Buzcorner
right way » blog » افسانہ پیار کے دو مہینے

افسانہ پیار کے دو مہینے

پیار کے دو مہینے: ہر صبح کی طرح اس صبح بھی جب سیمی بیدار ہوئی تو وہ اٹھ کر سیدھا غسل خانے میں چلی گئی۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد اس نے نماز پڑھی اور پھر باورچی خانے چلی گئی۔ وہاں اس کی ساس کچن کے کاموں میں مصروف تھی اور اس نے ان کا ہاتھ بٹا نا شروع کر دیا۔ اسی دوران اس کے فون پر بل بجنا شروع ہو گئی تو وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اس کا فون ایک میز پر پڑا ہوا تھا۔ شاہد کی کال تھی۔ شاہد سیمی کا شوہر تھا۔ وہ پچھلے دو سالوں سے امارات میں تھا۔ وہ اس مرتبہ جب چھٹیوں پر آیا تھا تو انہوں نے شادی کر لی تھی۔ دو مہینوں کے اندر اس کی چھٹیاں ختم ہوگئیں تو پھر امارات چلا گیا۔

پیار کے دو مہینے

ان دو مہینوں میں سیمی اور شاہد کے درمیان کافی اچھی انڈر سٹینڈنگ ہوئی۔ وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ وہ ایک دوسرے کے لیے دیوانے بن چکے تھے اور اسی دیوانے پن میں وہ ایک دوسرے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ لیکن کیا کیا جاتا جب کہ جدائی ان دونوں کے نصیب میں تھی۔ کیوں کہ شاہد ایک مرد تھا اور مرد کا کام ہوتا ہے کمانا۔ جب اسے اپنے ملک میں کمائی کا کوئی ذریعہ نہ ملے تو مجبوری میں اسے اپنے وطن سے دور کہیں دوسرے ملک جانا پڑتا ہے اوروں کی طرح وہ بھی اپنے وطن سے دور کمانے کے لیے چلا گیا۔

ہیلو سیمی کیسی ہو؟

الحمداللہ آللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں کیسے ہیں؟

میں ٹھیک ٹھاک اور خیریت سے ہوں امی جان کیسی ہیں ؟

امی جان بہت اچھی ہیں اور وہ اس وقت کچن میں ہیں۔

اچھا ٹھیک ہے جان ایک بات بتاؤں َ؟

ہاں بتاؤ کیا بات ہے

نہیں تو ایسے تو نہیں بتاؤں گا۔

اچھا پھر کیسے بتائیں گے

ویسے ہی جب تم مجھے ایک پیاری سی کس دو گی۔

اچھا جناب کو کس کے لیے بہانہ چاہیے

نہیں تو

تو پھر

سچ میں کوئی بات ہے اگر میں تمہیں بتا دوں تو خوشی کے مارے تم پاگل ہو جاؤ گی۔ شاہد میری جان بتاؤ نا کیا بات ہے َ؟ دیکھو اگر تم مجھے بتاؤ گے تو سننے کے بعد میں تمہاری خواہش پوری کردوں گی۔ وعدہ ؟

پکا وعدہ

سیمی بات یہ کہ آج شام میری فلائٹ ہے اور میں وطن واپس آرہا ہوں۔ سچ مزاق کر رہے ہو نا؟

نہیں تو میں مزاق نہیں کر رہا میں آج شام کو آرہا ہوں ۔

کل تک تو تم نے نہیں بتایا تھامگر آج کیسے آنے کی بات کر رہے ہو سب ٹھیک تو ہے نا؟

پیار کے دو مہینے

سب کچھ ٹھیک ہے ویسے تو میں ایک ہفتے سے آنے کی تیاری کر رہا تھا۔ کل تو میں نے ساری شاپنگ بھی مکمل کر لی ہے۔ تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں میں تم سے ناراض ہوں۔ نہیں میری جان میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کہ تمہیں سرپرائز دوں گا بتاؤ پھر کیسا لگا میرا سرپرائز؟

