Buzcorner
right way » blog » اندھیری رات کا کرب

اندھیری رات کا کرب

اندھیری رات کا کرب : شہزادی اپنے نام کی طرح ہی پیاری تھی۔ زیادہ خوبصورت تو نہیں تھی لیکن پرکشش تھی۔ وہ اپنے گھر میں سب بہن بھائیوں سے بڑی تھی۔ اس کے بعد اس کی بہن شازیہ اور بھائی فرخ تھا۔ تین بھائی والد اور والدہ پر مشتمل چھوٹا سا گھرانہ تھا۔ کنول نے جب گریجویشن کیا تو رزلٹ میں اے گریڈ پا کر بہت خوش ہوئی۔

اب وہ فارغ تھی فراغت کی بناء پر اپنے بابا جانی سے اپنی خالہ کے گھر سوات میں جانے کی اجازت چاہی کہ تھوڑی آؤٹنگ ہو جائے گی۔ بابا جانی سے اجازت ملتے ہیں شہزادی نے پیکنگ شروع کر دی اور بھائی سے کہا کہ مجھے سوات خالہ کے گھر چھوڑ آؤ۔ بھائی بھی تیار ہو گیا اور دونوں روانہ ہو گئے۔ سوات جانے کے بعد فرخ نے اسے خالہ کے گھر چھوڑا اور واپس آگیا۔

شہزادی کو خالہ کے گھر آئے چار دن ہونے کو آئے تھے لیکن وہ کہیں گھومنے نہیں جا سکی تھی۔ آج اس نے خود اپنی کزن نبیلہ کے ساتھ سیر و تفریح کا پروگرام بنایا اور دونوں گھومنے نکل گئیں۔ ابھی وہ وادی کے حسن کا نظارہ کر رہی تھیں کہ اسے سامنے سے ایک خوبصورت لڑکا اپنی طرف دیکھتے ہوئے دکھائی دیا اسے عجیب سا دلفریب احساس ہوا۔ شہزادی بیس سال کی نا پختہ ذہن کی لڑکی تھی جسے خوابوں کی دنیا میں رہنا اچھا لگتا تھا اسی لیے جب ایک خوبصورت لڑکے کو اپنی جانب متوجہ پایا تو خوش ہو گئی۔

اندھیری رات کا کرب

یونہی گھومتے ہوئے جب شام کے سائے پھیلنے لگے تو وہ دونوں گھرکی طرف چل دیں ۔ راستے میں شہزادی نے محسوس کیا کہ وہی خوبصورت نوجوان اس کا پیچھا کر رہا ہے اور کچھ کہنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ اس نے نبیلہ کو آئس کریم لانے کوکہا اورخود وہیں کھڑی ہو گئی۔ نوجوان نے موقع غنیمت جانااور اسے ایک پرچی تھما دی۔ شہزادی بھی دل ہی دل میں کہیں اس کی آرزو کر بیٹھی تھی اسی لیے وہ پرچی لے لی۔ اتنے میں نبیلہ آئس کریم لے کر آ گئی اور دونوں گھر کو روانہ ہو گئیں۔ گھر پہنچ کر وہ تھکن کا بہانہ کر کے کمرے میں چلی گئی اور دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔ اس لڑکے نے اپنا نام عامر لکھا تھا اور نیچے اس کا فون نمبر لکھا تھا کہ اگر آپ مجھے فون کریں گی تو میں اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا کہ اتنی حسین لڑکی نے مجھے بات کرنے کے قابل سمجھا۔

اندھیری رات کا کرب

وہ اتنے خوبرو اور خوبصورت نوجوان کو اپنی طرف متوجہ پا کر بے حد خوش ہوئی۔ خیر جیسے تیسے کر کے شہزادی نے دو دن نکالے اور تیسرے دن ان نوجوان کو فون کر دیا۔ خط کا ذکر کرتے ہوئے اپنا نام بھی بتا دیا اور کہا کہ آپ نے مجھے فون کرنے کے لیے کیوں کہا تھا۔ عامر نے اس کی خوب تعریفیں کیں جنہیں سن کر شہزادی اپنے آپ کو اڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔ پھر اسی طرح باتوں کا سلسلہ چل نکلا اور روز وہ دونوں آپس میں گھنٹوں فون پر باتیں کرتے۔ وہ پہلے تو گھر سے ہی فون کرتی تھی لیکن پھر گھر والوں کے ڈر سے باہر کال آفس سے بات کرنے لگی۔ روز روز کی باتیں رنگ لائیں اور دونوں میں ملاقاتیں بھی ہونے لگیں۔ شہزادی تو جیسے عامر کی دیوانی ہو گئی تھی۔ عامر نے اس کے سامنے اپنا ایک خاص امیج بنائے رکھا تھا۔ وہ اس سے ہر بات بڑے احترام سے کرتا دونوں میں ایک دوری بنائے رکھتا اور گھر والوں کی عزت کرنے کو کہتا غرض یہ کہ اس کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ شہزادی اس کی سیرت کی بھی پرستار ہو گئی۔

