Buzcorner
right way » blog » بات ہوتی ہے احساس کی

بات ہوتی ہے احساس کی

بات احساس کی: شمع نے اپنے گندے برتن سنک میں ڈالے اور جا کر ٹی وی دیکھنے لگی۔

کچھ دیر بعد انعم بھی بریانی کی پلیٹ اور جس لیے آکر ٹی وی دیکھنے لگی۔ ڈرامہ ختیم ہونے کے بعد وہ کچن میں گئی۔ ابھی گندے برتن رکھ کے کچن سے نکل ہی رہی تھی کہ عالیہ بیگم کی نظر سنک پر پڑی۔

گیارہ بجے کام ولی برتن دھو کر گئی ہیں ابھی بارہ بھی نہیں بجے اور سنگ گندے برتنوں سے بھر گیا دن میں دو دفعہ ماسی برتن دھوتی ہے پھر بھی گندے برتنوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔ شمع انعم تمہیں ذرا بھی احساس نہیں کسی اورکا۔ صفائی بھی ماسی جو کر جائے وہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد تم دونوں میں سے کوئی صفائی کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ ہلکی پھلکی ڈسٹنگ تو خود کر لیا کرو۔ پر نہیں ہر کام ماسی کرے گی ۔ عالیہ بیگم دونوں پر خوب غصہ ہوئیں۔

بات احساس کی

امی ہم ماسی کو پیسے دیتے ہیں کوئی مفت کام نہیں کرواتے۔ شمع پیسے دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کا احساس نہ کریں۔ ویسے بھی جب ہم اضافی پیسے نہیں دیتے تو اضافی کام بھی نہیں کروانے چاہیے۔ امی ہم گھر کے باقی کام خود کرتے ہیں صرف دو کام ماسی سے کرواتے ہیں اور آپ جانتی ہیں کہ وہ کام بھی خود کریں۔ تم دونوں کی زبان بہت چلتی ہے میں یہ نہیں کہہ رہی کہ ماسی کا کام خود کرو لیکن جان بوجھ کر کام بڑھانا زیادہ برتن گندے کرنا کہ ماسی خود دھوئے گی یہ غلط ہے۔ اگر کسی دن تمہیں یہ خود سب کرنا پڑے تو احساس ہوگا۔

عالیہ بیگم نے انہیں سمجھانا چاہا مگر دونوں سجھنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ احساس ہمارے دل میں خود ہوتا ہے یہ کسی دوسرے کے کہنے سے نہیں پیدا ہوتا۔ شمع انعم میں حیدرآباد جا رہی ہوں باجی کی ساس عمرہ کر کے آئی ہے کل شام تک آ جاؤں گی۔ گھر کا خیال رکھنا اور اپنا بھی۔ اپنے ابو کو وقت پہ کھانا دینا ۔ یہ نا ہو کہ دونوں ٹی وی کے آگے ہی بیٹھی رہو اور ہاں اپنی سہیلیوں کی طرف نہ نکل جانا۔ وہاں جا کے تو تم دونوں گھر آنا ہی بھول جاتی ہو۔ ڈھیروں نصیحیتوں کے بعد عالیہ بیگم رخصت ہوئی۔

بات احساس کی

شمع مجھے امی کے بغیر گھر بہت سونا لگ رہا ہے ہاں میں بھی اداس ہوں امی کے بغیر۔

چلو چاکلیٹ کیک بناتے ہیں انعم خوشی سے بولی ۔ تمہیں آتا ہے کیک بنانا ؟ نہیں آتا مگر میرے پاس ریسپی ہے چلو نا ٹرائی کرتے ہیں۔

دونوں نے کیک بنایا مگر وہ سخت بنا۔ مغرب ہونے والی ہے۔ روز تو ماسی عصر کے وقت برتن دھونے آجائی تھی ۔ شمع فکر مندی سے بولی۔ ابھی نہ سہی صبح تو آئے گی۔ اتنے ساری برتن دھوئے گی تو عقل ٹھکانے آجائے گی۔ آخر چھٹی کرنے کی سزا بھی تو ملنی چاہیے انعم بے فکری سے بولی۔

اگلے دن ماسی کا انتظار کرنے کرتے بارہ بج گئے مگر ماسی نہ آئی۔ سارا کام پڑا ہے پتا نہیں ماسی کہاں مر گئی۔ انعم غصے سے بولی۔ دفع کرو آجائے گی دوسرے گھر کام کرتی ہے وہیں دیر ہو گئی ہو گی اور گھر میں کون سا امی ہیں۔جو ہم سے کام کروائیں گی۔ چھوڑو کام کو دوپہر میں پاستا بناتے ہیں ۔ فریج میں کباب رکھے ہیں وہ بھی فرائی کر لیں گے۔ کل چاکلیٹ کیک بنانے میں اتنے برتن گندے ہوئے آج ماسی نہیں آئی اور تم دوبارہ برتن گندے کرنے جارہی ہو۔ دو چیزیں بنا کر۔

کچھ نہیں ہوتا چلو میرے ساتھ۔ شمع انعم کا ہاتھ کھینچ کر کچن میں لے گئی۔ دونوں نے پاستا اور کباب انجوائے کیے۔ اور دوپہر کو لمبی تان کر سو گئیں۔ شام کے پانچ بجے دونوں کی آنکھ کھلی دونوں نے آرام سے چائے پی اوررسالہ پڑھنے لگیں۔ امی کوفون کیا انہوں نے کہا میں راستے میں ہوں آدھے گھنٹے میں پہنچ جاؤں گی۔ اب تو دونوں بہنوں کے ہوش اڑ گئے سوا چھ بج رہے تھے امی پہنچنے والی تھیں سارے گھر کی صفائی میلے برتنوں کا ڈھیر۔ روزمرہ کے برتنوں کے علاوہ نیا ڈنر سیٹ بھی استعمال کیا تھا۔ دونوں بہت پریشان ہوئیں۔

آج جب دونوں کے سر پہ اتنا کام پڑا تو دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ کیسے دونوں غیر ضروری برتن گندے کر کے ماسی کا کام بڑھاتی تھیں۔ دونوں بہت شرمندہ ہوئیں اور انہوں نے سچے دل سے اللہ سے معافی مانگی۔

Share

Add comment