تو پھر ٹھیک ہے آپ آجائیں میں بھی آپ کو ایک سرپرائز دوں گی۔

کیسا سرپرائز ؟

اگر میں ابھی بتا دوں تو سرپرائز کیسے رہے گا۔

اچھا اللہ حافظ میں اب فون رکھتا ہوں ۔ او کے اللہ حافظ

جب سیمی نے فون پر بات ختم کی تو دوڑتی ہوئی اپنی ساس کے پاس چلی گئی اور اس کو شاہد کے آنے کی خبر سنائی ۔ جب شاہد کی ماں نے یہ خبر سنی تو وہ بہت خوش ہوئیں ۔ شاہد کی ماں بانو ایک بہت ہی خوش مزاج عورت تھی۔ وہ اپنے محلے میں سب کے دلوں پر راج کرتی تھی اور سب اس کی بہت عزت کرتے تھے۔ شاہد ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ان کی دو اور بیٹیاں تھی جو شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں۔ شاہد اور اس کی بہنوں کا بچپن بہت اچھا گزرا تھا۔ ان کے والد سرکاری ملازم تھے انہوں نے بچوں کی پرورش بہت اچھی کی اور ان کو علم کی دولت سےبھی مالا مال کیا۔ مگر ان کے انتقال کے بعد شاہد نے اپنی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا کچھ سال اس نے یہاں وہاں محنت مزدوری کی اس کے لیے یہ کوئی شرم کی بات نہ تھی کیوں کہ اس کے علاقے میں ماسٹرز کرنے والے طالب علم نوکری کے لیے یہاں وہاں پھرتے تھے۔ جب ان کو نوکری نہیں ملتی پھر تو وہ بے روز گار رہتے یا محنت مزدوری کرتے مگر شاہد آخر تنگ آگیا تو امارات چلا گیا اور وہاں ایک کمپنی میں ملازمت کر لی۔

پیار کے دو مہینے

رہی سیمی تو اس کی خوبصورتی کی تعریف کرتے کرتے سال بیت جاتے مگر لوگ اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اس کی بالوں کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔ اس کے کالے بال جب وہ اسے کھلا چھوڑ دیتی تو جیسے رات کی تاریکی اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں جب وہ کسی کو دیکھتی تو سمجھ لو کہ اس کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔اس کی بادامی رنگت اس کے ماتھے اور گال کی بات ہی نرالی تھی۔ سیمی کے والد ایک نامی گرامی پروفیسر تھے اور اس کی ماں ایک ڈاکٹر تھی۔ سیمی چار بھائیوں کی ایک ہی بہن تھی۔ سب اسے دل و جان سے پیار کرتے تھے۔ شاہد اورسیمی کے باپ آپس میں بھائی تھے اسی لیے ان دونوں کی شادی کر دی گئی۔ اور ان لوگوں کے درمیان رشتہ مظبوط ہو گیا وہ سب ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ اس شام شاہد کی فلائٹ تھی وہ شام کو شارجہ ائیر پورٹ سے سوار ہوا اور رات کو وہ جناح ائیر پورٹ کراچی پہنچ گیا۔ وہ ویسے تو ناصر آباد کا رہنے والا تھا جو تربت شہر سے کوئی 45 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع تھا۔ اس وقت تو رات تھی تو وہ اپنے علاقے میں نہیں جا سکتا تھا اور رات اسے کراچی میں ہی گزارنا پڑی۔ اگلی صبح وہ بس کے ذریعے شام تک اپنے گھر پہنچ سکتا تھا۔ جب وہ ائیر پورٹ سے باہر آگیا تو اس نے ایک ٹیکسی بک کی اور ڈرائیور کو ایک ہوٹل کا پتہ بھی بتایا۔ وہ ٹیکسی میں سوار ہوا تو کچھ دور جانے کے بعد ٹیکسی ڈرائیور نے فون پر کچھ بات کی اور ایک جگہ کا پتہ بھی بتایا۔

تھوڑا بہت دورجانے کے بعد اس نے ٹیکسی ایک ویران جگہ پر روک لی۔ وہان زیادہ رش بھی نہیں تھا۔ ڈرائیور نے تھوڑا بہت انتظار کیا جب شاہد نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کا انتظار کر رہا ہے وہ کچھ چیزیں ان کے حوالے کرے گا کیوں کہ اسے واپس آنے میں دیر ہو جائے گی۔ ایک لمبے انتظار کے بعد دو مظبوط آدمی ظاہر ہوئے ان کو دیکھنے کے بعد ٹیکسی ڈرائیور ٹیکسی سے باہر چلا گیا۔ اس نے ان دونوں آدمیوں سے کچھ بات کی پھر وہ دونوں آدمی ٹیکسی کی طرف آگئے انہوں نے شاہد جو کہ آگے بیٹھا ہوا تھا اس کو اترنے کو کہا تو وہ کچھ کہے بغیر ٹیکسی سے اتر گیا ان میں سے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا اور اس نے اپنا پستول شاہد کے ماتھے پر رکھ دیا اسے اپنا اسب کچھ ان کے حوالے کرنے کو کہا۔ شاہد نے سب کچھ ان کے حوالے کردیا۔ اس کی جیب میں کچھ پاکستانی پیسے اور کچھ درہم تھے۔ اس کی گھڑی موبائل جس کی سم نکال کر توڑ دی گئی اور اس کا سارا سامان اپنے ساتھ لے گئے۔ ان سب چیزوں سے ان کا دل نہیں بھرا تو کسی ایک نے کہا کہ سالے کا منہ بھی بند کر دینا چاہیے۔ ان تینوں نے مل کر اس کو خوب مارا اس کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا اور وہ بے ہوش ہو گیا ۔

