Buzcorner
right way » blog » (بے غرض رشتے (ایک کہانی

(بے غرض رشتے (ایک کہانی

حقیقی رشتوں کی خاطر اپنا دل توڑنے والے ایک فرمانبردار لڑکے کا سبق آموز قصہ۔

آج بھی وہ بے چین نظروں سے اسے تلاش کر رہا تھا۔ جیسے ہی عاصم نے آواز سنی تو وہ حسب معمول لان کے دائیں طرف پہلے بنچ پر بیٹھی افشاں کے ساتھ محو گفتگو تھی۔ وہ ہلکے نیلے رنگ کے لباس میں دوپٹہ اوڑھے بڑی خوبصورت لگ رہی تھی۔ عاصم کو اس کی ہنسی بہت پیاری لگتی تھی۔ عاصم اسے دور سے دیکھتا رہتا۔لیکن اپنی چوری پکڑے جانے پر فوری اپنا دھیان دوسری طرف کر لیتا۔ وہ ایک لمحہ آہستہ آہستہ عاصم کی زندگی کا کل کائنات بن گیا۔ وہ سوچتا کچھ رشتے اور تعلق روح کے بندھن بن جاتے ہیں۔ جن سے انسان چاہ کر بھی دور نہیں جا سکتا۔عاصم جب اپنی مشقت بھری زندگی پر نظر ڈالتا تو اپنے ارد گرد ذمہ داریوں کا طوفان سا دیکھتا جو ہر آنے والے دن شدید تر ہو رہا تھا۔

دل توڑنے والے

عاصم دراصل پشاور کے ایک گاؤں کا رہنے والا تھا۔ چار بہنوں اور والدین کا اکلوتا سہارا تھا۔ یہ چھ رشتے ہی عاصم کی کل کائنات تھے۔ والد نے بیٹے کو شہر پڑھنے بھیجنے سے پہلے بھائی کی بیٹی کے ساتھ منگنی کارشتہ قائم کر دیا تھا۔ انہیں خوف تھا شہر جا کر وہاں کی پڑھی لکھی لڑکیوں سے متاثر ہو کر بیٹا گاؤں کی مٹی سےتعلق توڑ نہ دے۔ صدیوں سے آباد اس کے آباؤ اجداد نے وہیں اپنی زندگیاں تمام کی تھیں۔عاصم چچا زاد سے رشتے پر خوش نہ تھا مگر بوڑھے باپ کا جھریوں زدہ چہرہ دیکھ کر انکار نہ کر سکا۔ ماتھے کی ایک ایک شکن میں اولاد کے لیے دی گئی قربانیوں کی داستان رقم تھی اور جس کے ہاتھوں کی مشقت کی بدولت وہ آج ایک تناور درخت بن گیا تھا۔ کبھی کبھی انسان دوسروں کے لیے اپنی زندگی سوچ ذات سب کچھ واقف کر دیتا ہے شاید یہی ہمارے مالک کی رضا ہوتی ہے۔

عاصم نے بھی اپنے رشتوں کی خاطر دل میں مچلتی خواہشات کو ختم کر دیا تھا۔ چار بہنوں کا بوجھ کاندھوں سے اتارنے کی لگن میں اور والدین کو پر آسائش بڑھاپا دینے کے لیے عاصم نے گاؤں کی تعلیم کے بعد شہر کا رخ کیا۔ کالج میں پوزیشن لے کر اس نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں داخلہ لیا جہاں افشاں عاصم کے لیے جدوجہد زندگی کی تھکان میں راحت کا باعث بن گئی۔ عاصم میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ افشاں سے بات کرے۔ اپنے جذبات بتا سکے مگر وہ بتا نا بھی تو نہ چاہتا تھا کیوں کہ وہ یہاں کسی رشتے کو بنانے نہیں بلکہ پرانے رشتوں کو مضبوط کرنے کی لگن میں آیا تھا۔ یونیورسٹی میں اس کے دو چار دوست بھی تھے جو عاصم کے ساتھ ہوسٹل میں رہتے تھے۔ وہ بھی دوسرے شہروں سے آۓ تھے اور معصومیت سے بھرے ہوۓ۔ لاہور کی رنگینیوں اور ماحول دیکھ کر خوش کم اور حیرت زدہ زیادہ ہوتے۔ ان کی توجہ تعلیم کا مرکز تھی۔

روز و شب کی محنت کے بعد عاصم انجینئرنگ کے ہر سال اول آنے والے طالب علموں میں شمار ہوتا۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب یونیورسٹی اور ہاسٹل کو خیر آباد کہنا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی روح کی جڑیں یہیں کہیں ہیں۔ آج اجنبی ماحول چھوڑتے ہوئے عاصم کو تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ جانے اسے ایک دن پہلے اسے افشاں بھی نظر آئی۔ پسندیدگی اور محبت کا اظہار اس کی نظروں میں تو موجود تھا مگر زبان تک کبھی نہ آیا۔ افشاں کو اس بات کی خبر ہی نہ تھی کہ کوئی اس سے روح کا گہرا تعلق استوار کر چکا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد عاصم گاؤں واپس آگیا اور کچھ دن وہاں رہا۔ وہ مختلف جگہوں پر ملازمت کی خاطر درخواستیں بھی بھجواتا رہا۔ وہ بوڑھے باپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔ ماں اور بہنیں اس پر صدقے واری جاتی تھیں اور خوب خاطر مدارت کرتی کہ ان کا بھائی چند دنوں کا مہمان ہے ۔ ملازمت ملی تو پھر کئی دن بعد گاؤں کا چکر لگا یا کرے گا۔

