Buzcorner
right way » blog » آخری سٹاپ (پر پہنچنے والی لڑکی کی داستان)

آخری سٹاپ (پر پہنچنے والی لڑکی کی داستان)

وہ بس میں بیٹھ تو گئی مگر دل میں انجانا سو خوف تھا آخری سٹاپ پر پہنچنے والی لڑکی کی داستان

شدید گرمی اس پر ٹریفک کا رش آدھا گھنٹہ ہو گیا تھا اسے بس کے انتظار میں کھڑے کھڑے۔ آج لائبریری میں کافی دیر لگ گئی پیپرزعنقریب ہونے والے تھے لہذا وہ وہاں بیٹھ کر کچھ دیر پڑھ لیا کرتی تھی۔ شاید کوئی ایکسیڈنٹ ہو گیا مدد کرنے والے کم اور تماشہ دیکھنے والے زیادہ تھے وہ تھوڑا ہٹ کر کھڑی ہو گئی مطلوبہ بس عن اس جگہ آکے رکی جہاں وہ کھڑی تھی غالبا کنڈیکٹر بھی اتر کر اکیسیڈنٹ کا تماشہ دیکھنے چلا گیا تھا وہ جلدی سے موقع غنیمت جان کر بس میں سوار ہو گئی سیٹ سنبھال کر اس نے محسوس کیا کہ بس تو پوری خالی ہے۔ عجیب عجیب خیالات زہن میں آنے لگے اس نے اترنے کا سوچا مگر بس چل پڑی تھی بس کی اسپیڈ خاصی کم تھی کنڈیکٹر اور ڈرائیور کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ بس خراب ہے اسی لیے سواریاں نہیں اٹھا رہی تھی اس کے ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا لہذا کنڈیکٹر نے اسے اگنور کر دیا یہاں تک کہ ٹکٹ بھی نہیں لیا ابھی وہ سگنل پہ پہنچے تھے کہ سگنل بند ہو گیااور تیزی سے بس کے مردانہ حصے میں کچھ لوگ چڑھ گئے۔

آخری سٹاپ کہانی

وہ تھوڑی خوف زدہ ہو گئی غیر محسوس طریقے سے وہ دروزے کے نزدیک سیٹ پہ آگئی۔ بس میں مردوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اس کا خوف بجا تھا باس کچھوے کی رفتار سے چل رہی تھی اس نے اگلے سٹاپ پہ اترنے کا سوچا اگے ٹریف کی وجہ سے بس مزید سست روی سے چلنے لگی بس میں فردوس مامی سوار ہو گئیں رافعہ ان کو دیکھ کر چونک گئی۔ فردوس مامی بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا انہوں نے بھی چونک کر دیکھ رافعہ تم انہوں نے حیرت سے پوچھا۔ رافعہ اب کسی حد تک مطمئن ہو چکی تھی فردوس مامی سے اس کی بہت دوستی تھی اس نے یونہی پلٹ کر دیکھا مردوں میں اسے کافی شناسا صورتیں نظر آئیں مشتاق چاچو نے تو ہاتھ بھی ہلایا جواب میں اس نے بھی ہاتھ ہلایا۔

Read This:  ہماری مسجد کا امام چور ہے

پھر کسی رش میں بس رکی تو کچھ خواتین اور مرد بس میں چڑھ گئے بس والے تو شاید یہ سوچ لیا تھا کہ جتنے چڑھ جائیں اگر اسی رفتار سے جانا انہیں منظور ہے تو کیا فرق پڑتا ہے اس نے کسی سے نہ ٹکٹ کے پیسے مانگے یہ انہیں بس میں سوار ہونے سے منع کیا۔ رافعہ کے لیے حیرت کی بات یہ تھی کی آج بس کے مسافر کسی نہ کسی مناسبت سے اس کے جاننے والے تھے۔ پڑوسی نیاز صاحب کی بہو سمیرا اپنے تومولود بچے کےساتھ تھی تو مردانہ حصے میں ابو کے دوست حافظ صاحب بھی تھے تعجب کی بات یہ تھی کہ کوئی شخص نہیں اترا لگتا تھا سب آخری سٹاپ کے مسافر ہیں۔ چلتے چلتے اچانک بس بند ہوگئی مسافروں میں بے چینی شروع ہو گئی۔ ڈرائیور کے کہنے پہ کنڈیکٹر نے اتر کر دھکا لگایا مگر بے سود ۔ دھان پان سا کنڈیکٹر بس کو ہلا بھی نہیں سکا ۔ اب مسافروں نے اتر کر کنڈیکٹر کے ساتھ دھکا لگایا اور بس سٹارٹ ہو گئی سفر دوبارہ شروع ہوا۔

