Buzcorner
right way » blog » بھولا ہوا سبق ایک ایمان افروز قصہ

بھولا ہوا سبق ایک ایمان افروز قصہ

بھولا ہوا سبق بیٹے نے اپنے باپ کو فراموش کردہ فرض یاد دلایا ایک ایمان افروز قصہ

بھولا ہوا سبق :

پہلے وقاص کی آمدنی اتنی تھی کہ گزارا ہو رہا تھا۔ اب وہ پریشان رہا کرتا تھا کہ اتنی کوشش کے باوجود وہ کوئی بچت کیوں نہیں کر پا رہا۔ اکثر وہ اس حوالے سوچتا کہ آکر کیا وجہ ہے لیکن اسے کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی تھی۔ وقاص کے دو بیٹے تھے کامران اور فہد ۔وقاص کی بیوی نورین تعلیم یافتہ خاتون تھی وہ بھی اپنے شوہر کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی اور گھریلو اخرجات محدود کرنے کی کوشش میں محو رہتی۔ اپنی اس کوشش میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی تھی۔ اس لیے تو ان کے گھر کا نظام جیسے تیسے چل رہا تھا۔ نورین نے کہیں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ وہ اس میں دلچسپی رکھتی تھی۔ وہ تو بس اپنا گھر سنبھالنے کو ترجیح دیتی تھی۔ نورین ذراسخت مزاج کی خاتون تھی اس لیے اکثر وقاص پر اپنی مرضی مسلط کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتی۔

بھولا ہوا سبق :

وقاص کے ساتھ اس کے والدین بھی رہتے تھے۔ ان کی عمریں کافی تھیں اور اپنے زیادہ تر کاموں کے لیے انہیں دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑتی تھی۔ تب وقاص اپنے باپ کا خیال رکھتا تھا کامران اور فہد بھی اپنے دادا ابو کے کام بھاگ بھاگ کر کرتے تھے۔ وہ اپنے دادا ابو سے بہت پیار کرتے تھے۔ نورین اپنے سسر سے بہت تنگ تھی۔ وہ اسے اپنے اوپر بوجھ سمجھتی تھی لیکن وقاص اسے سمجھاتا رہتا کہ والدین تو اولاد کے لیے بہت نعمت ہوتے ہیں۔ ان کی خدمت کرنی چاہیئے تا کہ اللہ تعالیٰ خوش ہو اور اپنی رحمتیں نازل کرے۔ لیکن وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی اسے یہ بات بھی پسند نہیں تھی کہ کامران اورفہد اپنےدادا کے پاس کیوں جاتے ہیں۔ وہ اکثر انہیں منع کرتی رہتی لیکن بچے تو من کے سچے ہوتے ہیں وہ وہیں زیادہ جاتے ہیں جہاں سے انہیں پیار ملتا ہے۔

بھولا ہوا سبق :

وقاص تنگی کے باوجود محنت کرتا رہا کیوں کہ اسے اس عمل پر یقین تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حالات میں بہتری آتی گئی۔ جس گھر میں وہ رہتے تھے وہ اس کے والد کا اور کافی بڑا تھا۔ وقاص نے اپنے والد سے مشورہ کیا اور وہ گھر بیچ دیا وہ گھر خریدار کو بہت پسند آیا اور اس نے کسی بحث و مباحثے کے بغیر انہیں ان کی مطلوبہ رقم فراہم کر دی وقاص کو اس کی توقع سے زیادہ رقم مل گئی اس نے اس رقم سے ایک اچھے سے علاقے میں جگہ خرید کر جدید گھر بنوایا۔ نیا گھر انہوں نے ایک نئی آباد ہونے والی کالونی میں لیا تھا اس کالونی میں ہر سہولت موجود تھی انہوں نے اپنے نئے گھر کو بڑے زبردست طریقے سے سجایا ۔ گھر میں قالین بھی بچھ گیا اور نیا فرنیچر بھی آگیا تھا۔ پردے بھی لگ گئے نورین کی نظر میں اگر اس گھر میں کچھ پرانا تھا تو وہ وقاص کے والد تھے۔ وہ اس کوشش میں تھی کی کسی طرح ان سے جان چھوٹ جاۓ۔