دل توڑنے والے

ایک دن عاصم گھر میں بیٹھا نوکری کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس کی چھوٹی بہیں ہاتھ میں ایک لفافہ پکڑے ہوئے آئی اور بولی اس میں دیکھو کیا ہے۔ اس نے کھول کر دیکھا تو اس میں ایک کمپنی کی طرف سے نوکری کی پیشکش کا خط موجود تھا ۔ عاصم کو بہت اچھا لگا کہ جس پیڑ کو اس کے باپ نے پوری زندگی پانی دیا اس پر اب پھل لگنے کا وقت آگیا تھا۔ سب بہنوں نے مل کر اس کا بیگ تیار کیا کیوں کہ صبح اسے اسلام آباد جانا تھا۔ پشاور سے اسلام آباد کا سفر اس نے بڑی بے تابی سے گزارا اور اسلام آباد پہنچ کر اپنے ایک دوست کے ساتھ کمپنی جا پہنچا۔ عاصم کو جس تنخوا ہ کی پیشکش ہوئی وہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ تھی۔ وقت گزرتا رہا عاصم نے اپنی دو بہنوں کو اکٹھے رخصت کیا۔ اب اس کی ذمہ داری کچھ کم ہو گئی تھی۔ جب بھی وہ گھر آتا ماں اس کی منگیتر کی بات چھیڑ دیتی وہ پریشان ہو جاتا اور یہ کہ کر ٹال دیتا کہ ابھی دو چھوٹی بہنوں کو رخصت کر دوں تب دلہن گھر لاؤں گا۔

یہ سن کر ماں چپ ہو جاتی پر سوچتی کہ منگنی کو سات سال ہو گئے ہیں اور یہ شادی کا نام ہی نہیں لیتا۔ عاصم کے دل میں افشاں کا خیال ختم تو نہیں ہوا مگر وقت کی گرد نے مدھم ضرور کر دیا تھا۔ آخر وہ دن بھی آگیا جب اس کی دو چھوٹی بہنوں کی شادیاں تھیں۔ دفتر میں نئے ملازمین کے انٹرویو ہورہے تھے۔ وہ اپنے افسر سے چھٹی لے کر پشاور آگیا کیوں کہ وہ انٹرویو لینے والوں میں شامل تھا۔ شادی سے فارغ ہونے کے بعد اس کے والد نے کہا کہ اب میں بہو گھر لانے کی تیاری کروں گا تم بھی چلے گئے تو ہم کیا کریں گے۔ اس نے اپنے ماں باپ کو تسلی دی شادی کی ہامی بھری اور واپس اسلام آباد چلا گیا۔ کافی دن بعد جب وہ آفس پہنچا تو ایک نئے چہرے کو دیکھ کر وہ ساکت ہو گیا۔ جس سے وہ بار بار دامن بچا کر گزرتا تھا وہی شناسا چہرہ اس کے سامنے مسکرا رہا تھا۔ افشاں نے اس کی غیر موجودگی میں اسی کمپنی میں ملازمت کر لی تھی۔ اب وہ بھی عاصم کی طرح اس کا حصہ تھی۔ عاصم انہیں خیالوں میں گم تھا جبکہ افشاں خوش تھی کہ کوئی شناسا چہرہ مل گیا تھا مگر وہ افشاں کے سامنے جانے سے کترانے لگا تھا۔ بہت کم بات کرنے کی کوشش کرتا اس کی راتوں کی نیندیں اڑچکی تھیں۔ مسلسل ایک ماہ تک کشمکش کی کیفیت سے دو چار رہنے کے بعد اس نے ایک فیصلہ کیا کہ اسے یہ نوکری چھوڑ دینی چاہیے ۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا ماں باپ نے جہاں منگنی کر رکھی ہے وہ تعلق کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ منگیتر سات سال سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ عاصم نے سوچا میرا تو دل کا تعلق ہے اسے توڑ تے ہوئے صرف مجھے تکلیف ہو گی جبکہ والدین کے باندھے گئے رشتے کے ٹوٹنے پر کئی دل دکھی ہوں گے۔ چنانچہ عاصم نےذاتی مجبوریاں ظاہر کرتے ہوئے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔

وہ مختلف جگہوں پر ملازمت کے سلسلے میں درخواستیں بھیجتا رہا آخر اسے لاہور میں ایک اچھی کمپنی میں نوکری مل گئی اور اس کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔ اب وہ مطمئن اور پر سکون تھا کہ اس نے اپنے حقیقی رشتوں کے ساتھ دھوکا نہیں کیا۔

Share

Add comment