اس نے وقت گزارنے کے لیے فردوس مامی سے بات کرنی چاہی لیکن مامی اسے خالی خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی ہاں کہیں ان کی نگاہوں میں دکھ اور افسوس ضرور تھارافعہ نے بھی کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا ۔ آخر کار بس کا آخری سٹاپ آگیا شام ڈھل وہی تھی اس نے اپنا بیگ اٹھانا چاہا مگر وہ وہاں تھا ہی کب اوہو لائبریری میں رہ گیا شاید اگلے ہی لمحے وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی کہ وہاں سے کوئی چیز کہیں نہیں جاتی دوسرے دن کاؤنٹر سے مل جاتی ہے۔ فردوس مامی ہمارے گھر چلیں اس نے بڑی اپنائیت سے کہا۔ آؤنگی بہت جلد انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا اور ایک جانب چل دیں اندھیرا آہستہ آہستہ دن کی روشنی کو کھا رہا تھا وہ تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف چلدی۔ گھر کا دروازہ کھلا ہو تھا اور ٹی وی کی آواز گھر میں گونچ رہی تھی دروازہ بند کر کے وہ گھر میں داخل ہوئی امی یقننا کچن میں ہوں گی شانی لیپ ٹاپ میں اتنا مصروف تھات کہ اس نے اس کی آمد کو محسوس ہی نہیں کیا۔

Read This:  اتنا پیار دو جتنا لینے والے کا حوصلہ ہے

اس نے خاموشی سے جا کر اپنے روم کا دروازہ کھولا اور بستر پر لیٹ گئی۔ آج کا بس کا سفر اس کو الجھاگیا تھا اس نے آنکھیں بند کر کے کچھ آرام کرنا چاہا یونیفارم بدلنے تک کی ہمت نہ تھی۔ امی آپی کا دروازہ پھر بند ہو گیا شافعہ کو شاید کوئی کام تھااس کے روم میں تو اس کے پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہوگیا رافعہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اوہو پھر لاک والے کو بلوانا پڑے گا امی کی پریشانی بجا گھی اکثر کمرا لاک ہو جاتا پھرلاک والے کو بلوایا جاتا تھا۔ ایک تو یہ لڑکی جانے کہاں رہ گئی آج تو بہت ہی دیر کردی ابی بابا پوچھیں گے تو کیا بتاؤنگی اسے ماں پر پیار آنے لگا فون بھی نہیں اٹھا رہی شافعہ کی آواز میں تشویش تھی۔

اس نے چاہا کہ اٹھ کر باہر جائے تا کہ سب مطمئن ہو جائیں لیکن نیند اور تھکن سے اس کا برا حال تھا۔ کچھ دیربعد غیر معمولی خاموشی محسوس کر کے وہ باہر آئی۔ ایک افراتفری کا عالم تھا کچن میں چولہا چل رہا تھاشانی کا لیپ ٹاپ آن تھا ٹی وی کی آواز بھی گونج رہی تھی۔ اس نےچولہا بند کیا ٹی وی آف کر کے لیپ ٹاپ آف کیا اور صوفے پربیٹھ کر صورتحال پہ غور کرنے لگی اتنے میں کوئی کمرے میں داخل ہوا۔ فردوس مامی اس نے چونک کر پوچھا ہاں تمہیں لینے آئی ہوں ان کا لہجہ سرد تھا۔ کہاں جانا ہے اس نے ان کے بے تاثر چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

Read This:  تجربہ کار شخص سے چالاکی اکثر مہنگی پڑ جاتی ہے

جواب ملا آخری سٹاپ

انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور وہ ایک معمول کی طرح ان کے ساتھ چل دی جانے کب اس کے قدم ہواؤں پہ چلنے لگے اس نے نیچے دیکھاتو اس کا مردہ بدن ایمبولینس میں منتقل کیا جارہا تھا اور اس کے پیارے اس کے تڑپ رہے تھے۔ ذرا اور اوپر جا کر مامی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور وہ دونوں ہوا میں تحلیل ہو گئے۔

Share

1 comment