اندھیری رات کا کرب

گھر والوں نے نوٹ کیا کہ شہزادی بہت زیادہ گھر سے باہر رہتی ہے اور کچھ بتاتی بھی نہیں۔ مگر یہ قربت اور تعلق چھپنے والا نہ تھا۔ جب خالہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنی بہن یعنی شہزادی کی ماں کو فون کیا اورکہا کہ فرخ کوبھیجو آ کر بہن کو لے جائے اور ساری صورت حال بتا دی۔ فرخ دو دن کے اندر اندر ہی شہزادی کو لینے آگیا اور کہا چلو گھر چلنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ شہزادی گھبرا گئی اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا بہانہ کرے کہ کم ازکم عامر کو تو اپنے جانے کی اطلاع کر دے بہرحال اسے بہانہ سوجھ گیا وہ بولی یہاں میری بہت سہیلیاں بن گئی ہیں میں صرف اپنی سہیلی جو قریب میں ہی رہتی ہے اسے خدا حافظ کہہ دوں اور ملاقات کر لوں پھر چلتے ہیں۔ اس طرح وہ بہانہ کر کے عامر کےپاس پہنچ گئی اور اسے کہا۔

میرا بھائی آیا ہے مجھے آج ہی جا نا ہے میرا ایڈریس لے لو اور کراچی میں اس جگہ پر جلد ہی مجھ سے ملنا۔ شہزادی شام تک اپنے بھائی فرخ کے ساتھ واپس گھر آگئی۔ گھر والے بہت خوش ہوئے کہ تم تو وہیں کی ہو کر رہ گئی تھی۔ گھومنے گئی تو دو ماہ واپس آئی ہو وہ بھی بھائی لینے گیا تو آئی ہو۔ تمھیں ہماری یاد نہیں آنی تھی باج اس کی چھوٹی بہن نے مسکرا کر کہا۔ ہوں نہیں ۔ بس ذرا وہاں کی آب و ہوا اچھی تھی سو دل لگ گیا۔ گھر والوں نے اس سے اور کوئی بات نہ پوچھی۔ یونہی پندرہ دن گزر گئے وہ بے تابی سے عامر کا انتظار کر رہی تھی۔ پندرہ دن بعد اچانک ایک بچہ گھر آیا اور ایک خط اس کے ہاتھ میں تھما گیا۔ کھول کر پڑھا تو وہ عامر کا تھا اس نے لکھا تھا کہ وہ کراچی آگیا ہے۔ اور اس نے شہزادی کو ملاقات کرنے کو کہا تھا۔ شہزادی اسی شام بہانہ کر کے اس سے ملنے جا پہنچی۔ عامر نے اسے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو ایک دون میں شہزادی کے گھر رشتے کی بات کرنے کے لیے بھیجے گا۔ یہ سن کر شہزادی بہت خوش ہوئی ۔ وعدے کے مطابق عامر نے دو دن بعد ایک عورت کو ان کے گھر رشتے کے لیے بھیجا اس عورت نے اپنے آپ کو عامر کی ماں ظاہر کروایا۔

میں عامر کی والدہ ہوں اور آپ کی بیٹی شہزادی کے رشتے کی بات کرنے آئی ہوں۔ چونکہ میرا بیٹا اور آپ کی بیٹی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مستقبل کے لیے کوئی مثبت فیصلہ کر نا ہوگا۔ شہزادی کی والدہ اور والد نے یہ کہہ کر رشتے سے انکار کر دیا کہ ہم نے اس کا رشتہ کہیں اور طے کر دیا ہے۔ وہ ہماری بیٹی ہے ہماری بات نہیں ٹالے گی۔ وہ عورت چلی گئی۔ شہزادی کی امی نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ عامر کو پسند کرتی ہے ؟ تو اس نے اقرار کیا اور کہا کہ میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ آپ نے انکار کر کے اچھا نہیں کیا۔ اس کی امی نے کہا کہ ہم تمہارا رشتہ تمہارے ماموں زاد سے کر چکے ہیں۔ لیکن وہ نہ مانی اور اسے چپ لگ گئی۔ اس کی امی نے سوچا کچھ دنوں بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ شہزادی کی چپ ایسی تھی جیسے طوفان کی آمد سے پہلے کی ہوتی ہے اوروہی ہوا۔ اس کے دماغ میں بغاوت نے جنم لیا اور وہ عامر کےساتھ مل کر گھر سے بھاگنے کا منصوبہ بنانے لگی۔ پھر وہ گھڑی آ پہنچی کہ جب وہ اپنے خاندان کی عزت و ناموس کی دیوار پھلانگ گئی۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ عامر جو گھر والوں کی عزت رکھنے کو کہتا تھا وہ اس بات پر کیسے راضی ہو گیا۔ وہ تو دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔ گھر والوں کے نام ایک خط چھوڑ گئی جس میں اس نے بھاگنے کی وجہ لکھی تھی۔