پیار کے دو مہینے

شاہد ساری رات بے ہوش پڑا رہا۔ اگلی صبح کسی عورت نے اسے وہاں پڑا دیکھ کر چلانا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں بہت سارے لوگ وہاں جمع ہو گئے۔ وہ اسے ایک گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے گئے وہ ابھی بھی بے ہوش تھا۔ کچھ دیر بعد پولیس بھی ہسپتال پہنچ گئی۔ پولیس نے اس عورت سے سوالات پوچھے اور عورت نے جواب دیے۔ دو بجے کے قریب شاہد کو ہوش آیا پولیس اندر چلی گئی۔ شاہد سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ لیکن شاہد نے بتانے سے گریز کیا اور صرف سیمی کا نمبر دیا اور سے فون کرنے کو کہا۔ جب سیمی کو فون کر کے بتا یا گیا کہ شاہد کراچی کے ایک ہسپتال میں ہے تو اس کی جان ہی نکل گئی وہ چلائی اس کے چلانے کی آواز اس کی ساس نے سنی تو وہ دوڑتی ہوئی سیمی کے پاس آ گئی۔ وہ رو رہی تھی امی نے پوچھا کیوں رو رہی ہو ؟ سب کچھ ٹھیک تو ہے نا ؟ ابھی بھی کسی نے فون کر کے بتایا ہے کہ وہ پولیس والے ہیں اور شاہد کی طبعیت بہت خراب ہے کراچی میں ایک ہسپتال میں ہے اور ہمیں فوری کراچی آنا چاہیے۔ شاہد کی ماں نے بھی رونا شروع کر دیا سیمی نے پاگلوں کی طرح ادھر ادھر اپنا موبائل تلاش کرنا شروع کردیا لیکن اسے نہ ملا پھر تلاش کرتے کرتے اسے موبائل مل ہی گیا۔ وہ اپنے والد کو کال کرنا چاہتی تھی مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور اسے نمبر نہیں مل رہا تھا۔ آخر اس کو نمبر ملا اس نےاپنے باپ کو سب کچھ بتا دیا۔

تھوڑی دیر بعد اس کا باپ ان کے پاس پہنچ گیا۔ پھر سیمی اس کی ساس اور باپ اسی وقت اپنی ذاتی گاڑی میں کراچی کے لیے نکل گئے اس وقت شام کے 4 بج چکے تھے۔ وہ تقریبا رات کے 4 بجے کراچی پہنچ گئے اور جب وہ ہسپتال پہنچے تو ساڑھے چار بج چکے تھے وہ دوڑتے ہوئے ہسپتال کے اندر آگئے انہوں نے شاہد کا کمرہ معلوم کیا اور اس کے پاس گئے مگر ڈاکٹر نے ملنے کی اجازت نہ دی اور بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے اور ابھی ان سے کوئی بھی نہیں مل سکتا۔ وہ رات ان لوگوں کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔ ان لوگوں نے باہر انتظار کیا جب صبح ہوئی پھر دس بجے ان کو شاہد سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ وہ سب شاہد کے پاس گئے وہ بہت زخمی تھا اس کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ آخر شام کو وہ زخموں کی تا نہ لا سکا اور اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ مرتے وقت اس کا دائیاں ہاتھ سیمی نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔ یہ سب منظر دیکھ کر سیمی تو جیسے بت بنی ہوئی تھی۔ اس کی ماں کی حالت بھی بہت خراب تھی ان سب کی دنیا اجڑ چکی تھی۔ جب شاہد کی لاش کو ایمبولینس میں رکھا جا رہا تھا تو شاہد کی ماں زور زور سے رو رہی تھی اور سیمی کا باپ اسے دلاسہ دے رہا تھا مگر اس وقت اسے کسی بات کی پرواہ نہ تھی۔

سیمی تو ابھی بھی سن تھی پھر وہ اور بانو ایمبولینس میں لاش کے پاس بیٹھ گئیں اور سیمی کا باپ آگے بیٹھ گیا۔ پھر ایمبولینس کراچی سے تربت کی طرف روانہ ہوئی۔ سارے راستے شاہد کی ماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے رہے سیمی ابھی بھی خاموش تھی اگلی صبح ایمبولینس شاہد کے علاقے میں پہنچی اور شام کو شاہد کو دفن کر دیا گیا اس کے بعد سیمی اپنی حواسوں میں آگئی تو اسے سب کچھ یاد آگیا اس نے اپنی منہ کھول دیا اور اس نے پاگلوں جیسا رویہ اختیار کر لیا وہ کسی سے بھی نہ سنبھل سکی۔

وقت جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے سیمی اور اس کے خاندان کی زندگی بھی گزر رہی تھی مگر شاہد کے بچھڑنے کا غم ہر پل ان سب کو رلاتا ہے۔ بہت افسوس ہوتا ہے کتنے بے رحم ہوتے ہیں وہ لوگ جو چند پیسوں کے لیے ہنستے بستے گھروں کو اجاڑ دیتے ہیں۔

Share

Add comment