Buzcorner
right way » blog » باز گشت

باز گشت

باز گشت ایک بدصورت مرد کی دل چھو لینے والی کہانی جس کی زندگی میں خوشی کبھی کبھی بہار بن کر آتی تھی۔

باز گشت: شریف بائیس برس پردیس میں رہنے کے بعد اپنے گھر لوٹ آیا۔ جب وہ اپنے علاقے سے گیاتھا تو اس کی آنکھوں میں چمک تھی دانت مظبوط تھے اور پیشانی پر سیاہ بال گرتے تھے۔ مگر اب اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی تھی دانت ہل رہے تھے اور سر کے بال گر چکے تھے۔ پٹواری گردآور قانون گو وغیرہ مختلف عہدوں پر کام کرنے کے بعد وہ اپنے علاقہ کا افسر مال مقرر ہوا تھا۔ یہی وہی علاقہ تھا جہاں وہ پیدا ہوا اور صرف بچپن کے دن گزار سکا۔ ابھی وہ بارہ برس کا ہی تھا کہ باپ نے اسے تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیج دیا ۔ پڑھائی مکمل ہوتے ہی اسے ملازمت مل گئی ۔ تب سے وہ مختلف علاقوں میں خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزار رہا تھا۔ اتفاق یا شاید ذاتی کوششوں کی وجہ سے اس کا تبادلہ اس کے اپنے علاقہ میں ہوا تھا۔ یوں اسے ایک بار پھر اپنے آبائی گھر میں رہنے کا موقع مل گیا ۔ زندگی کے تلخ تجربوں نے اسے ہر شے سے بے زار کر دیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ وہ دفتر میں اپنے باقی دوستوں سے پیچھے رہ گیا تھا۔ اس کا باپ اس کے لیے اتنا ورثہ چھوڑ کر مرا تھا کہ وہ کوئی کام بغیر ساری زندگی آرام سے گزارسکتا تھا۔ یہی وجہ سے تھی کہ بیزاری اور اکتاہٹ کے باوجود ملازمت سے سبکدوش نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اس کی چھوٹی بہن جو پچھلی ملاقات میں اس قدر جوان اور ہشاش بشاش نظر آتی تھی شادی کرکے کئی بچے پیدا کر چکی تھی۔ دفتر میں وہ سارا دن سگریٹ پیتا رہتا اور نہایت بے دلی سے سرکاری کاغذوں پر دستخط کرتا۔ اکثر لاروس کی مصور لغات کھول کر اس کی تصویریں دیکھتا رہتا۔ دفتر کے دوسرے لوگ شام کو شہر کے کلب میں جمع ہوتے تھے۔ اور رات عیش و عشرت اور قمار بازی میں گزار دیتے لیکن شریف ان سے میل جول نہ رکھتا تھا۔ ایک روز شریف اپنے دفتر میں اپنی میز پر بیٹھا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک نوجوان اندر داخل ہوا ۔ یہ نوجوان دفتر کے عملے میں مقرر ہو کر آیا تھا۔ شریف کے سامنے ایک اکیس برس کا نوجوان کھڑا تھا جس کا نام مجید تھا۔ اس نے نوجوان کو بتایا کہ تمہارے والد کے ساتھ کام کرتا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

Share

1 comment