Read This:  خود غرض

بھولا ہوا سبق :

ایک دن نورین نے وقاص سے کہا میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔ ہاں بولو یہ سن کر وہ ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بولی کہ میری بات کا برا نہ منانا اگرآپ ابو جی کو اوپر والے کمرے میں لے جائیں تو ہم انہیں کھانا وہیں پہنچا دیا کریں گے۔ یہ سن کر وقاص چونک پڑا اور بولا یہ کیا کہ رہی ہو ؟ دیکھیں جی وہ اب بوڑھے ہوچکے اور انہیں کچھ پتا نہیں چلتا کہ وہ کہاں بیٹھے کیاکر رہے ہیں۔ ہر وقت کھانستے اور بلغم تھوکتے رہتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے بچے بیمار نہ ہو جائیں۔ نورین اس عمر میں ایسے مسائل تو ہو ہی جاتے ہیں۔ رہی بات بچوں کی تو وہ ان کے ساتھ وقت گزراتے ہیں یہ اچھی بات ہے ابو جی ان کی اچھی تربیت کر رہے ہیں۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہمارے ہاں اکثر مہمان آتے رہتے ہیں ان کے سامنے مجھے بہت شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے وہ ابو جی کو کھانستے اور بلغم تھوکتے ہوئے دیکھتے ہیں تو عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے ہیں ایک اور بات بھی ہی۔ نورین نے بات ادھوری چھوڑی تو وقاص چونک کر بولا وہ کیا ؟

آپ دیکھیں کہ میں اس گھر کی بھلائی کے لیے کچھ بھی کروں ابو جی کو اعتراض ہو تا ہے کہ یہ فضول خرچی ہے ان کی اس روک ٹوک سے مجھے اکثر شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ یہ سن کر وقاص اسے پرخیال انداز میں دیکھنے لگا اصل میں وقاص ایک ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ آج کا دور مقابلے کا دور ہے اس لیے وہ اضافی وقت لگا رہا تھا تا کہ مالکان خوش ہو کر اسے ترقی دے دیں ویسے بھی وہ اس بات کا حق دار تھا لیکن جانے کیوں ابھی تک اسے ترقی نہیں مل رہی تھی۔ اس کے پاس اب وقت ہی نہیں ہوتا تھا کہ کچھ دیر کے لیے اپنے باپ کے پاس جا کر بیٹھ جاۓ کئی کئی دن گز جاتے اور وہ اپنے والد کو نظر نہ آتا۔ اسے خاموش دیکھ کر نورین نے پوچھا پھر کیا سوچا آپ نے بیوی کی بات سن کو وہ بولا جیسا چاہو کر لو یہ سن کر اس کی بیوی خوش ہو گئی اس کی تو جیسے دلی مراد پوری ہو گئی ہو۔

Read This:  تیسری دنیا کی لڑکی

اس نے اسی دن اپنے سسر کو اس کے بستر سمیت اوپر والے کمرے میں پہنچا دیا پھر کچھ دنوں بعد اس نے اسن کے برتن بھی الگ کر دیےتا کہ دوسرے برتن آلودہ نہ ہوں۔ ابھی بھی اس کا دل نہ بھرا تھا کچھ ہی دن گزرے تھے کہ وہ اوپر چڑھنے اور نیچے آنے سے تھک گئی اور بے زار ہو کر اپنے شوہر سے کہنے لگی ۔ میں اورمیرے بچے ابو جی کے لیے کھانہ لانے اور لیجانے میں تھک گئے ہیں اچھا پھر کیا کیا جاۓ وقاص کو بھی اپنی بیوی اور بچوں کا احساس ہو رہا تھا۔ میرا خیا ل ہے کہ آپ انہیں نیچے لے آئیں اور سٹور والا کمرہ دے دیں ۔ یہ سن کر وقاص بولا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔ اجازت ملنے کی دیر تھی کہ اس نے سسر کو نیچے اتارا اور سٹور میں پہنچا دیا۔ ان کے کپڑے اور ضرورت کی چیزیں پاس رکھ دیں ساتھ ہی کھانے پینے کے برتن بھی رکھ دیے۔ یوں ہی کئی دن گزر گئے۔