ایک دن تو عامر کے ساتھ سفر میں گزر گیا وہ پتہ نہیں اسے کہاں لے کر جا رہا تھا۔ وہ دونوں ایک منزل پر چل تو رہے تھے لیکن سچائی صرف ایک ہی کی نیت تھی۔ عامر اسے لے کر ایک کچی بستی میں آیا اور کہا کہ تمھارے گھر والوں سے چھپنے کی یہی جگہ محفوظ ہے۔ ایک دن یونہی گزر گیا شہزادی چپ چاپ بیٹھی اپنے گھر والوں کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں ان کے گھر والوں پر کیا گزر رہی ہو گی۔ وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ آخر عامر اس سے نکاح کب کرے گا۔ اس نے عامر سے پوچھ ہی لیا کہ نکاح کب کرینگے؟ عامر نے اسے ٹال دیا کہ نکاح بھی ہو جائے گا اتنی جلدی کیا ہے پھر باتوں کے جال میں الجھا کر اسے بے آبرو کر دیا لیکن ساتھ ہی یہ یقین بھی دلا یا کہ شادی بھی جلد کر لیں گے۔ اسی طرح ایک ہفتہ اور بیت گیا ایک ہفتہ کے بعد عامر کچھ لوگوں کے ساتھ آیا اور کہاک چلو اب میں نے ماں کو راضی کر لیا ہے کہ وہ ہمیں قبول کر لیں اور شادی کروا دیں۔ شہزادی بہت خوش ہوئی اور اس کے ساتھ چلی گئی۔ عامر اسے ایک بے حد عالیشان عمارت میں لے جاتا ہے وہ اندر داخل ہوتے ہیں سامنے وہی عورت بیٹھی ہوتی ہے جو اس کے گھر عامر کی ماں بن کر آتی ہے۔ جس انداز میں وہ بیٹھی ہوتی ہے اور جو حلیہ اس کا تھا وہ شریفوں والانہیں لگ رہا تھا۔ اندر پہنچتے ہی عامر کا رویہ تبدیل ہو جا تا ہے۔ وہ دھکیل کر شہزادی کو اس عورت کے قدموں میں پھینک دیتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اس کا اب جو کرنا ہے کرو۔

بے وقوف سمجھتی تھی میں اس سے محبت کرتا ہوں اور شادی کر لوں گا۔ جس نے ماں باپ کی عزت نہ رکھی میری کیا رکھے گی اور پھر میرا تو کام ہی یہ ہے کہ لڑکیوں کو بازار میں لا کر نیلام کروں۔ شہزادی یہ سن کر بے ہوش ہو جاتی ہے اور جب ہوش میں آتی ہے تو اسے طرح طرح کی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ بالاآخر قسمت سے سمجھوتا کر کے ناچ گانے کو تیار ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک سال سے زیادہ گزر جاتا ہے۔ شہزادی ایک زندہ لاش کی مانند ہو جاتی ہے۔ وہ اکثر سوچتی کہ کاش ماں کی بات مان لیتی اور گھر سے نہ بھاگتی تو یہ حال نہ ہوتا۔ ادھر اس کے ماں باپ لوگوں کے طعنوں سے تنگ آ کر وہ گھر ہی چھوڑدیتے ہیں۔ اس دوران شہزادی ایک بچی کو جنم دیتی ہے وہ اپنی بچی کو اس جہنم سے نکالنا چاہتی تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس عذاب سے بچ جائے۔ آخر بڑی کوششوں سے اپنے ماں باپ کا پتہ لگوا لیتی ہے اور ایک خط کے ساتھ بچی کو چھپتے چھپاتے ان کے پاس بجھوا دیتی ہے خط میں لکھتی ہے کہ امی ابو جب تک آپ کو یہ خط اور بچی ملیں گے میں اس دنیا سے جا چکی ہوں گی میں نے خط میں سارے حالات لکھ دیے ہیں۔ میں درخواست کرتی ہوں کہ میری بچی کو ان درندوں کے چنگل سے بچا لیں۔

گھر سے بھاگنے والوں کے حصے میں صرف تباہی آتی ہے کیوں کہ جو ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں کرتے خدا بھی ان کا خیا ل نہیں کرتا۔

Share

Add comment