل میں شرمندہ ہوا بزرگ سے معافی کا طلبگار ہوا اور انکی شاگردگی اختیار کر لی

Share

sana jamshed

Add comment