ایک دن وہ سب دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھے اس دن اتوار تھا۔ اس لیے وقاص بھی گھر پر موجود تھا اچانک فہد بولا پاپا جب دادا فوت ہوجائیں گے تو میں ان کے برتن سنبھال کر رکھوں گا یہ سن کر وقاص حیرت سے بولا بیٹا تم ان کا کیا کرو گے؟ جب آپ دادا جان کی طرح بوڑھے ہو جائیں گے تو میں آپ کےلیے اس میں کھانا رکھا کروں گا۔ یہ سن کروقاص نے جو لقمہ منہ میں ڈالا تھا وہ اس کے حلق میں اٹک گیا اور اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اسی وقت اسے اللہ تعالیٰ کا فرمان یاد آگیا کہ اپنے والدین کے ساتھ احساس کرو۔ اسے ایک حدیث مبارکہ بھی یاد آگئی جو اس نے کہیں پڑھی تھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

باپ کی خوشی میں اللہ تعالیٰ کی خوشی اور باپ کی ناراضی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے۔

وقاص کو فورا ہی احساس ہو گیا کہ جب وہ بچہ تھا اور اپنا کوئی کام کرنے کے قابل نہیں تھا تو والدین نے اس سے منہ نہیں موڑا تھا آج جب اس کے والد پر بڑھاپے کی وجہ سے وہی وقت آیا اور اسے وقاص کی اشد ضرورت تھی تو اس نے اپنی بیوی کی باتوں میں آکر اپنے والد کو اپنے آپ سے دور اسٹور میں منتقل کر دیا اس کے والدین نے تو اپنا فرض خوش دلی سے پورا کر دیا اور جب وقت آیا کہ وقاص اپنا فرض ادا کرے تو والدین کے حقوق بھول بیٹھا وہ فیصلہ کن لہجےمیں بیوی سے بولا سنو اب سے میں کھانا اور چاۓ ان کے ساتھ ہی کھایا پیا کروں گا۔ اس کی بیوی ہکا بکا ہوکر اسے دیکھنے لگی۔ وقاص اٹھ ہی رہا تھا کہ اسے ایک اور خیال آیا وہ پھر بیٹھ گیا اور بولا بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ ہم سب مل کر ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اس کی لہجہ ایسا تھا کہ اس کی بیوی کو کچھ بولنے کی ہمت نہ ہوئی ابو کی بات سنتے ہی کامران بھا گ کر گیا اور اپنے داد ابو کو بلا لایا پھران سب نے مل کر کھانا کھایا کافی عرصے کے بعد وقاص اپنے ابو کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے ابو کو اپنی خواب گاہ کے ساتھ والے کمرے میں لے آیا ان کے برتن پھینک دیے۔

Read This:  افسانہ پیار کے دو مہینے

آئندہ جب وہ سب کھانا کھانے بیٹھتے وقاص ایک لقمہ اپنے ابو کے منہ میں رکھتا تو دوسرا لقمہ اپنے منہ میں ڈالتا پھروجہ جب تک زندہ رہے وقاص ان کی دل و جان سے خدمت کرتا رہا اور ان کے حقوق ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہ کی۔ اس داستان کا مثبت پہلو یہ کہ جس ادارے میں وہ ملازمت کرتا تھا وہاں بہت عرصے سے وقاص کی ترقی رکی ہوئی تھی اب جو اس نے والد کی خدمت کی تو بیٹے کی قسمت بھی جاگ اٹھی اور وہ جلد ہی اس ادارے کے اعلیٰ عہدے پر جا پہنچا۔ اسے ہر طرح سے خوش حالی حاصل ہو گئی۔ اب اسے یقین ہو گیا تھا کہ پہلے اس سے اس کا باپ ناراض تھا اسی وجہ سے وہ انتہائی محنت کرنے کے باوجود ناکام رہا باپ راضی ہوا تو اللہ نے خوش ہو کر اسے کامیاب انسان بنا دیا۔

وہ اپنے چھوٹے بیٹے کا شکر گزار تھا کہ اس نے اسے اس کا بھولا ہوا فرض یاد دلا دیاتھا۔ ورنہ جو آج اپنے باپ کے ساتھ کر رہا تھا ویسا ہی کل اس کے ساتھ ہو سکتا تھا۔

Share

Add comment